رپورٹر کا زبردستی بوسہ لینے پر ٹینس کھلاڑی پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Euro Sport
Image caption رپورٹر مالے تھامس کو گردن سے پکڑ کر بوسہ دینے کی کوشش کی

فرینچ اوپن کی انتظامیہ نے ٹینس کے کھلاڑی میکزیم ہمو کو خواتین صحافی کا بوسہ لینے کی کوشش کرنے پر ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ٹینس کے کھلاڑی میکزیم ہمو کو ایک خواتین صحافی کا بوسہ لینے کی کوشش کرنے کے بعد تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 21 سالہ ہمو نے فرنچ اوپن کے دوران ایک لائیو انٹرویو کے دوران رپورٹر مالے تھومس کو گردن سے پکڑ کر بوسہ دینے کی کوشش کی۔

خاتون رپورٹر کو دعوت دینے پر کرس گیل کو جرمانہ

رپورٹر نے ان سے بچنے اور دور ہٹنے کی کوشش کی۔

میکزیم ہمو کا یہ انٹرویو اس وقت لیا جارہا تھا جب وہ پہلے راؤنڈ میں اپنا میچ ہارنے کے بعد فرنچ اوپن سے باہر ہوگئے۔

ہمو نے ابھی تک ان کے رویے کے خلاف آنے والی شکایات کا عوامی سطح پر جواب نہیں دیا۔ یہ واقعہ پیر کے روز پیش آیا اور اسے یورو سپورٹ چینل کے پروگرام پر براہ راہست دیکھا گیا۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے افسوس اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

فرانسیسی سیاست دان سیسل ڈفلت نے ٹوئٹر پر لکھا 'اس نے ذبردستی اسے کِس کیا۔ اس نے بچنے کی کوشش کی لیکن اس نے اسے گلے سے پکڑا اور اس پر سب ہنسنا شروع ہوگئے۔ اگر میں لائیو ہوتی تو میں اسے مکا مارتی۔'

خواتین رپورٹر کو ہراساں کرنے کے الزامات کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی کرس گیل پر ایک براہ راست انٹرویو کے دوران ٹی وی رپورٹر کو ڈیٹ پر چلنے کے لیے کہنے پر 10 ہزار آسٹریلوی ڈالر کا جرمانہ کیا گیا تھا۔

یہ جرمانہ ان کے 'ناروا سلوک' کے لیے عائد کیا گیا ۔ کرس گیل صحافی میل میک لاکلنگ کے ساتھ ہوبارٹ میں جاری بگ بیش لیگ کے ایک ميچ کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔

ویسٹ انڈیز ٹیم کے سابق ٹیسٹ کپتان کرس گیل کا موقف تھا کہ ہ جب انھوں نے خاتون نامہ نگار کو ٹیلی ویژن کی براہ راست نشریات کے دوران ڈرنکس کے لیے کہا تھا تو اس وقت وہ 'مذاق' کررہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں