ایورسٹ سر کرنے والے پاکستانی کوہ پیما کرنل (ریٹائرڈ) عبدالجبار کی طبعیت ناساز

کرنل (ریٹائرڈ) عبدالجبار تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ سر کرنے والے پاکستان کے کوہ پیما کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار بھٹی کی طبیعت واپسی کے راستے میں آکسیجن ختم ہو جانے کی وجہ سے خراب ہو گئی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں اُنھیں پیر کی صبح 'کیمپ فور' تک لے کر آئی ہیں۔

پاکستان میں کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب آف پاکستان کے ترجمان کرار حیدری نے بی بی سی کو بتایا 'عبدالجبار بھٹی کو سلیپنگ بیگوں میں لپیٹ کر ریسکیو ٹیمیں نیچے لا رہی ہیں اور اُمید ہے کہ کل (منگل) تک وہ کیمپ ٹو یا بیس کیمپ تک پہنچ جائیں گے۔'

کرنل (ر) عبدالجبار ایورسٹ سر کرنے والے چوتھے پاکستانی بن گئے

ایورسٹ ڈائری: بیس کیمپ سے تین دن دور

اگرچہ پاکستان میں عبد الجبار بھٹی کے ایورسٹ سر کرنے کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں لیکن الپائن کلب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایورسٹ سر کرنے کے بعد واپسی کے سفر کے دوران کیمپ فور کے راستے میں عبدالجبار بھٹی اور اُن کے شیرپا گائیڈ کی آکسیجن ختم ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اُن کو رات آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر ہی گزارنی پڑی۔

ساٹھ برس کی عمر میں دنیا کے بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر قدم رکھنے والے پاکستانی کوہ پیما کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار بھٹی کی ساری زندگی مہم جوئی میں گزری ہے۔

کوہ پیمائی کی اصطلاح میں انھیں 'ایٹ تھاؤزینڈر' یعنی آٹھ ہزار فٹ بلند چوٹی سر کرنے والا کہا جاتا ہے۔ ان کے ساتھی اور فوج میں ان کے سینئیر لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ منظور حسین نے بتایا کہ عبدالجبار بھٹی کی ذاتی زندگی کی مہمات اِس سے کہیں زیادہ کھٹن رہیں۔

انھوں نے بتایا' بھٹی کی زندگی میں خاصے حادثات ہوئے،کئی مہمات آئیں لیکن وہ ہمیشہ بچتے رہے۔ ایک بار وہ اپنے گھر والوں کے ہمراہ کشتی میں سوار تھے جو ڈوب گئی، وہ خود بھی خاصی حد تک ڈوب گئے تھے لیکن انھوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کو بچا لیا۔'

لیفٹینٹٹ کرنل ریٹائرڈ منظور حسین نے بتایا کہ عبدالجبار بھٹی پیرا گلائڈر بھی ہیں اور ایک بار ان کا گلائیڈر فیل ہوگیا اور انھیں حادثہ پیش آیا جس میں ان کی پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں لیکن وہ اس سے بھی بچ نکلے اِس لیے ہم یہ امید کر رہے ہیں کہ وہ 'اِس' حادثے سے بھی بچ جائیں گے۔

پاکستان میں تمغۂ بسالت اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی کے حامل کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار بھٹی دراصل ڈاکٹر ہیں اور فوج میں سپیشل سروسز گروپ میں بطور کمانڈو خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار پاکستان کے چوتھے کوہ پیما ہیں جنھوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ ان سے قبل نذیر صابر، حسن سدپارہ اور ثمینہ بیگ نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

اس سے قبل کرنل عبدالجبار نے پاکستان میں سنہ 1985 میں براڈ پیک اور 1986 میں گیشربروم ٹو نامی چوٹیاں سر کی تھیں۔ ان دونوں چوٹیوں کی اونچائی آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں