وراٹ کوہلی کی کوچ انیل کمبلے سے’ناراضی‘ حقیقت ہے یا فسانہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کپتان وراٹ کوہلی اور کوچ انیل کمبلے کے درمیان اختلافات کی خبریں ہیں

'کیپٹن وراٹ کوہلی اپنی ٹیم کے کوچ انیل کمبلے سے ناخوش ہیں۔'

چیمپیئنز ٹرافی کے آغاز سے چند دن پہلے اخبارات کی یہ سرخیاں بھارتی کرکٹ ٹیم کے لیے خطرے کی گھنٹی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔

یہ سرخیاں مداحوں کے لیے تکلیف دہ ہیں۔

وراٹ کوہلی کی ’آسٹریلین کھلاڑیوں سے دوستی ختم‘

’پاکستان کے پاس چیمپیئنز ٹرافی میں ہارنے کو کچھ نہیں‘

ایسا لگ رہا تھا کہ انڈین کرکٹ اپنے عروج پر ہے۔ ٹیم انڈیا نے مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، سیريز جیتی ہیں۔

کوئی ایسا اشارہ تک نہیں تھا کہ کوچ اور کپتان کے درمیان کسی طرح کا کوئی مسئلہ ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو یہ افسوس ناک ہے اور اگر غلط ہے تو ایسی افواہیں نہیں ہونی چاہییں۔

اس سلسلے میں بی سی سی آئی، اس کی انتظامیہ کمیٹی اور مشیر کمیٹی کو ایک فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

جو بھی ہو اور جس حد تک ممکن ہو، آپس میں بات کر کے معاملے کو حل کر لینا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Time of India

انیل کمبلے سختی سے کام لینے والے کوچ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات باہر سے کہنا مشکل ہے۔ یہ کہنا کہ کمبلے ’ہارڈ ٹاسک ماسٹر‘ ہیں، اور اس وجہ سے کچھ کھلاڑی ان سے خوش نہیں ہیں، میں نہیں مانتا۔

مجھے لگتا ہے کہ اگر کچھ ایسا ہے تو اس کی کچھ اور وجہ ہو سکتی ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ میڈیا میں اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اگر کچھ ہے بھی تو کوہلی، کمبلے، بی سی سی آئی، انتظامیہ کمیٹی، ایڈوائزری کمیٹی سب کو سامنے آکر صاف تصویر پیش کرنی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2006-07 میں گریگ چیپل کے زمانے میں بھارتی کرکٹ پر کیا گزری تھی سب کو پتہ ہے۔

گریگ چیپل بھی اپنے زمانے کے بڑے کھلاڑی تھے۔ جب وہ کوچ بن کر آئے تھے تو بہت تعریفیں ہوئی تھیں لیکن معاملہ بگڑنے لگا تو بات ہاتھ سے باہر نکل گئی تھی۔ وہ دور لوٹ کر نہیں آنا چاہیے۔

مجھے لگتا ہے کہ اُس وقت تو غیر ملکی کوچ ہونے کی وجہ سے کوئی کلچرل گیپ رہ گیا تھا۔ لیکن اب ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NDTV Sports

انیل کمبلے کو بہت توقعات کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا۔ کوچ، کھلاڑی اور کپتان کے طور پر ان کی کارکردگی کے بارے میں سب جانتے ہیں۔

وہ کرکٹ ایڈمنسٹریٹر بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے کرناٹک کرکٹ ایسوسی ایشن کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ وہ آئی پی ایل بھی کھیل چکے ہیں۔ ان کی عمر اتنی زیادہ بھی نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ سوچ میں فرق آ گیا ہو اور اس کی وجہ سے کپتان کے ساتھ ان کی نہیں بنتی ہو۔

ان کہانیوں کا آغاز دراصل اس وقت ہوا جب بی سی سی آئی نے چیف کوچ کے لیے درخواستیں طلب کیں۔

سب کو یہ لگا کہ اگر انیل کمبلے نے اتنے اچھے نتائج دیے ہیں تو پھر نیا چیف کوچ کیوں؟ اسے دیکھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ بورڈ صرف پروٹوکول فالو کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ The Hindu

گذشتہ سال جب کمبلے کو کوچ مقرر کیا گیا تھا تب بھی یہ پروٹوکول اپنایا گيا تھا۔ اس وقت پانچ یا چھ افراد نے اس کی درخواست دی تھی، جن میں روی شاستری بھی شامل تھے۔ اس وقت کمبلے کو منتخب کیا گیا تھا۔

ان کی ایک سال کی مدت ختم ہو رہی ہے اور انھیں قوانین کے مطابق درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ بی سی سی آئی انیل کمبلے سے ناخوش ہے، اس کی وجہ سے درخواستیں طلب کی گئی ہوں۔ یہ دونوں وجوہات تو پھر بھی سمجھ میں آتی ہیں لیکن کوچ اور کپتان کے درمیان تنازع کھڑا ہونے کی بات سمجھ سے باہر ہے۔

اگر بی سی سی آئی اور کمبلے کے درمیان پیسوں کے حوالے سے کوئی اختلاف ہیں تو اسے بھی حل کیا جا سکتا ہے لیکن کوچ اور کپتان کے درمیان اعتماد کا ایک رشتہ ہوتا ہے۔ اگر اس رشتے میں کوئی شگاف آ جائے تو اس کی تلافی بہت مشکل ہوتی ہے۔

اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ اگر ایسی کوئی بات ہے تو اس کا فوراً کوئی حل نکالا جانا چاہیے۔ اگر یہ کہانیاں ہیں تو اس سے منسلک افراد کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔

ہاں یہ سوال ضرور اہم ہے کہ جب غیر ملکی کوچز کو لمبی مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تو کمبلے کو ایک سال کی ہی مدت کیوں دی گئی اور کمبلے اس پر کیوں تیار ہوئے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں