چیمپیئنز ٹرافی: ’رمضان بھی ہے، دعائیں بھی ہیں اور امیدیں تو ہیں ہی!‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرکٹ اور قسمت کا رشتہ بہت حد تک انصاف پہ مبنی ہے۔ کبھی کبھی ٹیلنٹ ضرور بازی لے جاتا ہے، مگر دوام صرف محنت کو ہی ہے۔ ہر روز تیز ترین سینچری نہیں بنتی، ہر روز بہترین سپیل نہیں پھینکا جاتا۔

کرکٹ اور پاکستان کا رشتہ امید، خوف اور بے یقینی کے اردگرد کسی نامعلوم احساس سے جڑا ہے۔ یہ ٹیم خدشات کو شکست دینا جانتی ہے اور یہی ٹیم امیدوں کو ویران بھی کیا کرتی ہے اور بہت بار کرتی ہے۔

٭ کیا پاکستانی بولنگ انگلینڈ کو روک سکے گی؟

٭ ’پھر وہ ایسا عامر بنا کہ پاکستان کو بچا لیا‘

کسی کو امید بھی تھی کہ ایک نئے کپتان کی یہ اوسط سی ٹیم چیمپیئنز ٹرافی کے اگلے مرحلے تک پہنچ پائے گی؟ مگر اسی ٹیم نے نمبر ون کو ہرایا۔ ایک اعصاب شکن مقابلہ جیتا اور اب یہ ٹیم وہاں کھڑی ہے جہاں تک رسائی شاید سرفراز احمد نے بھی نہ سوچی تھی۔

یہ یقین نہیں، بے یقینی کی کیفیت ہے۔ یہی کیفیت اعتماد بھی پیدا کر سکتی ہے اور یہی احساس خوف کو بھی جنم دے سکتا ہے۔

فیصلہ سرفراز کو کرنا ہے۔

سرفراز احمد اپنی کپتانی کے بالکل آغاز میں ہی ایک گلوبل ایونٹ کے سیمی فائنلسٹ بن چکے ہیں۔ جو کام سٹیون سمتھ، کین ولیمسن اور اے بی ڈی ویلئیرز نہ کر سکے، وہ صرف ایک سیریز کے تجربے والے سرفراز نے کر دکھایا۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ سرفراز احمد میں کتنا حوصلہ باقی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیونکہ انگلینڈ کو ہرانے کے لیے ہمت سے کہیں زیادہ حوصلے کی ضرورت ہے۔

رمضان کی برکت اپنی جگہ لیکن پچھلے میچ میں سرفراز احمد کی اننگز حوصلے سے کوسوں دور تھی۔ تین رن آوٹ چانسز پیدا کیے، ڈھائی کے لگ بھگ کیچز تخلیق کیے اور یہ سب تب ہوا جب مطلوبہ رن ریٹ چار سے بھی کم تھا۔ میچ بلاشبہ انھوں نے ہی جتوایا مگر ان کی اننگز انہی غلطیوں سے لبریز تھی جو باقی سینیئرز نے کیں۔

فی الوقت مسئلہ یہ ہے کہ دو شعبوں میں جونئیرز سینئیرز کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور سینیئرز کی فارم اچانک ابھر نہیں پا رہی۔ بیٹنگ آرڈر کا نقطہ نظر کیا ہے، یہ سجھائی نہیں دے رہا۔

اگر اوپننگ میں ایگریشن چاہیے تو اظہر علی اوپن کیوں کر رہے ہیں؟ اگر مڈل آرڈر فیل ہو رہا ہے تو اظہر مڈل آرڈر میں کیوں نہیں آ رہے؟ محمد حفیظ سالہا سال کے تجربے کے باوجود اتنے اہم ٹورنامنٹ میں اوپن کیوں نہیں کر سکتے؟

بولنگ اٹیک مگر اپنے جوبن پہ ہے۔ جونئیرز سینیئرز کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ سینیئرز بھرپور سپورٹ کر رہے ہیں۔ ٹیم کا توازن درست نہ سہی، کم از کم سمت میں بہتری ضرور ہے اور دو اہم ترین میچ جیتنے کے بعد مورال بھی آسمان پہ ہے۔

انگلینڈ ناقابل شکست ہے۔

پاکستان ناقابل یقین ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

انگلینڈ نے جونی بئیرسٹو کو اوپننگ پہ لانے کا عندیہ دیا ہے، پاکستان اپنا سپن اٹیک پھر سے پلان کرے گا؟

پاکستان کا مڈل آرڈر ابھی تک سب سے بڑی خامی ثابت ہوا ہے۔ ایسے میں مڈل اوورز میں بین سٹوکس سے کون نمٹے گا؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ کارڈف کی اس استعمال شدہ وکٹ پہ شاداب خان کھیلے گا یا نہیں؟

منحصر اس پہ ہے کہ آج پاکستان ان سوالوں کے کیا جواب لاتا ہے۔

باقی، رمضان بھی ہے، دعائیں بھی ہیں اور امیدیں تو ہیں ہی!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں