پاکستان اور انڈیا کا فائنل میں کب کب آمنا سامنا ہوا؟

آفریدی، دھونی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان اور انڈیا کے درمیان فائنل مقابلوں میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا ہے

ایسا نو سال بعد ہو رہا ہے کہ روایتی حریف پاکستان اور انڈیا کسی ایک روزہ ٹورنامنٹ کے فائنل میں مدِ مقابل آئے ہوں۔

پاکستان اور انڈیا اس سے پہلے 50 اووروں کے مختلف کرکٹ ٹورنامنٹوں کے آٹھ فائنل میچوں میں آمنے سامنے آئے ہیں جن میں پاکستان نے چھ اور انڈیا نے دو مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل کسی بھی ایک روزہ ٹورنامنٹ میں ان دونوں ٹیموں کے درمیان نواں فائنل میچ ہو گا۔

یادرہے کہ کسی بھی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں چیمپیئنز ٹرافی وہ واحد ایونٹ ہے جس میں پاکستان انڈیا کو ہرا چکا ہے۔ جبکہ ایک روزہ ورلڈ کپس میں ہونے والے چھ کے چھ میچ انڈیا نے جیتے ہیں البتہ فائنل میں کبھی دونوں کا آمنا سامنا نہیں ہوا۔

پاکستان اور انڈیا اس سے پہلے مختلف کرکٹ ٹورنامنٹوں کے آٹھ فائنل میچوں میں آمنے سامنے آئے ہیں جن میں پاکستان نے چھ اور بھارت نے دو مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔

پہلی مرتبہ دونوں ٹیمیں ورلڈ چیمپیئن آف کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں مدِ مقابل آئیں۔ یہ میچ آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں دس مارچ 1985 کو کھیلا گیا جس میں پاکستان کے کپتان جاوید میانداد تھے اور انڈیا کی قیادت سنیل گواسکر کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1985 میں انڈیا نے آسٹریلیا میں پاکستان کو شکست دے کر 'چیمپیئنز آف کرکٹ' ٹورنامنٹ جیت لیا

پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے نو وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز کا معمولی ہدف دیا جسے انڈیا نے صرف دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان دوسرا فائنل شارجہ میں 18 اپریل 1986 کو کھیلا گیا جسے جاوید میانداد کے آخری گیند پر لگائے گئے چھکے کی وجہ سے پاکستان نے ایک وکٹ سے جیت لیا۔ یہ میچ آج بھی کرکٹ کے سنسنی خیز ترین میچوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس میچ میں پاکستان کی قیادت عمران خان نے کی جب کہ بھارت کی جانب سے کپل دیو کپتان تھے۔ جاوید میانداد نے116 رنز ناٹ آؤٹ بنائے تھے۔

تیسرا فائنل 25 اکتوبر 1991 کو شارجہ میں کھیلا گیا جو پاکستان نے عاقب جاوید کی تباہ کُن بولنگ کی وجہ سے باآسانی 72 رنز سے جیت لیا۔ اس میچ میں عاقب جاوید نے روی شاستری، محمد اظہرالدین اور سچن تندولکر کو لگاتار آؤٹ کر کے ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ اس میچ میں انھوں نے کُل سات وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح پاکستان کے 262 رنز کے جواب میں بھارت کی ٹیم 190 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

چوتھا فائنل شارجہ میں 22 اپریل 1994 کو آسٹریلیشیا کپ کا تھا جس میں پاکستان کی قیادت سلیم ملک اور انڈین ٹیم کی قیادت اظہرالدین کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube
Image caption جاوید میانداد کا شارجہ میں یادگار چھکا آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے

عامر سہیل کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت پاکستان یہ میچ بھی باآسانی 39 رنز سے جیت گیا۔ عامر سہیل نے 69 رنز بنائے اور دو وکٹیں بھی حاصل کیں۔

پانچویں مرتبہ دونوں ٹیمیں ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی آزادی کی سلور جوبلی کپ کے بیسٹ آف تھری فائنلز میں آمنے سامنے آئیں۔ انڈیا اس مرتبہ دو ایک کی برتری سے فاتح ٹھہرا۔ پہلا فائنل 14 جنوری 1998 کو کھیلا گیا جو انڈیا نے آٹھ وکٹوں سے جیت لیا، جب کہ دوسرا فائنل پاکستان نے چھ وکٹوں سے جیت لیا۔

تیسرے فائنل میں پاکستان نے سعید انور اور اعجاز احمد کی شاندار سینچریوں کی بدولت 314 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف بھارت کے سامنے کھڑا کیا، تاہم انڈیا نے بھرپور جواب دیتے ہوئے یہ سکور ایک گیند پہلے پورا کر لیا۔ سورو گنگولی نے 124 رنز کی فتح گر اننگز کھیلی۔

یہ فائنل اس لحاظ سے متنازع تھا کہ میدان میں مناسب مصنوعی روشنی کا انتظام نہیں تھا اور صرف پچ پر ہی فلڈ لائٹس تھیں جس کی وجہ سے بولنگ اور فیلڈنگ میں شدید دشواری پیش آ رہی تھی تاہم پاکستان کے بار بار اصرار پر بھی یہ میچ جاری رکھا گیا۔

اس میچ میں پاکستان کے کپتان راشد لطیف تھے جب کہ انڈیا کی قیادت اظہر الدین کر رہے تھے۔

پانچواں فائنل انڈیا ہی کے شہر بنگلور میں چار اپریل 1999 کو کھیلا گیا۔ اس میچ میں پاکستان کے آل راؤنڈر اظہر محمود نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ یوں یہ میچ پاکستان 123 رنز کے بھاری مارجن سے جیت گیا۔

اس میچ میں پاکستان کے کپتان وسیم اکرم اور انڈیا کے کپتان اجے جڈیجا تھے۔ پاکستان کے 291 رنز کے جواب میں انڈیا کی ٹیم صرف 168 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی۔

اس کے صرف 12 دن بعد دونوں ٹیمیں ایک بار پھر شارجہ کپ کے فائنل میں مدِ مقابل آئیں۔ اس میچ میں پاکستان کے بولروں اور فیلڈروں نے مثالی کارکردگی دکھاتے ہوئے انڈیا کی پوری ٹیم کو صرف 125 رنز پر آؤٹ کر لیا۔ جواب میں پاکستان نے ہدف 28 اووروں میں پورا کر لیا۔ اس میچ میں انڈیا کی جانب سے محمد اظہر الدین کپتان تھے جب کہ پاکستانی ٹیم کی قیادت وسیم اکرم کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمر گُل نے 2008 میں ڈھاکہ میں کھیلے جانے والے فائنل میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے انڈیا کی شکست میں کلیدی کردار ادا کیا

اس کے نو سال بعد دونوں ٹیمیں ڈھاکہ میں کھیلے گئے تین ملکی ٹورنامنٹ میں شریک ہوئیں اور فائنل میں آمنے سامنے آئیں۔

اس میچ میں سلمان بٹ اور یونس خان کی شاندار سینچریوں کی بدولت پاکستان نے 315 رنز بنائے جس کے جواب میں انڈین ٹیم 290 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ پاکستان کی جانب سے عمر گُل نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اس فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں