’پاکستانی شائقین کی تعداد نسبتاً کم مگر نعروں میں اچھا خاصا مقابلہ‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایجبیسٹن کے میدان کے باہر میں شائقین کرکٹ کا جشن

کرکٹ کا بین الاقوامی مقابلے ہو اور مدمقابل ہوں انڈیا اور پاکستان، تو جوش و خروش اور ولولہ دیدنی ہوتا ہے۔ یہی کچھ منظر ہے سنچر کی صبح برمنگھم کے ایجسبسٹن کرکٹ گرؤانڈ کے باہر قریبی سڑکوں پر۔

کرکٹ کے شائقین پاکستان اور انڈیا کے جھنڈے اٹھائے جوق در جوق میدان کی طرف گامزن نظر آتے تھے۔

پاکستان اور انڈیا کے کرکٹ شائقین میں عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی اور جوش و جذبہ بھی اس ماہ و سال کی قید سے ماورا ہوتا ہے۔

لوگ اپنے بچوں کی انگلیاں تھامے بوڑھے ماں باپ کے ہمراہ میدان کے اندر داخل ہونے والی قطاروں میں میچ شروع ہونے سے دو گھنٹے قبل سے کھڑے تھے۔ میدان کے سامنے سڑک پر نوجوان شائقین کا قبضہ تھا جو زبردست نعرے بھی لگا رہے تھے۔

نوجوانوں کی ایک ٹولی روایتی ڈھول بجا کر انڈین شائقین کا دل گرما رہی تھی۔ نعرہ اور جوابی نعروں ، نقاروں اور ڈھول کی آواز میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔

انڈین شائقین اپنی ٹیم کی حالیہ کارکردگی سے اپنی ٹیم کی جیت کے بارے میں زیادہ پر اعتماد تھے اور شاید اسی بنا پر زیادہ پرجوش بھی۔ پاکستان کے شائقین کی تعداد نسبتاً کم تھی لیکن نعروں کے اس مقابلے میں وہ اچھا خاصا مقابلہ کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میری نظریں چاچا کرکٹ کی تلاش میں تھیں۔ آخری کار وہ نظر آ ہی گئے، ایک انڈین ٹی وی چینل کے کیمرے کے سامنے۔ چاچا کرکٹ کا انڈیا کے شائقین کو یہی پیغام تھا کہ دونوں ملکوں کو کرکٹ کھیلتی رہنی چاہیے۔ ’ہار جیت کسی کی بھی ہو، کھیل ہونا چاہیے۔‘ چاچا کے خیال میں انڈین پریمیئر لیگ کی وجہ انڈین ٹیم کو بہت فائدہ ہوا ہے اور اس کی کارکردگی بہت بہتر ہوگئی ہے۔

فیس بک لائیو کرنے جب ہم کھڑے ہوئے تو چاروں طرف سے شائقین نے گھیر لیا۔ سوال کرنا اور جواب سننا مشکل ہو رہا تھا۔ اسی شور شرابے میں کسی نے کیا کہا اور ہم نے کیا پوچھا، یہ تو سننے والے ہی جانیں۔ سڑک کے بیچوں بیچ نعرے لگاتے اور شور مچاتے شائقین میں یہ ہی کچھ ہو سکتا تھا۔

لندن میں گذشتہ رات کے واقعات کا کوئی اثر برمنگھم میں ہونے والے اس میچ پر نظر نہیں آیا۔ سیکیورٹی معمول کے مطابق تھی کسی جگہ بھی ایسا کوئی احساس نہیں ہوا کہ پولیس یا سیکیورٹی اہلکار کی موجودگی معمول سے زیادہ ہو۔ لیکن جو بھی سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے وہ بہت چوکس تھے اور ان کی نظریں ہر اندر جانے والے کا بغور جائزہ لے رہی تھیں

برطانیہ کے موسم کے اعتبار سے یہ صبح بہت خوبصورت تھی۔ چاروں طرف تیز دھوپ جس میں کیمرے جواب دینے لگتے ہیں اور ہاتھ جیب میں کالا چشمہ ٹٹولنے لگتے ہیں۔ کچھ ہی دیر بعد جب میدان میں داخل ہوئے تو بادل نہ جانے کہاں سے پورے میدان پر چھا گئے۔

انڈیا پاکستان کے علاوہ مقابلے بادلوں اور سورج کا بھی۔ بارش کے دیوتا نے کیا ٹھان رکھی ہے اور اس سے کسی فائدہ ہوتا ہے۔ یہ اب شام کو بتائیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں