سپاٹ فکسنگ سکینڈل: ’خالد لطیف ُبکی سے ملے اور شرجیل کو بھی ملوایا‘

خالد لطیف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹر خالد لطیف نہ صرف خود مبینہ طور پر بک میکر سے ملے بلکہ انھوں نے ساتھی کرکٹر شرجیل خان کی بھی ان سے ملاقات کرائی۔

تفضل حیدر رضوی نے پیر کو ٹریبونل کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹریبونل نے خالد لطیف کے وڈیو انٹرویوز تفصیل سے دیکھے ہیں جن میں خالد لطیف نے مبینہ طور پر بک میکر سے ملنے کا اعتراف کیا ہے۔

'خالد لطیف کے خلاف اتنے ثبوت ہیں کہ بچنا مشکل ہے'

سپاٹ فکسنگ سکینڈل: خالد لطیف کی ٹریبونل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد

سپاٹ فکسنگ کا فیصلہ آنے تک کھیلنے کی اجازت دی جائے: شاہزیب حسن

واضح رہے کہ خالد لطیف اور ان کے وکیل نے ٹریبونل کی کارروائی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کے سامنے پیش کیے گئے وڈیو انٹرویوز میں خالد لطیف یہ اعتراف کرتے ہیں کہ انھیں معلوم تھا کہ وہ پہلے بھی (آٹھ فروری کی رات) ایک بکی سے ملے اور پھر نو فروری کو وہ شرجیل خان کو اسی بکی سے ملوانے لے گئے حالانکہ انھیں آٹھ فروری کو ہی بکی کی جانب سے پیشکش ہوگئی تھی لیکن انھوں نے اس بارے میں بورڈ کومطلع نہیں کیا بلکہ دوسرے کرکٹر کو بھی اس بکی سے ملوایا۔

تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کے سامنے سبز، نارنجی اور سفید رنگوں کی گرپس بھی پیش کی گئیں جو مبینہ طور پر خالد لطیف کےبیٹ پر چڑھی ہوئی تھیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر نے خالد لطیف کے وکیل کی جانب سے ٹریبونل کے بائیکاٹ کے بارے میں کہا 'ٹریبونل کی ابتدائی سماعت کے دوران ہی اعتراضات پیش کردیے جاتے ہیں لیکن 14 مارچ کو ابتدائی سماعت میں خالد لطیف نے اپنا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کردیا جب کہ 21 مارچ کو ان کے وکیل کی جانب سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔انھوں نے 14 اپریل کو جو اعتراض کیا وہ مسترد کردیا گیا جس کے بعد وہ ٹریبونل کے سامنے آئے اور پھر 19 مئی کو بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر کا کہنا ہے کہ خالد لطیف کے وکیل ٹریبونل کی کارروائی میں پیش ہوتے ہیں یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ٹریبونل ان کی غیرموجودگی میں بھی فیصلہ سنا سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان سپر لیگ سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی تحقیقات میں شامل کرکٹر شاہ زیب حسن نے اپنا 78 صفحات پر مشتمل جواب پیر کو داخل کردیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں