’یہ گرجنے والا پاکستان نہیں تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

احتیاط اور خوف کے بیچ فرق بہت کم ہوتا ہے۔ مثلاً آپ گاڑی چلا رہے ہیں، سڑک پہ رش بھی ہے، آپ کے اردگرد بے ہنگم ٹریفک کی کارستانیاں بھی جاری ہیں، دماغ کے پیچ ہلا دینے والے ہارن بھی بج رہے ہیں۔ مگر آپ سکون سے ایک نارمل رفتار پہ ڈرائیو کرتے کرتے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں۔

لیکن اگر آپ کو بتایا جائے کہ آپ حد رفتار کے قریب ہیں، کیمرے کی نظر میں ہیں، اور اگر ایک اعشاریہ بھی تجاوز کیا تو آپ کا چالان ہو سکتا ہے۔ تو اچانک ہی ایکسیلیٹر پہ پڑا پاؤں محتاط ہو جائے گا، کلچ اپنی روانی کھو بیٹھے گا، گئیر پھنسنے لگے گا، ہارن دماغ کی چولوں میں بجنے لگیں گے اور آپ کی ساری مہارت دھری کی دھری رہ جائے گی۔

٭ پاکستان بارش سے متاثرہ میچ میں 19 رنز سے فاتح

٭ پاکستان کی چیمپیئنز ٹرافی میں پہلی جیت

٭ انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کو 124 رنز سے شکست

اتوار کے روز ایک کرکٹ میچ ہوا۔ وہ ایک نارمل کرکٹ گیم تھی۔ دونوں ٹیموں کے پاس گیارہ گیارہ کھلاڑی تھے، یہی وکٹ تھی، یہی قوانین تھے، ایسا ہی موسم تھا۔ سب نارمل تھا سوائے اس کے کہ پاکستان کو انڈیا سے کھیلنا تھا۔ سو کوچ اور کپتان نے میچ سے پہلے ہی بیانات داغنے شروع کر دیے۔ 'آوٹ آف دا باکس' پلاننگ ہونے لگی۔ مخالفین کی خامیوں کو اپنی خوبیاں گردانا گیا۔

اور پاکستان وہ میچ ایک شرمناک مارجن سے ہار گیا۔

کل اسی گراؤنڈ میں، اسی وکٹ پہ، انہی کنڈیشنز میں ایک اور میچ ہوا۔ آٹھویں نمبر کی ٹیم کو پہلے نمبر کی ٹیم کا سامنا تھا۔ پاکستان ہار جاتا تو ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتا۔لیکن اس سب کے باوجود، میچ سے پہلے کوئی دھماکے دار بیان سننے کو نہیں ملے۔ کپتان ٹاس ہار گیا مگر چہرے پہ ہوائیاں نہیں اڑیں۔ مخالف ٹیم میں پانچ ورلڈ کلاس بیٹسمین تھے مگر کسی بولر کے ہوش نہیں اڑے۔ سب نارمل رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اور آٹھویں نمبر کی ٹیم نے پہلے نمبر کی ٹیم اور ٹورنامنٹ کی فیورٹ سائیڈ کو چت کر دیا۔

دونوں میچز کا موازنہ کیا جائے تو ایک بار دماغ چکرا جاتا ہے کہ اگر یہی بولنگ لائن ایک ورلڈ کلاس بیٹنگ کو یوں زیر کر سکتی ہے تو اتوار کا میچ کیا کسی اور سیارے پہ کھیلا گیا تھا؟

اس میں شبہ نہیں کہ یہ وکٹ دو میچ پرانی تھی، سپنرز کے لیے سازگار تھی اور ساوتھ افریقن ٹاپ آرڈر سپن کے خلاف اتنا ماہر نہیں ہے جتنا کہ بھارتی بلے باز تھے۔ مگر پھر بھی بنیادی فرق رویے اور باڈی لینگوئج کا ہے۔ یہی کپتان، یہی ٹیم، یہی کوچ اتوار کو جان کی بازی لگانے پہ تلے تھے لیکن اس کے باوجود ہار گئے۔ کل یہی کپتان اور یہی ٹیم صرف اچھی کرکٹ کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے اور جیت گئے۔

وہاب ریاض کی جگہ جنید کو کھلانے کا فیصلہ بالآخر موثر ثابت ہوا مگر وہ بھی شروع میں وکٹیں نہیں لے پائے۔ فخر زمان کی شمولیت سے پاور پلے کا فائدہ ضرور ہوا مگر پچھلے میچ میں اظہر علی نے بھی پاور پلے کا فائدہ تو اٹھایا تھا۔

حفیظ نے بولنگ میں اپنے تجربے اور مہارت کا ثبوت دیا لیکن پچھلے میچ میں یہی اعداد و شمار شاداب خان نے بھی حاصل تو کیے تھے۔ عماد نے پچھلے میچ میں بھی بری بولنگ تو نہیں کی تھی مگر کل انہوں نے ہی آملہ اور ڈی ویلئیرز کے طوطے اڑا دیے۔ یہی حسن علی تھے جو پچھلے میچ میں پوری وکٹ پہ آوارہ گردی کرتے پھرتے تھے لیکن کل انہوں نے میچ وننگ سپیل کر ڈالا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایسا نہیں ہے کہ تین ہی دن میں ایک گری ہوئی ٹیم کی کوئی غیبی نشاط ثانیہ ہو گئی اور وہ یکسر مختلف یونٹ بن کر سامنے آ گئی۔ فرق تھا تو صرف یہ کہ کل کے میچ میں جاتے ہوئے پاکستان پہ وہ پریشر نہیں تھا۔ چونکہ کوچ یا کپتان نے زمین آسمان کے قلابے نہیں ملا رکھے تھے، کوئی بلند بانگ دعوے نہیں کر رکھے تھے، اس لیے کھلاڑیوں کے سر پہ توقعات کا بوجھ بھی نہیں تھا۔

یقین تھا تو صرف اپنی مہارت پہ اور دھیان تھا تو صرف اچھی کرکٹ کھیلنے پہ۔ سو نتیجہ ایسا خوبصورت نکلا کہ کپتان کی کپتانی بھی بہتر ہو گئی، فیلڈنگ کوچ کی حیثیت بھی ثابت ہو گئی، ٹیم کا مورال بھی بڑھ گیا اور ٹورنامنٹ میں جان بھی پڑ گئی۔

کہاوتیں صرف لفظوں کا گورکھ دھندا نہیں ہوتی، ان کے پیچھے صدیوں کے مشاہدات اور نسلوں کے تجربات ہوتے ہیں۔ سو اگر سیانے یہ کہتے ہیں کہ جو گرجتے ہیں، وہ برستے نہیں، تو جان لیجیے کہ وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔

یہ محیرالعقول جیت صرف اس ٹیم اور قوم کے لیے سرپرائز گفٹ ہی نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑا سبق بھی ہے کہ اگر بولنے کی بجائے صرف کھیلنے پہ دھیان دیا جائے تو ابھی بھی اس ٹیم میں اتنی کرکٹ باقی ہے کہ کسی کو بھی ہرا سکے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں