حیران ہی نہیں بلکہ لوگ پریشان بھی ہو گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کسی دانا نے کہا تھا کہ زندگی اپنی خوبیوں پہ بسر کی جاتی ہے، دوسروں کی خامیوں پہ نہیں۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ بھارت کی بیٹنگ دنیا کا مضبوط ترین لائن اپ ہے اور وہ ہمیشہ ہدف کے تعاقب کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی بیٹنگ بلا مبالغہ دنیا کا کمزور ترین لائن اپ ہے اور پاکستان معمولی سے معمولی ہدف کے تعاقب میں بھی پگھل سکتا ہے۔

لیکن سرفراز نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تا کہ بھارت کو ہدف طے کرنا پڑے، تعاقب نہ کرنا پڑے۔

میچ سے پہلے اپنی پریس کانفرنس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ اس بار بھارت کے خلاف ہم ذرا ’وکھری‘ ٹائپ کی کرکٹ کھیلیں گے۔ روایتی حریف سے کھیلے گئے گذشتہ تمام میچز کے برعکس ہم ’مثبت‘ کرکٹ کھیلیں گے اور ایسے فیصلے دیکھنے کو ملیں گے کہ لوگ حیران رہ جائیں گے۔

پھر اس کے بعد میچ میں جو کچھ ہوا، لوگ صرف حیران ہی نہیں ہوئے بلکہ پریشان بھی ہو گئے۔

ایجبیسٹن کی اس بیٹنگ وکٹ پہ دو ریگولر سپنرز کو کھلانے کا مقصد کیا تھا؟ بالخصوص جب شعیب ملک اور محمد حفیظ جیسے بولنگ آپشنز ٹیم میں موجود ہوں تو دنیا کا کوئی بھی کپتان چاہے گا کہ وہ کم از کم چار سیمرز کھلائے۔ یہ جانتے ہوئے کہ بھارت سپن کو بہت اچھا کھیلتا ہے، پاکستان نے دو سپنرز کھلا ڈالے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

محمد حفیظ کی بیٹنگ فارم اور ریکارڈ کو دیکھا جائے تو خالصتا بیٹنگ کی بنیاد پہ تو شاید ٹیم میں ان کی جگہ نہ بن پائے۔ پاکستان کے لیے انہیں کھلانے کا اصل فائدہ ہی ان کی سپن بولنگ ہے۔ لیکن پاکستان نے اس انتہائی اہم میچ میں انہیں بولنگ کی زحمت ہی نہیں دی۔ بلکہ ان کی بجائے عماد وسیم کو نیا گیند دے دیا گیا، شاید اس امید پہ کہ روہت شرما اور شیکھر دھاون بھی عماد کی آف بریک سے اتنے ہی متاثر ہوں گے جتنے ویسٹ انڈین اوپنرز ہوا کرتے ہیں۔

فیلڈنگ کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو پاکستان نے کچھ بری پرفارمنس نہیں دی، پاکستان کی فیلڈنگ پہ اب یہ لازم ہو چکا ہے کہ انہیں فی میچ کم از کم دو کیچز تو ڈراپ کرنا ہی ہیں۔ لیکن فیلڈ پوزیشننگ اور پلاننگ کو دیکھا جائے تو مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔

مثلا دائرے کے اندر جو فیلڈ لی جاتی ہے، اس کا مقصد سنگلز روک کر پریشر ڈالنا ہوتا ہے۔ پاکستان نے اٹیکنگ فیلڈ تو سیٹ کی لیکن اس اٹیکنگ فیلڈ نے بے تحاشا سنگلز لیک کئے۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں کہ جہاں بلے کی رفتار تک ناپی جا رہی ہے، پاکستانی تھنک ٹینک یہ سمجھنے سے بھی قاصر رہا کہ کوہلی کو کس لائن پہ اٹیک کرنا ہے اور یوراج کو کہاں پھنسانا ہے۔

گذشتہ روز کی گئی مکی آرتھر اور سرفراز کی مشترکہ پریس کانفرنس کا خلاصہ یہ تھا کہ چونکہ پاکستان آٹھویں نمبر کی ٹیم ہے، اس لئے پریشر انڈیا پہ ہو گا۔ ساتھ ہی جو بات زیادہ موضوع سخن رہی، وہ تھے بھارتی کپتان اور کوچ کے درمیان اختلافات اور ان کے عالمی ماحولیات پہ اثرات۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مکی آرتھر کا فرمانا تھا کہ کپتان اور کوچ کے درمیان رشتہ شادی کے تعلق جیسا ہوتا ہے اور ٹیم کی پرفارمنس کا دارومدار اس رشتے کی مضبوطی پہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا اور سرفراز کا رشتہ بہت مضبوط ہے۔ ہمارے حریفوں کا یہ رشتہ بہت کمزور ہے۔ اس لیے ہر لحاظ سے پریشر بھارت پہ ہے۔

جس وقت حسن علی آوٹ ہو کر پویلین کی جانب روانہ ہوئے تو ایک قطار میں کوہلی اور انیل کمبلے تھے جب کہ دوسری قطار میں سرفراز اور مکی آرتھر تھے۔

اہم بات یہ تھی کہ جس کوچ اور کپتان کا رشتہ بکھر چکا ہے، ان کی ٹیم جیت چکی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں