لندن حملوں کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش نہ کرنے پر سعودی فٹ بال چیف کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سعودی عرب کے فٹ بال چیف نے اپنی قومی ٹیم کی طرف سے لندن حملوں کے متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار نہ کرنے پر معذرت کی ہے۔

جمعرات کو اوول میں ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائنگ میچ سے قبل آسٹریلیوی فٹ بال ٹیم نے لندن حملوں میں اپنی جانیں کھودینے والوں کے لیے ایک منٹ تک احترامًا ایک دوسرے کے بازو تھامے رکھے۔ تاہم سعودی عرب کے کھلاڑیوں نے ایسا نہیں کیا اور فیلڈ پر اپنی پوزیشنز سنبھال لیں۔

تلخ کلامی کا جواب مسکراہٹ سے دینے والی لڑکی

ایک آسٹریلیوی رکن پارلیمان نے سعودی عرب کے کھلاڑیوں کے اس اقدام کو 'شرمناک' قرار دیا ہے۔

فٹ بال حکام کا کہنا ہے کہ انھیں پہلے ہی اس بارے میں آگاہ کر دیا تھا کہ 'ایسا کرنا سعودی عرب کی ثقافتی روایت نہیں ہے۔'

سعودی عرب کی فٹ بال فیڈریشن نے جمعے کو 'غیر مشروط' معافی مانگی اور اپنے بیان میں کہا کہ ' کھلاڑیوں کا مقصد متاثرین کی یاد کی تضحیک کرنا نہیں تھا اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ، دوستوں یا کسی اور شخص جو ان ہلاکتوں سے متاثر ہوا ہو کو پریشان کرنا تھا۔'

سعودی عرب کی فٹ بال فیڈریشن کی جانب سے جاری معافی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی، انتھاپسندی کے تمام واقعات کی مذمت کرتی ہے اور اس متاثرہ خاندانوں، حکومتِ برطانیہ اور وہاں کی عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے لیے فٹ بال فیڈریشن آسٹریلیا نے کہا تھا کہ انھیں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ اس دوران سعودی عرب کے کھلاڑی فیلڈ میں پانی پوزیشز سھنبالیں گے۔

لیکن بہت سے آسٹریلیوی سیاست دانوں نے اس اقدام پر سعودی ٹیم پر تنقید کی ہے۔

ممبر پارلیمان اینتھونی ایلبانیس نے مقامی ٹی وی نائن نیٹ ورک سے گفتگو میں کہا ہے کہ 'یہ کلچر کے بارے میں نہیں، یہ تعظیم کی بات ہے اور میرے خیال سے یہ شرمناک ہے۔

یاد رہے کہ لندن میں چند دن قبل ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں دو آسٹریلوی باشندے بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں