’پھر وہ ایسا عامر بنا کہ پاکستان کو بچا لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دو ہزار دس کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں تین پاکستانی کرکٹرز پہ پابندی لگی تھی۔ تینوں بہترین پلئیرز تھے۔ سلمان بٹ بہت اچھے اوپنر تھے۔ انہی کی کپتانی میں پاکستان نے 15 سال بعد آسٹریلیا سے ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔ محمد آصف کی تباہ کن بولنگ تب تک اپنے جھنڈے گاڑ چکی تھی۔ عمران خان آج بھی کہتے ہیں کہ 2010 کا محمد آصف اسی انگلینڈ ٹور کے مین آف دی سیریز محمد عامر سے بہتر بولر تھا۔

اس سیریز میں محمد عامر کی جو کارکردگی تھی، اور کرئیر کے دوسرے ہی سال جس لیول کے انٹرنیشنل پلئیر وہ بن چکے تھے، ان پہ پابندی کی خبر نے دنیائے کرکٹ کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔جس طرح سے وہ ڈیوک بال کو سیم کرتے تھے، لوگ انھیں بجا طور پہ دوسرا وسیم اکرم کہنے لگے تھے۔

مائیکل ہولڈنگ سکرین پہ دنیا کے سامنے رو پڑے تھے۔ وسیم اکرم کے گرو عمران خان ہی نے یہ کہا تھا کہ اس عمر کے وسیم اکرم میں بھی اتنا ٹیلنٹ نہیں تھا۔

سرفراز کی عمدہ بیٹنگ، پاکستان سیمی فائنل میں

’محمد عامر کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے‘

جہاں عامر پہ اس قدر سوگ منایا جا رہا تھا، وہیں دو اور بہترین پلئیرز شدید نفرت کی زد میں تھے۔ کسی کو آصف کے تباہ کن سپیل یاد نہیں آ رہے تھے، کوئی یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ سعید انور کے بعد آنے والے بہترین اوپنر کو معاف کر دیا جائے۔ سب کو فکر تھی تو یہ کہ بس عامر کو کسی طرح بچا لیا جائے۔ کیونکہ شاید سب جانتے تھے کہ یہی وہ ٹیلنٹ ہے جو دہائیوں بعد کہیں دیکھنے کو ملتا ہے۔

محمد عامر کو ہر طرف سے ہمدردی ملی، پیار ملا، آئی سی سی نے بھی ذرا نرمی برتی، پی سی بی نے بھی بھرپور خیال رکھا، قوم کی تائید بھی حاصل رہی، سبھی نے دل سے معاف بھی کر دیا۔

خدا خدا کر کے پانچ سال کٹے اور بالآخر امیدوں کا پہاڑ اٹھائے محمد عامر واپس آ گئے اور قسمت کی خوبی دیکھیے کہ واپسی ہوئی بھی تو کہاں، وہیں جہاں سے دیس نکالا ملا تھا۔

لارڈز ٹیسٹ کا آغاز ہوا اور بلاوجہ پاکستان کی بیٹنگ آ گئی۔ کافی بے صبری سی ہوئی کہ عامر کو دیکھنے کے لیے ایک اور اننگز کاٹنا پڑے گی۔ ایک اور شب انتظار میں گزرے گی۔

بالآخر اگلے روز محمد عامر بولنگ کے لیے آئے۔ دنیا بھر کی نظریں جمی تھیں۔ انگلش کپتان الیسٹر کک سامنا کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

محمد عامر اپنے بولنگ مارک تک آئے، سانسیں رک گئیں۔ عامر نے رن اپ لیا، سبک رفتار قدموں سے دوڑنا شروع کیا، امیدوں کے دریچے کھل گئے۔ خدا خدا کر کے چند قدموں کا سفر کٹا اور چھ سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی کریز نے محمد عامر کو دیکھا۔

پہلی بال سوئنگ ہوئی مگر لینتھ کچھ بہتر نہیں تھی، سو کک کو سنگل لینے کا موقع مل گیا۔

ایلیکس ہیلز سامنے آئے۔

اس بار لائن ایسی عمدہ نہ تھی کہ ایلیکس ہیلز کو متاثر کر پاتی۔

تیسری گیند کی لائن اور لینتھ دونوں ہی مناسب نہ تھیں، اور ہیلز نے اسے اٹھا کر باونڈری پار پھینک دیا۔

اور خواب ٹوٹ گیا۔

پانچ سال سے ہم جس عامر کا سوگ منا رہے تھے، یہ وہ عامر نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بلاشبہ تب سے اب تک محدود اوورز میں عامر کی کارکردگی بہتر رہی مگر ٹیسٹ کرکٹ میں ہر سپیل کے ساتھ ان کا مستقبل مخدوش ہوتا رہا۔ تاآنکہ حالیہ ویسٹ انڈیز سیریز میں انھوں نے چھ وکٹیں لی اور امیدوں کے دیے کچھ روشن ہوئے۔

مگر اسی میچ کے بعد یہ سننے کو ملا کہ عامر اپنے لمیٹڈ اوورز کرئیر کو طول دینے کے لیے ٹیسٹ سے کنارہ کشی کا سوچ رہے ہیں۔ یہ بات شاید اس تلخ حقیقت کا ادراک تھا جو جانتے تو سبھی تھے مگرکہنا کوئی نہیں چاہتا تھا۔

اس میں شبہ نہیں کہ عامر کے بے شمار کیچز ڈراپ ہوئے اور لوگوں نے انہیں اس جواز سے سپورٹ بھی کیا۔ مگر پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کیچز نے بھی ڈراپ ہونا چھوڑ دیا اور وکٹوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔

ایسا نہیں کہ عامر نے محنت نہیں کی، انھوں نے توقعات پہ پورا اترنے کے لیے بھرپور جان ماری۔ مگر اس تلخ حقیقت کا ادراک کوئی نہ کر پایا کہ ایک فاسٹ بولر جب پانچ سال کی پابندی کے بعد لوٹتا ہے تو اس بیچ کتنے موسم گزر چکے ہوتے ہیں، کتنی رتیں بدل چکی ہوتی ہیں۔

وہ فقط اپنے ٹیلنٹ کے بل پہ زندہ نہیں رہ سکتا، اسے خاموشی سے محنت کرنا ہوتی ہے، سر جھکا کر، اپنے ٹیلنٹ کو پیچھے رکھ کر ایک نئے کرئیر کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ مگر عامر کو وہ خاموشی نہیں ملی اور جس شور کا انہیں سامنا تھا، وہ اپنے تئیں اسے جواب دینے کی کوششیں کرتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پھرشور تھم گیا، دھند چھٹنے لگی، تو عامر کو ادراک ہوا اور سر جھکا کر محنت کرنے کا خیال آیا۔

اور آج اس محنت کا ثمر یہ ہوا کہ آٹھویں نمبر کی ٹیم، جس نے رینگ رینگ کے کوالیفائی کیا تھا، آج چیمپئینز ٹرافی کے سیمی فائنلسٹس میں کھڑی ہے۔ یہ وہ حد ہے جہاں سے ماڈرن ون ڈے کی تین بہترین ٹیمیں باہر ہو چکی ہیں۔

پاکستان چاہے پہلے بیٹنگ کرتا یا بعد میں، پاکستان کو یہ میچ جیتنے کے لیے صرف اینجلو میتھیوز کی وکٹ چاہیے تھی جو صرف ٹیم کی کپتانی کرنے کے لیے اپنا ٹیم بیلنس بدلنے پہ مجبور تھے۔

ابتدائی وکٹیں کھونے کے بعد جب سری لنکا کا اعتماد بکھر چکا تھا تب میتھیوز نے آ کر اننگز کو سنبھالا دیا اور ایک اچھی پارٹنرشپ لگائی۔ سری لنکا پھر سے اٹھنے لگا۔

اگر میتھیوز وہاں دس اوور اور کھڑے رہتے تو یقیناً میچ لے جاتے۔ وہ ذہنی طور پہ پختہ کپتان نہ سہی مگر پچھلے دو سال میں جہاں انجریز نے ان کی بولنگ کو زک پہنچائی ہے، وہیں انکی بیٹنگ میں حیران کن پختگی بھی آ چکی ہے۔ انھیں اس موقع پہ آؤٹ کرنے کے لیے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں تھا، ذہنی پختگی بھی درکار تھی۔

اور پھر، جس عامر کو پاکستان چھ سال سے بچاتا آ رہا تھا، وہ ایسا عامر بنا کہ اس نے پاکستان کو بچا لیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں