ناصر جمشید کے رابطے کی اطلاع تاخیر سے دینے پر محمد نواز ایک ماہ کے لیے معطل

محمد نواز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد نواز آئندہ چھ ماہ کے دوران پی سی بی کے انسدادِ رشوت ستانی کے پروگرام کا حصہ بھی بنیں گے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر نوجوان کرکٹر محمد نواز کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔

پی سی بی نے ان پر دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے اور بورڈ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

اینٹی کرپشن کوڈ کی ’خلاف ورزی‘ پر محمد نواز کو نوٹس جاری

سپاٹ فکسنگ سکینڈل: ناصر جمشید پر بھی فردِ جرم عائد

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کے مطابق محمد نواز پر یہ مختصر پابندی سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے سلسلے میں زیرِ تحقیقات کرکٹ ناصر جمشید کے ان سے رابطے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو بروقت مطلع نہ کرنے پر عائد کی گئی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان ناصر جمشید کو سپاٹ فکسنگ سکینڈل کا ایک اہم کردار قرار دے چکے ہیں۔

بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے تفضل رضوی نے کہا کہ محمد نواز سے کسی بک میکر نے رابطہ نہیں کیا تھا بلکہ ان سے رابطہ کرنے والے کرکٹر ناصرجمشید تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں چار کرکٹرز ناصر جمشید۔، شرجیل خان، خالد لطیف اور شاہ زیب حسن کے خلاف تحقیقاتی عمل جاری ہے

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے محمد نواز سے رابطے کرنے والے شخص کا نام سامنے آیا ہے۔

تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ محمد نواز کو کم سزا دی گئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ محمد نواز نے ناصر جمشید کے کیے گئے رابطے کو چھپایا نہیں بلکہ اس کی اطلاع تاخیر سے بورڈ کو دی۔

پی سی بی کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمد نواز پر دو ماہ کی پابندی لگائی گئی ہے اور اگر وہ پابندی کے پہلے ماہ میں پی سی بی کے کوڈ کی کسی خلاف ورزی کے مرتکب نہ پائے گئے اور ماضی میں ان کی کوئی اور خلاف ورزی سامنے نہ آئی تو ان کی سزا میں سے ایک ماہ کی سزا معطل ہو جائے گی۔

تاہم اگر ایسا کچھ ہوا تو پی سی بی ان کے خلاف الگ سے تحقیقات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

پی سی بی کا کہنا ہے محمد نواز آئندہ چھ ماہ کے دوران پی سی بی کے انسدادِ رشوت ستانی کے پروگرام کا حصہ بھی بنیں گے

بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندی کے دوران محمد نواز کا سینٹرل کانٹریکٹ بھی معطل رہے گا اور انھیں کوئی نیا کانٹریکٹ بھی نہیں دیا جا سکے گا۔

خیال رہے کہ محمد نواز کو پی سی بی نے کرکٹ سے کرپشن کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات کے سلسلے میں محمد نواز کو آٹھ مئی کو پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 4.3 کے تحت نوٹس آف ڈیمانڈ بھیجا تھا۔

اس کے بعد 12 مئی کو انھیں اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 2.4.4 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے نوٹس آف چارج دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان ناصر جمشید کو سپاٹ فکسنگ سکینڈل کا ایک اہم کردار قرار دے چکے ہیں

اس نوٹس کے مطابق محمد نواز ایک مرتبہ مشکوک فرد یا افراد کی جانب سے ان سے رابطے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے متعلقہ شعبے کو تاخیر سے مطلع کرنے کے قصوروار پائے گئے۔

پی سی بی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 15 مئی کو محمد نواز نے پی سی بی سے رابطہ کیا اور تحریری بیان میں خود پر عائد الزام کو قبول کرتے ہوئے معاملے کو تفصیل سے بیان کیا۔

23 سالہ محمد نواز تین ٹیسٹ، نو ون ڈے اور پانچ ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں اور وہ پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے کھیلے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ ان دنوں سپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی تحقیقات میں مصروف ہے جس میں فاسٹ بولر محمد عرفان کو چھ ماہ کے لیے معطل کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر چار کرکٹرز ناصر جمشید۔، شرجیل خان، خالد لطیف اور شاہ زیب حسن کے خلاف تحقیقاتی عمل جاری ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں