پاکستان شاندار انداز میں پہلی بار چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچ گیا

حسن علی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حسن علی نے ایک بار پھر عمدہ بولنگ کی

پاکستان شاندار انداز میں انگلینڈ کی ٹیم کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچ گیا ہے۔

چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان فائنل کھیلنے کا اعزاز پہلی مرتبہ حاصل کر رہا ہے۔

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: میچ کی لائیو کوریج

٭ پاکستان چیمپیئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں فاتح

٭ جیسے پاکستانی شائقین دلہن لینے آئے ہوں۔۔۔

٭ انگلینڈ ناقابل شکست، پاکستان ناقابل یقین

پاکستان سیمی فائنل میں انگلینڈ سے جیت جائے گا اور وہ بھی اتنی آسانی سے۔ منگل کی شام تک کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

انڈیا کی ٹیم سے شکست کے بعد پاکستان کی ٹیم کو تو تقریباً ’رائٹ آف‘ ہی کر دیا گیا تھا۔

سابق پاکستانی کپتان رمیز راجہ کہ مطابق یہ صرف پاکستان کی ٹیم ہی ہے جو اتنی جلد اپنے آپ کو تبدیل کر کے دنیا کو حیران کر سکتی ہے۔

پاکستان اس سے قبل تین مرتبہ سیمی فائنل کھیل چکا ہے لیکن کبھی فائنل میں نہیں پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی بولرز نے انگلش بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے نہیں دیا

کارڈف میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں پاکستان نے اپنی اننگز کا آغاز بڑے پر اعتماد انداز میں کیا اور پہلے آٹھ اوور میں سکور بورڈ پر 35 کا ہندسہ ٹوٹل کے سامنے نظر آنے لگا۔

انگلینڈ کے بولر خاص طور پر وڈ بہت نپی تلی اور جارحانہ بولنگ کر رہے تھے اور چھٹے اوور کی پہلی تین گیندوں پر انھوں نے آف سٹمپ پر جس انداز میں اظہر علی کو بیٹ کیا اس سے ایک لمحے کو پاکستانی کیمپ میں پریشانی تو ضرور ہوئی ہو گی۔

دوسری طرف فخر زمان بڑے اطمینان سے بیٹنگ کر رہے تھے۔ وڈ نے آٹھویں اوور میں فخر کو ایک شاٹ بال کی جسے انھوں نے بڑی خوبصورتی سے باؤنڈری کی راہ دکھائی۔

بولروں اور بلے بازوں کی اس کشمکش میں اگلی بال وڈ نے دوبارہ شاٹ کرائی لیکن فخر نے آخری لمحے پر اسے چھوڑ دیا۔ وڈ ہاتھ آدھے ہوا میں بلند کیے اور اس کے بعد سر جھکا کر اگلی بال کرانے چلے پڑے۔

پہلے دس اوور کے اختتام پر پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 49 رن بنالیے تھے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فخر نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی

دس اوور کے بعد انگلینڈ نے بولنگ میں پہلی تبدیلی کی اور وڈ کی جگہ بین سٹوکس گیند کرنے آئے۔ سٹوکس کے اوور کی چوتھی گیند پر اظہر علی نے لانگ لیگ کی طرف زور دار چوکا لگایا۔ عادل رشید لانگ لیگ پر فیلڈ کر رہے تھے لیکن وہ بال تک نہیں پہنچ سکے اور بال چشمِ زدن میں باؤنڈری لائن پار کر گئی۔

12ویں اوور کی پہلی گیند سٹوکس نے شارٹ بال کرائی جس کو اظہر علی نے ہک کیا اور بال باؤنڈری لائن کے پار جا کر گری۔ اس اوور میں سٹوکس نے ایک وائڈ بال کرائی اور اس سے اگلی گیند پر اظہر علی نے پوائنٹ پر زبردست چوکا لگایا جہاں بیرسٹو بھاگتے ہی رہ گئے اور گیند باؤنڈری پار چلی گئی۔

بارہویں اوور کے بعد انگلینڈ نے ایک اور تبدیلی کی اور مورگن نے پلنکٹ کو بالنگ کے لیے بلایا۔ پلنکٹ کی تیسری گیند لیگ سائڈ پر تھی اس کو فخر نے لانگ لیگ کی راہ دکھائی اور گیند باؤنڈری لائن پار ہو گئی۔

14ویں اوور کے اختتام پر پاکستان کے بلے بازوں نے بغیر کسی نقصان کے 81 رن بنا لیے جو ستمبر 2010 کے بعد سے انگلینڈ کے خلاف پاکستان کا اوپنگ پارٹنرشپ میں سب سے بڑا سکور تھا۔

15ویں اوور میں بولنگ میں ایک اور تبدیلی کی گئی اور عادل رشید کو مورگن نے بولنگ کرنے کو کہا۔

17ویں اوور کی آخری گیند پر فخر نے پلنکٹ کو زبردست چوکا لگایا۔

انگلینڈ کی بولنگ بالکل معمولی نظر آ رہی تھی اور ابھی تک پاکستانی اوپنر بغیر کسی پریشانی کے کھیل رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اظہر اور فخر نے پاکستان کی کی جیت کی بنیاد رکھی

فخر زمان نے 18ویں اوور میں اپنی نصف سنچری مکمل کی جو ان کی اس ٹورنامنٹ میں دوسری نصف سنچری تھی۔ انگلینڈ کے خلاف انھوں نے اپنی نصف سنچری 49 گیندوں پر مکمل کی۔

19ویں اوور میں بالنگ میں ایک اور تبدیلی ہوئی اور معین علی کو گیند کرنے کے لیے بلایا گیا۔

پاکستان نے اس اوور کی دوسری گیند پر اپنی سنچری مکمل کی۔ اس سنچری میں دو چھکے اور پانچ چوکے بھی شامل تھے۔ انگلینڈ کی اننگز کوئی چھکا نہیں لگا تھا۔

اس اوور کی آخری گیند پر فخر نے تھوڑی سے وکٹیں چھوڑیں اور معین علی کی گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھائی۔

20ویں اوور میں دوبارہ وڈ کو بولنگ ملی اور انھوں نے اظہر علی کو ایک مرتبہ پھر پہلی تین گیندوں پر بیٹ کیا۔

21ویں اوور میں عادل رشید کو ٹف ریور اینڈ سے بالنگ کے لیے بلایا گیا۔

اظہر علی نے 21ویں اوور میں وڈ کی پہلی گیند پر چوکا لگا کر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اظہر علی نے انڈیا کے خلاف میچ میں بھی نصف سنچری سکور کی تھی۔ انگلینڈ کے خلاف یہ ان کی چوتھی نصف سنچری تھی۔

وڈ کے اس اوور میں فخر کے خلاف وکٹ کے پیچھے کیچ کی اپیل ہوئی اور اس مرتبہ مورگن نے تھرڈ ایمپائر سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ٹی وی ری پلے میں گیند فخر کے بلے کے بجائے ان کی کمر کو چھو کر وکٹ کیپر کے پاس گئی تھی۔

فخر زمان اس کے اگلے ہی اوور میں عادل رشید کی گیند پر بیٹ ہوئے اور کیپر نے انھیں سٹمپ کر دیا۔

فخر زمان 57 رنز بناکر آوٹ ہوئے انھوں نے یہ رنز 58 گیندوں پر بنائے ۔ انھوں نے اپنی اننگز میں سات چوکے لگائے۔

فخر زمان کے بعد بابر اعظم کھیلنے آئے اور پہلی ہی گیند پر ایک رن بنا کر اپنا کھاتا کھولا۔

23ویں اوور میں بابر اعظم نے دو تین قدم باہر نکل کر عادل رشید کو لانگ آن پر چھکاجڑ دیا۔ یہ پاکستان کی اننگز کا تیسرا چھکا تھا۔

25ویں اوور کے ختم ہونے پر پاکستان نے142 رن بنا لیے تھے اور اسے میچ جیتنے کے لیے 212 رن بنانے تھے۔

ستائس واں اوور جب ختم ہوئے تو پاکستان کا سکور ایک سو باون پر پہنچ گیا تھا اور اس کا صرف ایک کھلاڑی آؤٹ ہوا تھا۔

پاکستان کی 50 رن کی دوسری شراکت بابر اعظم اور اظہر علی کے درمیان ہوئی۔ یہ نصف سنچری انھوں نے انسٹھ گیندوں پر بنائی جس میں ایک چھکا اور دو چوکے بھی شامل تھے۔

اظہر علی 32 ویں اوور میں وڈ کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان نے اپنے 200 رن بابر اعظم کے ایک شاندار چوکے سے مکمل کیے اور یہ 35 واں اوور ہی تھا۔

معین علی نے انگلینڈ کی طرف سے 37واں اوور کرایا جس میں دو زبردست چوکے لگے اور اس کے بعد حفیظ نے دوڑ کر رن بنایا اور یوں پاکستان نے انگلینڈ کا سکور برابر کر دیا۔

وننگ شاٹ حفیظ کے حصے ہی میں آئی اور انھوں نے چوکا لگایا اور جیت پاکستان کی ہو گئی۔

برمنگھم میں جمعرات کو بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان دوسرا سیمی فائنل کھیلا جانا ہے اور اگر اس میں وراٹ کوہلی کی ٹیم بنگال کے شیروں کو ہرانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ پہلا موقع ہو گا کہ پاکستان اور انڈیا، دو روایتی حریف اور ہمسائے ایک روزہ کرکٹ کے کسی بین الاقوامی ٹورنامنٹ کے فائنل میں آمنے سامنے ہوں گے۔

دوسری طرف اگر بنگلہ دیش نے کامیابی حاصل کر لی تو یہ بھی ان کا کسی ٹورنامنٹ میں پہلا فائنل ہو گا۔ بنگلہ دیش کی ٹیم چیمپیئنز ٹرافی کا سیمی فائنل بھی پہلی مرتبہ کھیلے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں