یونس کو نہ کوئی حسرت نہ ملال

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
یونس خان کا کہنا ہے کہ ہر کسی کو جانا ہوتا ہے

آپ ٹیسٹ کرکٹ سے کیوں ریٹائر ہو رہے ہیں؟ یونس خان کے لیے یہ 'کیوں' بہت خوش کن، حوصلہ افزا اور مثبت لفظ ہے۔ اگر کیوں کی جگہ 'کب' ہوتا تو یہ ان کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا۔

ویسٹ انڈیز میں اپنے ٹیسٹ کریئر کی آخری کامیاب سیریز کھیلنے کے بعد لندن پہنچنے پر لارڈز کرکٹ گروانڈ پر بی بی سی اردو سروس سے بڑے بے تکلفانہ اور دوستانہ انداز میں انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے ان قیاس آرائیوں کو رد کر دیا کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں۔

’مصباح اور یونس کا خلا آسانی سے پر نہیں ہوگا‘

مصباح اور یونس ستارے نہیں، استعارے تھے

'ہر کسی کو جانا ہوتا ہے' یونس خان نے ہنستے ہنستے اس تلخ حقیقت کا اعتراف کیا لیکن ان کے لہجے میں ایک کامیاب اور مطمئن کھلاڑی کا اعتماد جھلک رہا تھا۔ ایک ایسے کامیاب کھلاڑی کا اعتماد جس کے 17 برس کے طویل کریئر میں کوئی حسرت باقی نہیں رہی۔

جو ریکارڈ ٹیسٹ کرکٹ میں یونس خان نے حاصل کیے وہ ان سے پہلے پاکستان کی کرکٹ میں آنے والے بڑے بڑے کھلاڑیوں کے حصے میں نہیں آئے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز بنانے والے وہ پہلے پاکستانی بلے باز ہیں اور اب یہ اعزاز ان سے کوئی نہیں لے سکتا۔

یونس خان نے کہا کہ یہ ان کے لیے بہت اعزاز کی بات ہے کہ لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ ابھی تھوڑی کرکٹ اور کھیلیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے لیے بہت مشکل ہوتا اگر لوگ یہ کہتے کہ یونس خان کب ریٹائر ہو رہے ہیں۔

یونس خان نے کہا کہ تیرہ چودہ سال پہلے جب وسیم اکرم، عامر سہیل، سیعد انور، وقار یونس جیسے عہد ساز کھلاڑی ریٹائر ہو رہے تھے تو انھیں بھی یہ فکر لاحق رہتی تھی کہ اب 'ہم کیا کریں گے'۔

پاکستان کی موجودہ کرکٹ ٹیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے بابر اعظم، اظہر علی، اسد شفیق اور سرفراز کے نام لیے اور کہا کہ یہ بڑے باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور مستقبل میں ٹیم کے لیے بڑے کارنامے سر انجام دیں گے۔

Image caption یونس خان لوگوں کے اصرار پر خوش ہیں

اس حوالے سے انھوں نے پاکستان کے ٹی ٹوئنی اور ایک روزہ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا ذکر خصوصی طور پر کیا اور کہا کہ ان سے لوگوں کی بہت سے امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کے بقول سرفراز 'گیم چینجر' ہیں اور اگر وہ ٹیم اور اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھیں تو وہ بہت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم میں شامل بولروں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے حسن علی، محمد عباس اور شاداب کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ بہت باصلاحیت ہیں اور بالنگ کا بوجھ بہ خوبی اٹھا سکتے ہیں۔

کرکٹ کی دنیا میں اہم سنگ میل عبور کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کے لیے بھی یونس خان نے اپنے لیے بڑے بڑے اہداف مقرر کیے ہیں۔ 'میں نے سوچا ہے کہ صرف کمنٹری نہ کروں، صرف کوچنگ نہ کروں بلکہ وہ کام کروں جس سے ملک کو فائدہ ہو پوری دنیا کو فائدہ ہو، انسانیت کو فائدہ ہو۔'

پاکستان کرکٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے یونس خان نے کہا کہ ان کے مشاہدے میں چند ایک ایسے فیصلے آئے ہیں جن کو شخصی فائدہ ذہن میں رکھ کر کیا گیا۔ ان کی تفصیل میں جائے بغیر اور کسی بھی تلخ اور اختلافی بات سے اجتناب کرتے ہوئے یونس خان نے کہا کہ فیصلے ہمیشہ سوچ سمجھ کر کیے جانے چاہیئں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے فیصلے کیے جانے چاہیئں جن کا اجتماعی فائدہ ہو۔

Image caption یونس خان پاکستان کی موجودہ ٹیم سے پرامید ہیں

پاکستان کرکٹ کو لاحق ہونے والی 'سپاٹ فکسنگ اور میچ فکسنگ' کی مہلک بیماری کے بارے میں ان کا کہنا تھا 'پاکستان میں ایک نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے، ایک ایسا نظام جو کھلاڑیوں کا صرف حال محفوظ بنانے کی ضمانت نہ دیتا ہو بلکہ ان کا مستقبل بھی مالی طور پر محفوظ بنائے۔'

لندن میں اگلے ماہ ہونے والی آئی سی سی چیمپئن ٹرافی میں پاکستان ٹیم کی متوقع کارکردگی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ٹیم میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ کواٹر فائنل تک جائے۔ 'کوارٹر فائنل کے بعد ٹیم کی کامیابی کا انحصار بہت حد تک قسمت پر ہو گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں