سپین: ٹیکس چوری کے مقدمے میں لیونل میسی کی سزا برقرار

messi, spain, court تصویر کے کاپی رائٹ Alex Caparros
Image caption لیونل میسی اور ان کے والد کو ٹیکس چوری کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے

یورپی ملک سپین کی سپریم کورٹ نے مشہور فٹبالر لیونل میسی کو سنائی جانے والی قید کی سزا برقرار رکھی ہے جو انھیں ٹیکس چوری کے مقدمے میں دی گئی تھی۔

ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے میسی سپین کے مشہور کلب بارسلونا کے لیے کھیلتے ہیں۔

میسی اور ان کے والد ہورہے کو ٹیکس کی چوری کے الزام میں گذشتہ برس 21 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اُن پر الزام تھا کہ انہوں نے ٹیکس کی مد میں 46 لاکھ ڈالر کی دھوکہ دہی کی۔ میسی کے والد ان کے مالی معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔

سپین کے قانون کے مطابق جیل کی سزا اگر دو برس سے کم ہو تو یہ عرصہ قید میں رہنے کے بجائے زیرِ نگرانی گزارا جا سکتا ہے۔

اب یہ مقدمہ بارسلونا کی اس عدالت میں واپس چلا جائے گا جہاں پہلے یہ سزا سنائی گئی تھی۔

لیونل میسی پانچ مرتبہ سال کے بہترین فٹبالر کا ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ مقدمے کے دوران انہوں نے ٹیکس چوری کے الزام سے بار بار انکار کیا اور کہا کہ وہ صرف فٹبال کے بارے میں سوچتے ہیں۔

میسی اور ان کے والد کو دھوکہ دہی کے تین الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2007 سے 2009 کے درمیان ٹیکس بچانے کے لیے وسطی امریکہ کے ملک بولیز اور لاطینی امریکہ کے ملک یوراگوئے میں ٹیکس پناہ گاہوں کا استعمال کیا۔

عدالت نے ان پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے تھے۔

میسی اور ان کے والد پر فرضی کمپنیاں بنانے کا الزام بھی ثابت ہوا جو انہوں نے ٹیکس بچانے کے لیے قائم کی تھیں۔

میسی کے والد ہورہے میسی کی سزا کم کر کے 21 سے 15 مہینے کر دی گئی تھی کیونکہ انہوں نے واجب الادا ٹیکس میں سے کچھ حصہ حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

اسی بارے میں