پاکستان میں ریسلنگ کے مقابلوں کے پہلے مرحلے کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پروفیشنل پہلوانوں میں ڈبلیو ڈبلیو ای کے سابق بین البراعظمی چیمپئنز کالیٹو اور ویڈ بیرٹ قابل ذکر ہیں

پاکستان میں ریسلنگ کے ہونے والے مقابلوں میں شرکت کے لیے تقریباً 20 غیرملکی پروفیشنل پہلوان پہلی بار آئے ہیں اور اس سلسلے کا پہلا مرحلہ بدھ کی شب کراچی میں منعقد ہوا۔

دوسرا مرحلہ 19 مئی کو لاہور میں جبکہ تیسرا اور آخری مقابلہ مرحلہ 21 مئی کو اسلام آباد میں ہوگا۔

پاکستان میں ان پروفیشنل پہلوانوں کے مقابلوں کا اہتمام پرو ریسلنگ انٹرٹینمنٹ گروپ نے کیا ہے۔

پاکستان آنے والے پروفیشنل پہلوانوں میں ڈبلیو ڈبلیو ای کے سابق بین البراعظمی چیمپیئنز کالیٹو اور ویڈ بیرٹ قابل ذکر ہیں۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق ویڈ بیرٹ کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان آکر بہت خوشی ہوئی ہے اور انہیں یقین ہے کہ پاکستانی شائقین پہلوانی کے ان مقابلوں سےبہت لطف اندوز ہوں گے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
عالمی پیشہ ور پہلوانوں کی پاکستان آمد

ویڈ بیرٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے سن رکھا ہے کہ پاکستان میں ریسلنگ کو بہت شوق سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستانی شائقین کے لیے دنیا کے بہترین پہلوانوں کو اپنے سامنے دیکھنا ایک اچھا تجربہ ہوگا۔

کارلیٹو بھی پہلی بار پاکستان آنے پر بہت خوش ہیں۔ کارلیٹو نے دو ہزار چار میں امریکی چیمپئن شپ کے اپنے پہلے ہی مقابلے میں جان سینا کو شکست دی تھی۔

ان مقابلوں میں پاکستان کے واحد پہلوان بادشاہ خان حصہ لے رہے ہیں۔

بادشاہ خان کا کہنا ہے کہ غیرملکی پروفیشنل پہلوانوں کی پاکستان آمد سے دنیا بھر کو یہ مثبت پیغام دیا جاسکے گا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے۔

اسی بارے میں