’انسدادِ رشوت ستانی پروگرام کا کچھ خاص اثر نہیں ہوتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد آصف، سلمان بٹ اور محمد عامر کا سپاٹ فکسنگ کا واقعہ پاکستانی کرکٹ کے لیے بڑا دھچکا تھا

پاکستانی کرکٹ اور کرپشن کے الزامات کا تعلق کوئی نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی الزامات، سزائیں اور پھر نئے الزامات وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں۔

سلیم ملک، عطا الرحمٰن، دانش کنیریا، محمد آصف، سلمان بٹ اور محمد عامر ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو نہ صرف کرپشن کے مرتکب پائے گئے بلکہ انہیں سزائیں بھی ہوئی۔

گو کہ محمد آصف، سلمان بٹ اور محمد عامر کا سپاٹ فکسنگ کا واقعہ پاکستانی کرکٹ کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا جس کے بعد نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی لگامیں کس لیں بلکہ دنیا کی نظریں پاکستانی کھلاڑیوں پر گڑی رہیں، مگر بات یہاں رکی نہیں۔

پاکستانی قوم جس وقت ملک میں کرکٹ کی واپسی اور پاکستان سپر لیگ کے دوسری مرتبہ انعقاد کا جشن منا رہی تھی اسی وقت پھر سے چند پاکستانی کھلاڑی میچ فکسنگ کے الزامات کا داغ لیے وطن لوٹ آئے۔

* پاکستان میں میچ فکسنگ تحقیقات کی تاریخ

اسی سلسلے کی تازہ کڑی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر نوجوان کرکٹر محمد نواز کو نہ صرف دو ماہ کے لیے معطل کیا بلکہ انھیں جرمانہ بھی کیا۔

محمد نواز اب معطلی اور جرمانے کے علاوہ آئندہ چھ ماہ کے دوران پی سی بی کے انسدادِ رشوت ستانی کے پروگرام کا حصہ بھی بنیں گے۔

اس پروگرام کے تحت نہ صرف انھیں اصول و ضوابط دوبارہ یاد کروائے جائیں گے بلکہ ان کی زبانی دوسروں کو انہی اصولوں کی ترغیب بھی دلوائی جائے گی۔

اس عرصے میں وہ مقامی کرکٹ ٹیموں اور اداروں میں نوجوان کھلاڑیوں کو بتائیں گے کہ کرپشن کتنی بری چیز ہے اور اس سے کیسے اور کیوں بچا جائے۔

ان سے پہلے یہ کام محمد آصف، سلمان بٹ اور محمد عامر بھی کر چکے ہیں۔ یہ آئی سی سی کے قواعد کا حصہ ہے جسے پی سی بی نے بھی اپنایا ہے۔

یہ ری ہیبلیٹیشن پروگرام کتنے سود مند ہیں اس بارے میں کرکٹ کے بیشتر ماہرین کی ایک متفقہ رائے تو یہ ہے کہ یہ سب بالخصوص پاکستان کے لیے بے معنی ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر عارف عباسی کا کہنا ہے کہ اب دوبارہ سے اصول یاد کروانے کا کوئی مطلب نہیں ہے کیونکہ ’یہ پروفیشنل کھلاڑی تھے، انھیں تمام اصول و ضوابط پہلے سے پتا تھے اور لا علمی جرم کے لیے کوئی جواز نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نوجوان کرکٹر محمد نواز کو نہ صرف ایک ماہ کے لیے معطل کیا بلکہ انہیں جرمانہ بھی کیا

’ایک سزا یافتہ مجرم کے کہنے سے زیادہ اثر تو صاف ریکارڈ والے کا ہوتا ہے۔‘

عارف عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ’سزائیں کڑی ہونی چاہئیں، ایسی مثالیں قائم کی جانی چاہیئں کہ دوسرا ایسا کرنے کی ہمت ہی نہ کرے۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود کا کہنا تھا کہ انسدادِ رشوت ستانی پروگرام کا کچھ خاص اثر نہیں ہوتا کیونکہ لوگ جانتے ہیں کہ ’سوچ سمجھ کر خرابی کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بعد پھر سے کھیل میں آگئے ہیں۔‘

تاہم انھوں نے کھلاڑیوں کے کرپشن کی طرف راغب ہونے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا: ’پاکستان میں باصلاحیت کھلاڑی جب اوپر آجاتے ہیں تو اپنے سے سینیئر کھلاڑیوں کو دیکھ کر انہیں بھی راتوں رات امیر بننے کی خواہش ہو جاتی ہے۔‘

’انھیں یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ کرکٹ میں آ جانے سے بہت جلد ان کے پاس پیسے کی ریل پیل ہو جائے گی۔‘

خالد محمود کے بقول ’پاکستان میں کھلاڑیوں کے معاوضے باقی ممالک کے نسبت کافی کم ہیں اور پاکستان میں کرکٹ بورڈ کا کرپشن کے لیے رویہ بھی سنجیدہ نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پی سی بی کو صرف میچ جیتنے سے غرض ہے چاہے وہ محمد عامر کو ٹیم میں شامل کرکے ملے یا سلمان بٹ کو، لیکن اس سے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو اس قسم کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ کرپشن دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ’کھلاڑیوں کے معاوضے بڑھائے جائیں، کڑی سے کڑی سزائیں دی جائیں اور نہ صرف کھلاڑی بلکہ انھیں بدعنوانی کی طرف راغب کرنے والے عناصر پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پی ایس ایل کے دوران پھر سے ایک بار پاکستانی کھلاڑی میچ فکسنگ کے الزامات کا داغ لیے وطن لوٹ آئے

سینیئر سپورٹس رپورٹر رضوان احسان علی کا کہنا ہے کہ ’ہمارے لوگ رو دھو کر شرمندگی کا اظہار کرنے سے متاثر نہیں ہوتے اور اس قسم کے لیکچر اور کورسز سے کچھ نہیں ہو گا۔‘

'صاف بات ہے کہ جب دو گیندوں پر 35 لاکھ یا بڑی رقم نظر آئے گی تو تمام لیکچر اور کورسز دھرے رہ جائیں گے۔'

انھوں نے کہا کہ کرکٹ میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

رضوان احسان علی کے مطابق 'ہم سب سنتے ہیں کہ سپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹر کو معطل کر دیا گیا یا کوئی اور سزا دی گئی، لیکن کیا کسی نے یہ بتایا کہ سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر نے رقم کتنی لی؟ کیا اب بھی پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ بتایا کہ پاکستان سپر لیگ میں کتنی رقم کی پیشکش کی گئی۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'یہ رقم اتنی بڑی ہوتی ہے کہ کوئی لیکچر ویکچر کام نہیں آتا۔'

اسی بارے میں