کیا سرفراز قوم کو عید کا تحفہ دے پائیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آل راونڈر فہیم اشرف نے 34 گیندوں پہ 66 رنز بنا کر پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا

ہدف تھا 342 رنز، اور حسب معمول پاکستان 100 رنز پہلے ہی اپنی آٹھ وکٹیں گنوا چکا تھا۔

عموماً جب پاکستان ٹیم پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے تو عوام الناس ٹی وی بند کر کے زندگی کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ میچ محض ایک وارم اپ گیم تھی، اس لیے ٹی وی پہ نشر نہیں کیا جا رہا تھا۔

سرفراز کے ساتھ کوہلی کا بھی کڑا امتحان

’پاکستان کے پاس چیمپیئنز ٹرافی میں ہارنے کو کچھ نہیں‘

بنگلہ دیش کے خلاف اس وارم اپ میچ میں پاکستان کو جیت کے لیے آخری 51 گیندوں پر 100 رنز درکار تھے۔ کوئی مستند بیٹسمین کریز پہ موجود نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہی امید کی جا سکتی تھی کہ پاکستان شاید پورے اوورز کھیل جائے۔

لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ اچانک پاکستان جیت گیا۔ اور اس جیت کے معمار تھے نوجوان آل راونڈر فہیم اشرف، جنہوں نے 34 گیندوں پہ 66 رنز بنا کر ایک انہونی فتح پاکستان کی جھولی میں ڈال دی۔

یہ چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کے سفر کا آغاز تھا۔

کپتان سرفراز احمد کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم آئی سی سی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر ہے، سو ان کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں ہے۔ بظاہر یہ بیان خاصا مایوس کن ہے کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ایک کپتان اپنی ٹیم کی کیفیت کے بارے میں ایسا کہے مگر مصباح الحق کے خیال میں سرفراز کا یہ بیان محض ٹیم سے پریشر ہٹانے کے لیے ہے، ورنہ رینکنگ سے قطع نظر اس نوجوان ٹیم میں بھرپور صلاحیت ہے کہ وہ کسی بھی ٹیم کو ہرا سکے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان کی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا تجربہ تمام کپتانوں کے مقابلے میں کم ہے

اس میں شبہ نہیں کہ تین چار کھلاڑیوں کے علاوہ یہ ٹیم سبھی نو آموز لڑکوں پر مشتمل ہے مگر مصباح سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے ایونٹ میں جہاں ناتجربہ کاری نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے وہیں اس کا یہ فائدہ بھی ہو سکتا ہے کہ نئے لڑکے ان بڑے میچز کو نارمل گیم سمجھ کر کھیلیں اور پریشر سے کوسوں دور رہیں۔

پچھلے ایک سال میں پاکستان نے دو مختلف کپتانوں کی قیادت میں 16 ون ڈے میچز کھیلے اور صرف سات جیتے۔ ان میں سے بھی پانچ فتوحات اس ویسٹ انڈیز کے خلاف تھیں جو چیمپئنز ٹرافی کی دوڑ کا حصہ تک نہ بن پایا۔

اب پاکستان کو 30 ستمبر 2017 تک صرف تین ون ڈے میچز کھیلنے ہیں۔ چیمپیئنز ٹرافی کے یہ تینوں میچز اپنی جگہ تو اہم ہیں ہی مگر ورلڈ کپ کوالیفیکیشن کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تین میچز پاکستان کے لیے زندگی موت کا سوال نظر آتے ہیں۔

اور طرہ یہ کہ اس سوال کا آغاز بھی اس حریف کے خلاف ہو رہا ہے جو بڑے ایونٹس کی تاریخ میں پاکستان پر واضح برتری رکھتا ہے۔

بھارت کا یہ سکواڈ پاکستان سے کہیں زیادہ میچور اور تجربہ کار ہے۔ اس کے مقابلے میں دیکھا جائے تو پاکستان خاصی کمزور ٹیم ہے۔ مگر جس میچ پر دنیا کی سانسیں اٹکی ہوتی ہیں، وہاں اکثر صرف ایک وکٹ یا ایک شاٹ ہی میچ کا رخ بدل دیتی ہے۔ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود پاکستان کے اس ڈریسنگ روم میں ابھی ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو ایسا ایک لمحہ تخلیق کر سکیں۔

پاکستان کے لیے یہ ایونٹ یوں بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہو چکا ہے کہ ورلڈ کپ 2015 کے بعد ہر ٹیم نے اپنے انداز سے ایک نیا آغاز کیا تھا۔ مثلاً انگلینڈ پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہوئی تھی لیکن گزشتہ دو برس میں وہی انگلینڈ اتنی مضبوط ٹیم بن چکی ہے کہ ویراٹ کوہلی بھی اسے چیمپیئنز ٹرافی کے لیے فیورٹ قرار دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرفراز احمد نے اظہر علی کے بعد پاکستانی ٹیم کی کپتانی سنبھالی ہے

اس دوران پاکستان نے بھی ایک نیا آغاز کیا تھا۔ مصباح کی ون ڈے سے ریٹائرمنٹ کے بعد اظہر علی کو کپتان بنایا گیا۔ ان کی کپتانی میں پاکستان پہلی بار بنگلہ دیش سے کلین سویپ ہوا۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا سے بری طرح ہارا۔ بالآخر عوام کے پرزور اصرار پر انہیں ہٹا کر سرفراز کو کپتان بنا دیا گیا۔

اس میں شبہ نہیں کہ سرفراز ٹی ٹوئنٹی کے بہت اچھے کپتان ہیں مگر ون ڈے میں انہیں ابھی تک کپتانی کا زیادہ موقع نہیں ملا۔ اب جب کہ وہ تینوں فارمیٹس میں پاکستان کے کپتان بن چکے ہیں، ان پہ ذمہ داریوں کا بوجھ کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ایسے میں چیمپیئنز ٹرافی جیسا بڑا ٹورنامنٹ ان کی قیادت کا پہلا امتحان ہو گا۔

چار جون کو جب سرفراز کی قیادت میں یہ ٹیم بھارت کے خلاف میدان میں اترے گی تو یہ وہ ٹیم ہو گی جو پچھلے دو سال میں شدید بحرانوں سے گزری ہے۔ بہرحال اس ٹیم کو ایک نیا آغاز کرنا ہے۔ اور وہی آغاز اگر بھارت جیسے روایتی حریف کے خلاف ہو جائے تو اور کیا چاہیے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان جس طرح ون ڈے کرکٹ میں اپنی اپروچ بدلنا چاہ رہا تھا، اسے فہیم اشرف کی شکل میں ایسے ممکنہ آپشنز بھی ملنا شروع ہو گئے ہیں جو اس اپروچ کا بار اٹھا سکیں۔

یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ سرفراز قوم کو عید کا تحفہ دے پائیں گے یا نہیں، مگر یہ امید ضرور کی جا سکتی ہے کہ پاکستان مثبت کرکٹ کھیلے گا اور ورلڈ کپ کوالیفیکیشن پر اٹھتے سوالات کا کوئی نہ کوئی جواب تو دے گا۔