’آٹھ ہزار میٹر بلندی پر سو کر کبھی کوئی اُٹھا نہیں‘

جبار
Image caption کرنل ریٹائرڈ بھٹی کی اہلیہ بھی اُنھیں لینے ایئرپورٹ پہنچیں تھیں

دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ سر کرنے والے پاکستان کے معمر ترین کوہ پیما کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار بھٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لوگوں کو کھیلوں تک رسائی نہیں جس کی وجہ سے نوجوانوں میں منفی سرگرمیوں، ون وہیلنگ، منشیات کے استعمال اور غیر ضروری تنظیموں میں شمولیت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

جمعرات کے روز وطن لوٹنے پر اسلام آباد ایئر پورٹ سے اُنھیں طبی معائنے کے لیے ایمبولنس کے ذریعے کمبائنڈ ملٹری سپتال لے جایا جایا گیا۔

ایئر پورٹ سے ہسپتال کے راستے میں بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے ایورسٹ پر پیش آنے والے حادثے کے بارے میں بتایا کہ اُن کے پورٹر نے آکسیجن کے تین فاضل سلینڈروں کے بجائے صرف ایک اُٹھایا جس کی وجہ سے چوٹی پر پہنچ کر آکسیجن کی کمی ہوئی اور اُنھیں ایک رات ساڑھے آٹھ ہزار میٹرز کی بلندی پر بغیر آکسیجن کے گزارنی پڑی۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’عام طور پر آکسیجن کے فاضل سلینڈر چوٹی کے قریب کمپنیاں ذخیرہ (ڈمپ) کر دیتی ہیں۔ میں سمجھا کر دیے ہوں گے جب ہم اُوپر پہنچے تو پتا چلا جو پاس ہے وہی ہے بس اور وہ بھی چوٹی سرکرنے سے پہلے ہی ختم ہوگئے۔‘

عبدالجبار بھٹی کے شرپا گائیڈ نے اپنی فیس بک پر کہا تھا کہ اُن کے پاکستانی صارف نے موسم کی خرابی کے بعد اُن کے منع کرنے کے باوجود ایورسٹ کرنے پر اصرار کیا تھا۔

اِس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کرنل ریٹائرڈ بھٹی نے بتایاکہ ’بہت نیچے اُس نے مجھ سے کہا کہ اُسے واپس جانا ہے پھر میں نے کہا کہ تم نے میرے پیسے اور وقت کیوں برباد کیے جب تم اوپر جا نہیں سکتے تھے؟ تو پھر وہ میرے ساتھ ہولیا پھر جب چوٹی کے قریب پہنچے اور آکسیجن بھی ختم ہو گئی اور موسم خراب تو میں نے کہا واپس چلتے ہیں لیکن اُس نے چوٹی سر کرنے پر اصرار کیا۔‘

Image caption کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار کے دوست لیفٹینٹٹ کرنل ریٹائرڈ منظور حسین نے کہا کہ وہ ہمیشہ حادثات سے بچ نکلتے ہیں

پاکستانی کوہ پیما نے اپنے بچاؤ کے آپریشن کے بارے میں بتایا کہ جیسے ہی پاکستان میں اُن کے حادثے کے بارے میں معلوم ہوا کہ فوجی سربراہ، مرکزی حکومت، دفترِ خارجہ، نیپال میں پاکستانی سفیر اور وہاں موجود دفاعی اتاشی سب نے فوراً اُن کے بچاؤ کی مہم کا اپنی سطح پر آغاز کر دیا لیکن اِس دوران نیپال کی حکومت نے ریسکیو آپریشن کی قیمت کی ادائیگی کے طریقہ کار پر تاخیر کی۔‘

عبدالجبار بھٹی کے مطابق ’اللہ نے اِس کے باوجود میری مدد کی اور8600 میٹرز کی بلندی پر پانچ لوگوں نے مجھے نیچے پہنچانےکا کام شروع کر دیا تھا۔‘

کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار کے دوست لیفٹینٹٹ کرنل ریٹائرڈ منظور حسین نے کہا کہ وہ ہمیشہ حادثات سے بچ نکلتے ہیں اور اِس بات بھی ایسا ہی ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پاکستانی کوہ پیما نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے کئی حادثات سے بچ نکلنے میں اپنی اچھی قسمت کو سراہا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’آپ ذرا سوچیں آٹھ ہزار میٹر پر سو کر کبھی کوئی اُٹھا ہے؟ لوگ تو اُسے مردہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں اور میں آپ کے سامنے ہوں۔‘

کرنل ریٹائرڈ بھٹی کی اہلیہ بھی اُنھیں لینے ایئرپورٹ پہنچیں تھیں۔ اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پورے خاندان کے لوگ اُن کے شوہر کی خیریت سے واپسی کی دعائیں کر رہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میں دو ماہ سے سوئی نہیں ہوں اب سکون ملے گا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں