پاکستانی ٹیم چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں سرپرائز دے سکتی ہے

کرکٹ، پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان فائنل میں سرپرائز دے سکتا ہے

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سنہ 2017 کا فائنل اور مدِمقابل ہیں کرکٹ کے کھیل کے لیے دو جنونی ہمسائے انڈیا اور پاکستان۔ یہ شائقینِ کرکٹ کا ایک ایسا خواب ہے جو لندن کے اوول کرکٹ گروانڈ پر اس اتوار کو پورا ہونے جا رہا ہے۔

یہ خواب صرف کرکٹ کا شوق رکھنے والوں کا ہی خواب نہیں ہے بلکہ ان اداروں، تجارتی اور اشتہاری کمپنیوں اور ٹی وی چینلوں کا بھی خواب ہے جن کا اس کھیل سے مالی مفاد وابستہ ہے۔

پاکستان پہلی بار چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچ گیا

’یہ گرجنے والا پاکستان نہیں تھا‘

کھیل میں جو بھی جیتے یا ہارے ان اداروں اشتہاری کمپنیوں اور ٹی چینلوں کو تو منافع سے غرض ہے لیکن دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین کے لیے یہ کسی جان کی بازی سے کم نہیں۔

دونوں ٹیموں کی اگر موجودہ آئی سی سی رینکنگ، حالیہ برسوں میں ٹیموں کی کارکردگی، بین الاقوامی مقابلوں میں ٹیموں کا ریکارڈ، دونوں ملکوں میں کرکٹ کے کھیل کی صورت حال، بلے بازوں کی اوسط اور کھلاڑیوں کا تجربہ دیکھیں تو کاعذ پر ٹیم انڈیا پاکستان سے کہیں آگے نظر آئے گی۔

کھلاڑیوں کی عمروں کے اعتبار سے پاکستانی ٹیم اس لحاظ سے بہتر ہے کہ وہ نسبتاً نوجوان ٹیم ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی اوسط عمر انڈین کھلاڑیوں کی اوسط عمر کے مقابلے میں ایک سال کم ہے۔ انڈیا کی ٹیم کی اوسط عمر 29 سال جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں کی اوسط عمر 28 سال بنتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان ٹیم میں نئے شامل ہونے والے کھلاڑی، فخر زمان، فہیم اشرف، شاداب، حسن علی اور رومان ریئس وہ نیا خون ہے جس نے ٹیم کا رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور طور اطور بدل کر رکھ دیے ہیں۔

یہی نوجوان کھلاڑی پاکستانی ٹیم کی رگوں میں دوڑتا ہوا جوان اورگرم خون ہے جو کسی بھی ٹیم کو راکھ کی طرح اڑا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ویراٹ کوہلی اس ٹورنامنٹ میں اس اعزاز کا دفاع کرنے آئے ہیں جبکہ سرفراز نہ صرف خود کسی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کپتانی پہلی مرتبہ کر رہے ہیں بلکہ پاکستانی ٹیم بھی پہلی مرتبہ چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچی ہے۔

یکم جون سے شروع ہونے والے ان مقابلوں میں انڈیا کی ٹیم سوائے سری لنکا کے اپنے مدمقابل باقی تین ٹیموں کو پراعتماد انداز میں ہرا کر فائنل تک پہنچی ہے۔

جبکہ پاکستان اپنا پہلا ہی میچ انڈیا کے خلاف بری طرح ہار کر لڑکھڑاتی اور ڈگمگاتی ہوئی سیمی فائنل میں پہنچی لیکن سیمی فائنل میں پاکستان کی ٹیم نے ’چنگھاڑتے شیر‘ اور سیمی فائنل تک ناقابلِ شکست رہنے والی ٹیم انگلینڈ کو چت کر کے یہ میچ اپنے نام کیا۔

پاکستانی شائقین کی امیدیں اور اپنی ٹیم سے توقعات اور دعائیں ایک طرف لیکن کرکٹ مبصرین بھی پاکستان کی ٹیم کو ’رائٹ آف‘ نہیں کر رہے۔ بلکہ مبصرین کے خیال میں پاکستان کی ٹیم سرپرائز دینے کی پوری صلاحیت اور اہلیت رکھتی ہے۔

کرکٹ کی دنیا کے عظیم بلے باز برائن لارا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کی ٹیم پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حیران کر سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک ایسی ٹیم جسے ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے کوئی کسی گنتی میں نہیں لا رہا تھا۔

لیکن پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں اور خاص طور پر بولروں نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس سے مبصرین ششدر رہ گئے۔

پاکستان کے نوجوان بولروں کے بارے میں رمیز راجہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ تمام ٹیموں میں صرف پاکستانی بولر گیند کو ریورس سوئنگ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے حسن علی اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ دس وکٹیں لینے والے کھلاڑی بن گئے ہیں اور ان کی آئی سی سی رینکنگ بھی بہت بہتر ہو گئی ہے۔

سری لنکا، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف تینوں میچوں میں حسن علی نے تین تین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ ان تینوں میچوں میں ان کی رن دینے کی اوسط بھی انتہائی قابل اطمینان رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

محمد عامر جو کمر میں تکلیف کے باعث سیمی فائنل نہیں کھیل سکے انڈیا کے خلاف انتہائی کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ انڈین بلے بازوں کے بلے ایجبسٹن سٹیڈیم میں جب شعلے اگل رہے تھے اس وقت بھی عامر نے آٹھ اووروں میں صرف 32 رن دیے تھے۔

جنید خان جب آخری مرتبہ انڈیا کے خلاف انڈیا میں ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلے تھے تو انڈیا کی بے جان وکٹوں پر بھی انھوں نے تین مرتبہ ویراٹ کوہلی کو آوٹ کیا تھا۔

اس ٹورنامنٹ کے گروپ میچوں میں پاکستان کے بولروں نے دسویں اور چالیسویں اوور کے درمیان 16 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا اور ان کے رن دینے کی اوسط صرف چار اعشاریہ چار سات فیصد رہی۔

انگلینڈ کے بلے باز جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بولروں کی درگت بنا کر سیمی فائنل میں پہنچے تھے پاکستان کے بولنگ اٹیک کے سامنے بالکل بےبس نظر آئے اور 30ویں اور 40ویں اوور کے درمیان صرف 28 رن بنا سکے۔

اب ذرا اس ٹورنامنٹ میں بھارتی بولروں کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو سری لنکا کے خلاف انڈیا جو میچ ہار گیا تھا اس میں انڈیا کے بولر صرف ایک وکٹ لے پائے تھے جبکہ دو کھلاڑی رن آوٹ ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سری لنکا کا انڈیا کے خلاف تین سو سے زیادہ کا ہدف باآسانی حاصل کر لینا انڈیا کے بولنگ اٹیک کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

بیٹنگ کی بات کی جائے تو انڈیا کے بلے بازوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اور بلاشبہ وہ اپنی فارم میں ہیں اور روہت شرما نے جہاں سیمی فائنل میں سنچری سکور کی ویراٹ کوہلی بھی ایک روزہ میچوں میں اپنی 28ویں سنچری کے قریب پہنچ گئے تھے۔

شیکھر دھون بھی ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بنا کر بھرپور فارم میں ہیں۔

پاکستان کی ٹیم کے بلے بازوں کا نہ صرف اس ٹورنامنٹ بلکہ اس سے پہلے بھی انڈیا کے بلے بازوں کے مقابلے میں ریکارڈ کہیں کم ہے۔

لیکن پاکستان کے نوجوان بلے باز اور مستقبل کی امید فخر زمان جن کا کریئر ہی اسی ٹورنامنٹ سے شروع ہوا ہے اب تک تین میچوں میں دو نصف سنچریاں سکور کر چکے ہیں۔ ان کا سٹرائیک ریٹ سو سے زیادہ ہے۔

پاکستان اور انڈیا کا فائنل اوول کے میدان میں ہونا ہے جہاں انڈیا گروپ سٹیج پر دو میچ کھیل چکا ہے جب کہ پاکستان اس ٹورنامنٹ میں اب تک کوئی میچ اوول میں نہیں کھیلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اب تک ہونے والی چییمپیئنز ٹرافی کے میچوں پر نظر ڈالی جائے تو بھی انڈیا کی پوزیشن بہتر نظر آتی ہے۔

اس ٹورنامنٹ سے پہلے انڈیا نے چیمپئنز ٹرافی کے 23 میچ کھیلے جن میں اسے 18 میں کامیابی حاصل ہوئی اور یوں اس کی جیت کی شرح 70 فیصد سے زیادہ رہی جبکہ دوسری طرف پاکستان نے 18 میچ کھیلے اور صرف سات میں کامیاب رہا۔ اس طرح پاکستان کے جیتنے کی شرح 39 فیصد ہے۔

کرکٹ میں اکثر اعداد و شمار اور ماضی کے ریکارڈ بےمعنی ہو جاتے ہیں جیسے اس ٹورنامنٹ میں آئی سی سی کی رینکنگ بالکل بے معنی ہو گئی۔

رینکنگ میں پہلے، تیسرے اور پانچویں نمبر کی ٹیمیں جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ گروپ کے میچوں سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ رینکنگ میں چوتھے نمبر پر موجود ٹیم، انگلینڈ سیمی فائنل میں رینکنگ میں آٹھوں نمبر پر ٹیم، پاکستان سے ہار گئی۔

کرکٹ اور خاص طور پر محدود اووروں کے میچوں میں ٹیم وہی جیتتی ہے جو میچ والے دن اچھا کھیلے۔ اتوار کو اوول میں اعداد و شمار، ریکارڈ، رینکنگ، تمام باتیں ایک طرف ٹیم وہی جیتے گی جو اچھا پرفارم کرے گی۔

اسی بارے میں