پاکستان کے لیے طویل عرصے تک کھیلنا چاہتا ہوں: فہیم اشرف

فہیم اشرف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فہیم اشرف اس سے قبل چیمپئنز ٹرافی کے وارم اپ میچ میں بنگلہ دیشی بولنگ پر خوب برسے تھے

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں حسن علی، فخر زمان، شاداب خان، رومان رئیس اور فہیم اشرف جس طرح ابھر کر سامنے آئے ہیں مبصرین اور ماہرین یہ کہہ رہے ہیں یہی کھلاڑی دراصل پاکستانی کرکٹ کا روشن مستقبل ہیں۔

فہیم اشرف کو اگرچہ ابھی تک صرف ایک میچ کھیلنے کا موقع ملا ہے لیکن اس 23 سالہ نوجوان نے اپنے ٹیلنٹ کی جھلک ضرور دکھائی ہے۔

٭ پاکستان کی جیت اور نوجوان کھلاڑی

سری لنکا کے خلاف میچ میں فہیم اشرف نے دو وکٹیں حاصل کیں جن میں دنیش چندی مل کا صفر پر بولڈ بھی شامل تھا۔

بولنگ کے بعد جب پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی تھی تو سرفرازاحمد اور محمد عامر کی میچ وننگ شراکت سے پہلے سری لنکن بولنگ کو فہیم اشرف کے ایک چھکے اور ایک چوکے نے بری طرح جھنجھوڑ دیا تھا۔

فہیم اشرف اس سے قبل چیمپئنز ٹرافی کے وارم اپ میچ میں بنگلہ دیشی بولنگ پر خوب برسے تھے اور ان کے صرف 30 گیندوں پر چار چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے بنائے گئے ناقابل شکست 64 رنز اور حسن علی کے ساتھ 93 رنز کی شراکت نے پاکستانی ٹیم کو 342 رنز کا ہدف عبور کرا دیا تھا۔

فہیم اشرف کی یہ مختصر جھلک دراصل ان کے باصلاحیت ہونے کا پتہ دینے کے ساتھ ساتھ ٹی وی چینلز پر بیٹھے ان سابق ٹیسٹ کرکٹرز کو بھی بھرپور جواب ہے جنہوں نے ان کے سلیکشن پر سخت اعتراضات کرتے ہوئے انہیں سفارشی کرکٹر قرار دینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی تھی اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مبینہ طور پر ایک سلیکٹر کا ’ہم علاقہ‘ ہونے کی وجہ سے انہیں پاکستانی ٹیم میں جگہ ملی ہے۔

فہیم اشرف نے بی بی سی اردو کو دیے انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان کی طرف سے کھیلنا ان کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہے۔

’میں جب دوسرے کرکٹرز کو کھیلتا دیکھتا تھا تو میرے دل میں بھی یہی خواہش ہوتی تھی کہ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کروں اور اللہ نے یہ خواہش پوری کر دی ہے لیکن یہ ابھی ابتدا ہے کیونکہ میں طویل عرصے تک پاکستان کی طرف سے کھیلنا چاہتا ہوں۔‘

فہیم اشرف کو سری لنکا کے خلاف رن آؤٹ ہونے کا بہت افسوس ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’جو صورتحال تھی اس میں یہی سوچ رہا تھا کہ ایک اچھی پارٹنرشپ ہمیں میچ جتوادے گی۔ میں اعتماد سے کھیل رہا تھا اور جب آپ کے ایک دو شاٹس اچھے لگ جاتے ہیں تو آپ پر سے دباؤ دور ہو جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے میں رن آؤٹ ہو گیا جس کا مجھے بہت افسوس رہے گا لیکن خوشی اس بات کی تھی کہ ہم میچ جیت گئے۔‘

آپ ایک اچھے بیٹسمین ہیں یا اچھے بولر؟ اس سوال پر فہیم اشرف نے بڑی سادگی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو انہیں بھی نہیں معلوم۔

’جب میں انڈر 19 کرکٹ کھیلتا تھا تو بہترین بیٹسمین رہا تھا اس کے بعد اپنے پہلے ہی فرسٹ کلاس میچ میں سنچری بنائی تھی۔ جبکہ اس سال میں نے ڈپارٹمنٹل ون ڈے کپ میں حبیب بینک کی طرف سے کھیلتے ہوئے سب سے زیادہ 19 وکٹیں حاصل کیں۔ دراصل میری کوشش ہوتی ہے کہ دونوں شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کروں۔‘

فہیم اشرف کا تعلق قصور سے ہے جہاں انھوں نے انڈر 19 کرکٹ کھیلی اور پھر فیصل آباد ریجن کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ادارتی کرکٹ میں وہ حبیب بینک کی نمائندگی کرتے ہیں۔

’میرے کلب کے شکیل شاہ صاحب نے میری ہر ممکن حوصلہ افزائی کی۔ گھر والے مجھے کھیلنے نہیں دیتے تھے لیکن شاہ صاحب نے میرے والد سے کہا کہ فہیم میں ٹیلنٹ ہے اسے نہ روکیں۔ ان کے علاوہ میری کرکٹ میں انڈر نائنٹین کے کوچ تنویر شوکت کا کردار بھی بہت اہم رہا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں