’زخمی شیر‘ سے امید لگائے ایجبسٹن کے شائقین

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

لڑائی میں شکست کے بعد بھی ایک زخمی ’شیر‘ بہت کچھ کرسکتا ہے۔ شاید یہی سوچ پاکستان کے کرکٹ شائقین اور ان کے ’زخمی شیروں‘ کے ذہن میں بھی ہو۔

یہ شیر والا خیال کچھ ایسے پاکستانی شائقین کے پیغامات دیکھ کر آیا جو دن ہو یا رات ہار ہو یا جیت امید نہیں چھوڑتے ایسے ہی شائقین جو ایک بار پھر امیدیں لگائے برمنگھم کے ایجبیسٹن سٹیڈیم پہنچ گئے ہیں۔

مثبت کوچ اور اٹیکنگ کپتان کا رشتہ

عالمی رینکنگ خراب کارکردگی کی ڈھال کیوں؟

ہاں اب اگر تو وہ ’شیر‘ ہیں تو پھر بہت سوں کے لیے شاید یہ امید کی ایک کرن ہو۔

پاکستان اور انڈیا کے میچ کے دوران پاکستانی شائقین اعداد وشمار اور انڈیا کی حالیہ پرفارمنس کو نظر انداز کرتے ہوئے پرامید نظر آئے تھے۔

اُس میچ سے قبل بھی رائے جاننے کے لیے ان کا رخ کیا تو ملاقات ہوئی تھی سب سے جانے پہچانے پاکستانی فین چاچا کرکٹ سے جنھوں نے اقرار تو کیا کہ انڈیا کی ٹیم زیادہ بہتر ہے مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ اُن کے دل کہتا ہے جیت پاکستان ہی کی ہوگی مگر یہ ہو نہ سکا۔

آج بھی ایجبیسٹن پر سبز پرچم لہرا رہے ہیں۔ شائقین پرامید ہیں کہ ’زخمی شیر‘ بہت کچھ کر دکھائے گا مگر اعداد و شمار بدقسمتی سے پاکستان کے لیے وہی کہانی سنا رہے ہیں جو پہلے میچ میں تھی۔

اس بار شاید میچ اور بھی مشکل ہو کیونکہ مقابلہ ہے ٹورنامنٹ کی سب سے کم رینکنگ والی ٹیم کا پہلے نمبر پر موجود جنوبی افریقہ سے۔

میچ کا نتیجہ جو بھی ہو شائقین کا جذبہ قابل دید ہے اور سٹیڈیم پاکستان جیتے گا اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سےگونج رہا ہے۔

رنگا رنگ کپڑوں میں ملبوس شائقین میں سے کچھ تو 1992 میں پاکستانی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی جرسیاں پہن کر بھی آئے ہوئے ہیں۔

ان میں لڑکے بھی ہیں لڑکیاں بھی اور بڑی عمر کے لوگ بھی۔ سیلفیاں بھی لی جا رہی ہیں اور ویڈیوز بھی جبکہ کچھ ووزیلا نامی آلہ موسیقی جو جنوبی افریقہ کے فٹبال ورلڈ کپ میں متعارف ہوا تھا زوروشور سے بجا رہے ہیں۔

بس ڈر یہی ہے کہ جس زور سے یہ پاکستانی شائقین جنوبی افریقہ کا باجا بجا رہے ہیں اُسی زور سے جنوبی افریقہ ان کی ٹیم کا 'بینڈ' نہ بجا دے۔

میچ سے پہلے موسم اچھا ہے اور لوگوں کا جوش و خروش بھی اور کیونکہ انھیں یقین سا ہے کہ ان کے 'شیر' کچھ تو کر دکھائیں گے۔

بدھ کی شام بھی بارش کا امکان ہے اور ڈر یہی ہے کہ کہیں زخمی شیر ایک بار پھر بھیگی بلی نہ بن جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں