عالمی رینکنگ خراب کارکردگی کی ڈھال کیوں؟

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سنہ 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں انڈیا کے خلاف پاکستان کی شکست کے بعد مجھے کولکتہ کے ہوائی اڈے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان سے بات کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ اس شکست پر انھیں یقیناً مایوسی ہوئی ہے لیکن اس ٹیم سے قوم کو زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ یہ اس وقت عالمی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے۔

اور صرف ایک سال بعد چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم انڈیا کے خلاف شکست سے دوچار ہوئی ہے تو پاکستانی کرکٹ میں پائی جانے والی اس سوچ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی رہی۔

مثبت کوچ اور اٹیکنگ کپتان کا رشتہ

انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کو 124 رنز سے شکست

کپتان سرفراز احمد میچ سے قبل ہی یہ کہہ چکے تھے کہ ہمارے پاس تو ہارنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں اور ہم تو اس وقت عالمی درجہ بندی میں آٹھویں نمبر پر کھڑے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شہریارخان اور سرفراز احمد کی اس بات کو اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو عالمی رینکنگ میں چھپانے کی کوشش سمجھا جائے؟

اگر واقعی ایسا ہے تو پھر پاکستانی کرکٹ کے کرتا دھرتاؤں کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں اپنے سے کمزور ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابیوں پر یہ بیان بھی سامنے آنا چاہیے تھا کہ ان کامیابیوں کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں کیونکہ یہ اپنے سے کمزور ٹیم کے خلاف حاصل ہوئی ہیں۔

پاکستانی کرکٹ کی حالت یہ ہے کہ جان لیوا بیماری کا علاج سردرد کی گولی سے کیا جا رہا ہے۔

کوئی بھی قومی ٹیم اُسی وقت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوسکتی ہے جب اس کے تمام ذمہ داران صحیح سمت میں کام کر رہے ہوں۔

پاکستانی کرکٹ کا سب سے کمزور شعبہ اس کی ڈومیسٹک کرکٹ ہے جو آج بھی اس بحث میں الجھی ہوئی ہے کہ ریجنل کرکٹ موزوں ہے یا ڈپارٹمنٹل کرکٹ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پورے ملک میں اکیڈمیز اور ہائی پرفارمنس سینٹرز کے جال بچھانے کے دعوے کر رکھے ہیں لیکن یہ معاملہ صرف فوٹو سیشن کی حد تک رہا ہے۔

قومی اکیڈمی، ٹیم منیجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کے درمیان جو موثر رابطہ ہونا چاہیے اس کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال عمراکمل کی فٹنس کا معاملہ ہے۔

عمر اکمل کو پاکستانی ٹیم کے غیرملکی ٹرینر اور فزیو نے ان فٹ قرار دے دیا لیکن کچھ ہی دنوں بعد اکیڈمی کے ٹرینر نے عمراکمل کو فٹ قرار دے دیا اور اسی بنیاد پر سلیکٹرز نے انھیں چیمپئنز ٹرافی کی ٹیم میں شامل کر لیا۔

جب وہ انگلینڈ پہنچے تو ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے ان کی فٹنس پر مکمل عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انھیں وطن واپس بھیجنے میں دیر نہیں لگائی۔

2015 کے عالمی کپ کے بعد تمام ٹیموں نے اپنی اپنی خامیوں کا بڑی سچائی اور حقیقت پسندی سے تجزیہ کرکے انہیں دور کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں ۔ان سب ٹیموں کو اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ ون ڈے کرکٹ کے طور طریقے بدل چکے ہیں اور عصرحاضر کے تقاضوں پر عمل کرکے ہی وہ اپنی کرکٹ میں بہتری لا سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے بڑی مثال انگلینڈ کی ٹیم ہے جس کے لیے ورلڈ کپ ڈراؤنا خواب ثابت ہوا تھا لیکن اب یہی ٹیم دوسروں کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔

پاکستانی کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک بڑی شکست کے بعد کپتان یا کوچ کی تبدیلی سے تنقید کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی کرکٹ کا تھنک ٹینک ابھی تک یہی تعین نہیں کرسکا ہے کہ کس فارمیٹ کے لیے کونسا کھلاڑی موزوں ہے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں رنز کے انبار لگا دینے والے بیٹسمین کو ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی میں شامل کر دیا جاتا ہے اور جس کی کارکردگی محدود اوورز کی کرکٹ میں اچھی ہوتی ہے اسے ٹیسٹ ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے۔

اس کی تازہ ترین مثال آصف ذاکر کی ہے جنھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی لیکن اس کا انعام ون ڈے ٹیم میں شامل کرک ے دیا گیا اور وہ بغیر کھیلے ویسٹ انڈیز سے واپس آ گئے۔

آج کل کی ون ڈے کرکٹ میں تین سو رنز عام سی بات ہو گئی ہے بلکہ تین سو رنز کر کے بھی ٹیمیں ہار رہی ہیں جبکہ پاکستانی ٹیم آج بھی کھیل کا وہی انداز اختیار کیے ہوئے ہے جو اب متروک ہو چکا ہے۔

پاکستانی ٹیم کے بلے باز میچ وننگ نہیں بلکہ اپنے کریئر بچانے والی اننگز کھیل رہے ہیں۔

سرفراز احمد نے یہ بات تو بڑی آسانی سے کہہ دی کہ اس وقت پاکستانی ٹیم آٹھویں نمبر پر کھڑی ہے لیکن وہ یہ بھول گئے ہیں کہ نمبر آٹھ سے نیچے نمبر نو ہے اور اگر پاکستانی ٹیم نمبر نو پر آگئی تو اسے 2019 کے عالمی کپ میں حصہ لینے کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا پڑے گا۔

کیا اس وقت بھی ان کے پاس گنوانے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں