’اور سرفراز مسکرا رہے تھے‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سرفراز احمد کی نظریں جھکی ہوئی تھی، دستانوں میں چھپے چہرے سے مایوسی ٹپک رہی تھی، آنکھوں میں انتظار تھا تو یہ کہ کسی طرح انڈیا کی اننگز تمام ہو جائے۔

حالانکہ انھیں یقین تھا کہ عماد وسیم کی گیند پانڈیا کے بلے کو چھو کر انہی کے ہاتھ میں آئے گی۔ مگر پانڈیا نے پیچھے ہٹ کر زور سے اپنا بلا گھمایا اور گیند لانگ آف باؤنڈری کے پار تماشائیوں میں جا گری۔

انڈیا 300 سکور کر چکا تھا، دو فاسٹ بولر ڈیتھ اوورز میں زخمی ہو کر ڈریسنگ روم لوٹ چکے تھے اور چاروناچار عماد وسیم آخری اوور پھینک رہے تھے۔

اور پاکستان تمام تر جارحانہ پن کے باوجود اپنا پہلا میچ ہار چکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرکٹ میں ہار جیت معمول کی بات ہے مگر اس حقیقت کے ادراک اور پاکستانی قوم کی حسیات میں فاصلہ کافی زیادہ ہے اور اگر یہ ہار انڈیا سے ہو تو دماغ یکسر ماؤف ہو جاتے ہیں، دنیا ویران ہو جاتی ہے اور سکرین پہ طوفان برپا ہو جاتا ہے۔

اول تو اس ٹیم سے امید ہی نہ تھی کہ یہ چیمپیئنز ٹرافی کے اگلے مرحلے تک بھی پہنچ پائے گی اور پھر انڈیا سے ہار تو سونے پہ سہاگہ ہوئی۔

کسی کو اگر کوئی گمان تھا بھی تو پہلے ہی میچ کے بعد دھند چھٹ گئی۔ سرفراز شدید تنقید کی زد میں تھے، مکی آرتھر کی منصوبہ بندی پر سوال اٹھ رہے تھے، بولنگ کوچ کے وجود پہ چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔

اس بیچ کون یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ گری پڑی ٹیم ون ڈے رینکنگ کی پہلی ٹیم کو ہرا دے گی۔ مگر پاکستان اور بارش نے مل کر جنوبی افریقہ کو ہرا دیا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ بھئی اب ایسی بارشیں روز تو ہونے سے رہیں۔

سری لنکا کے خلاف میچ میں جانے سے پہلے سبھی کے لیے سری لنکا فیورٹ تھا۔ ان کی بولنگ بہتر تھی۔ بیٹنگ پچھلے ہی میچ میں انڈیا کے خلاف سوا تین سو کا تعاقب کر چکی تھی اور یہ وہ انڈیا تھا جس سے پاکستان ہار چکا تھا۔ یہ پاکستان سری لنکا کو کیسے ہرا سکتا تھا؟

لیکن اسی پاکستان نے سری لنکا کو ہرا دیا اور آٹھ سال بعد چیمپیئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پچھلے ڈیڑھ دو سال میں پاکستان کی بولنگ شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔ اسی اٹیک کے خلاف ون ڈے کی تاریخ کا سب سے بڑا سکور ہوا۔

دو ٹیسٹ سیریز کلین سویپ ہوئیں۔ بنگلہ دیش سے بھی ون ڈے میں کلین سویپ کا سامنا ہوا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہی بولنگ اٹیک جو کبھی مصباح کے ہوتے ہوئے 220 رنز کا دفاع بھی کر لیا کرتا تھا، اب شاید کبھی 320 کو روک نہیں پائے گا۔

اس پہ ستم یہ کہ بیٹنگ نے تو کبھی بھی اس ٹیم کو اطمینان سے بیٹھنے ہی نہیں دیا۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑی الجھن یہ تھی کہ کس حکمت عملی سے ون ڈے کرکٹ میں آگے بڑھا جائے۔ جدید ون ڈے میں تو تین سو رنز معمول کی بات ہے۔ دونوں اینڈ سے نئی گیند پھینکی جاتی ہے۔ بیٹ کے سائز بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاورپلے کے قوانین بھی سبھی بلے بازوں کے مددگار ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود پاکستانی بیٹنگ کے لیے 300 کا ہندسہ ابھی تک ناقابل تسخیر ہے۔

ایسے میں بولرز کو دوش دینا بھی قدرے زیادتی ہے۔

لیکن اس عالمی مقابلے میں آگے بڑھتے بڑھتے پاکستان نے حصوں بخروں میں بٹ کر بوجھ بانٹنے کی بجائے ایک یونٹ بن کر کھیلنا سیکھ لیا ہے۔

بولرز کو سمجھ آ گئی ہے کہ ہماری بیٹنگ 250 سے زیادہ کا تعاقب نہیں کر پاتی، وہ بولنگ جو انڈیا کے سامنے منتشر دکھائی دے رہی تھی، اس نے پچھلے تین میچز میں 30 وکٹیں لی ہیں۔

یہی نہیں فیلڈنگ یونٹ نے بھی پورا پورا حصہ ڈالا ہے کہ صرف دس وکٹیں ہی کافی نہیں، سکور بورڈ کو بھی نیچے رکھنا ہے اور آج بیٹنگ نے بھی اپنے حصے کا بوجھ خوب اٹھایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اظہر علی کریز سے باہر نکلے، وہ سپن کے خلاف کھیلنا چاہتے تھے مگر گیند ان کے بلے کو مس کر کے جوس بٹلر کے ہاتھوں میں گئی۔ اوئن مورگن کے ہاتھ یکایک فضا میں بلند ہوئے اور ایک زوردار اپیل گونجی۔ مگر اظہر کا پاؤں کریز میں ہی جما ہوا تھا۔

سرفراز اپنی نشست میں جمے ہوئے تھے۔

مکی آرتھر کے چہرے پہ سکون تھا۔

اظہر محمود حسن علی کے ساتھ خوش گپیوں میں مگن تھے۔

پاکستان اس گلوبل ایونٹ کی ایک اور فیورٹ ٹیم کو ہرا چکا تھا۔

یہ ٹیم تاریخ رقم کر چکی تھی۔

اور سرفراز مسکرا رہے تھے۔

اسی بارے میں