پاکستان اور افغانستان کے درمیان مجوزہ 'کرکٹ سیریز منسوخ'

تصویر کے کاپی رائٹ YOUTUBE
Image caption افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شكراللہ عاطف مشعل

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گذشتہ روز غیر ملکی سفارت خانوں کے پاس ہونے والے خود کش حملے کے بعد افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے پاکستان کے ساتھ مجوزہ دوستانہ کرکٹ میچ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

'دشمن کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیلیں گے'

افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شكراللہ عاطف مشعل نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ مجوزہ دوستانہ میچوں کے منسوخ ہونے کی معلومات فراہم کیں۔

مشعل نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو اپنی سرزمین پر کھیلنے کے لیے مسلسل دعوت دے رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کرکٹ میچ کے لیے اسی پہلو پر غور کر کے فیصلہ کیا گيا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ پر کوئی بھی سمجھوتہ قومی مفاد کے تناظر میں ہی کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جانے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا گيا ہے۔

اسی حوالے سے افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے پاکستان کے ساتھ دوستانہ کرکٹ میچ منسوخ کرنے کا اعلان اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر بھی کیا۔

افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے: 'پاکستان کے ساتھ دوستانہ کرکٹ میچوں، جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی کرکٹ کے تعلقات پر ابتدائی رضامندی ظاہر کی گئی تھی، کو منسوخ کر دیا گیا ہے.'

اس سے ٹویٹ کے ساتھ اے سی بی نے کابل دھماکے کی ٹوئٹر (#kabulblast) بھی استعمال کیا ہے۔

یہ اس جانب اشارہ ہے کہ کابل میں ہونے والے دھماکے کے پس منظر میں یہ فیصلہ کیا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption کرکٹ منسوخ کرنے سے متعلق اے سی بی کی ٹویٹ

دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کابل دھماکے میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم افغانستان کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ الزمات عائد کرنے کا افغان نکتہ نظر قیام امن کے لیے کسی طرح مددگار نہیں۔'

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 'افغانستان میں امن اور استحکام میں پاکستان کا سب سے زیادہ مفاد ہے۔ اورجب بھی افغانستان میں کوئی حملہ ہوتا ہے تو کوئی دوسرا ملک اتنا متاثر نہیں ہوتا جتنا کہ پاکستان۔

'یہ انتہائی مایوس کن ہے کہ چند عناصر جن کو افغانستان میں امن سے کوئی دلچسپی نہیں اور جو پاک افغان تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اپنے ایجنڈے کے لیے پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں