’پاکستان ایک گیم ہارتا ہے تو لوگ پیچھے پڑ جاتے ہیں‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انگلینڈ اور ویلز میں جاری آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے ساتویں میچ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست پر جنوبی افریقہ کے کوچ رسل ڈومنگو نے کہا کہ پاکستان کے سپن بولرز نے بہترین بولنگ کی۔

پاکستان کے خلاف میچ میں ڈک ورتھ لوئس کے تحت 19 رنز سے شکست کے بعد رسل ڈومنگو کا کہنا تھا کہ ’پاکستان جب بھی ایک گیم ہارتا ہے تو لوگ اُس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں مگر ہم تو اُسے بہترین ٹیم سمجھتے ہیں۔‘

’یہ گرجنے والا پاکستان نہیں تھا‘

پاکستان بارش سے متاثرہ میچ میں 19 رنز سے فاتح

اُن سے جب پوچھا گیا کہ کیا انڈیا کے خلاف پاکستان کی کارکردگی پر جنوبی افریقہ یہ تو نہیں سوچ بیٹھا تھا کہ میچ تو جیتا ہی ہوا ہے تو انھوں نے کہا 'ایسا بالکل نہیں ہے۔ پاکستان نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے اور اسی لیے آج جیت اُن کی ہوئی۔'

برمنگھم میں بی بی سی کے نامہ نگار خالد کرامت کے مطابق میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ ’پچھلے میچ کے مقابلے میں آج بولنگ اور فیلڈنگ بہتر تھی۔ پچھلے میچ میں آخری چار اوورز میں 74 رنز پڑے آج ایسا نہیں ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ بارش کا تو سوچا ہی نہیں تھا اور بولنگ اچھی کی اور پلان کے مطابق کی۔

انڈیا کے خلاف شکست کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سرفراز نے کہا کہ ٹیم میٹنگز کی بدولت کھلاڑیوں میں خود اعتمادی بڑھی۔

انڈیا کے خلاف میچ کے حوالے سے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ جب سے وہ ٹیم میں شامل ہوئے ہیں اور جب سے انھوں نے ٹیم کی کمان سنبھالی ہے تو دیکھا ہے کہ نوجوان کھلاڑی کافی دباؤ میں آجاتے ہیں اور اتوار کو انڈیا کے خلاف میچ میں بھی ایسا ہی ہوا۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں ٹیم بھی دباؤ میں آجاتی ہے جس کے باعث نہ بولنگ اچھی ہوئی نہ بیٹنگ اور نہ ہی فیلڈنگ۔

انھوں نے کہا کہ غلطیاں ہوتی ہیں اور وہ سیکھ رہے ہیں۔

نوجوان بلے باز فخر زمان کے بارے میں سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ فخر زمان نے اچھا کھیل پیش کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اُنھوں نے فخر کے ساتھ کراچی میں کرکٹ کھیلی ہے اور وہ ایک قابل کھلاڑی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں پاکستان اپنی بولنگ پرفارمنس کے نتیجے میں فتح سے ہمکنار ہوا۔ اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں تیز رفتار سے رنز بنانے والے بلے بازوں کی کمی ہے۔ گو کہ جنوبی افریقہ کے ساتھ میچ میں جیت تو پاکستان ہی کی ہوئی مگر بلے بازوں کا صحیح معنوں میں امتحان نہیں ہوا۔

پاور ہٹر کی پاکستان ٹیم میں کمی ہونے کے بارے میں ایک سوال پر پاکستان کے بلے باز شعیب ملک نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر سٹرائیک ریٹ 100 یا 95-90 ہو تو پاور ہٹر کی ضرورت نہیں پڑتی۔

مگر یہی بات کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال پاکستان ٹیم کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ نہ کوئی بڑے پاور ہٹر ہیں اور نہ ہی سٹرائیک روٹیشن میں ٹیم زیادہ کامیاب نظر آتی ہے اور چیمپینز ٹرافی کے پہلے دونوں میچوں میں بھی ڈاٹ بالز کی تعداد کافی زیادہ رہی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں