’کرکٹ کھیلنے پر فخر کو بہت مار پڑتی تھی‘

فخر زمان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فخر زمان ٹیم میں شامل ہوتے ہی اپنی بےخوف بلے بازی سے سب کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں

آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں اگر ایک جانب حسن علی کی غیرمعمولی بولنگ نے کپتان سرفراز احمد کو زبردست حوصلہ فراہم کیا ہے تو دوسری جانب انھیں فخر زمان کی حریف بولروں پر حاوی ہونے والی بیٹنگ سے بھی بڑی تقویت ملی ہے۔

درحقیقت فخر زمان اس وقت پاکستانی بیٹنگ لائن کی نئی شہ سرخی ہیں۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے فخرزمان نے چیمپیئنز ٹرافی میں جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے ایک روزہ میچوں کے کریئر کا آغاز کیا اور31 رنز اسکور کیے جس کے بعد سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف انھوں نے نصف سنچریاں بنائیں۔

فخر زمان بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ رنز وہ جو ٹیم کے کام آئیں: 'آپ کی کارکردگی کی اصل اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب ٹیم بھی جیتے اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ مجھ سے رنز بھی ہو رہے ہیں اور ٹیم بھی جیت رہی ہے۔'

فخر زمان اپنی جارحانہ بیٹنگ کی وجہ سے شائقین میں بہت مقبول ہو چکے ہیں۔ خود انھیں بھی اس انداز میں بیٹنگ کرنا اچھا لگتا ہے: 'میں شروع سے ہی جارحانہ بیٹنگ کرتا آیا ہوں۔ یہ میرا قدرتی انداز ہے لیکن چیمپیئنز ٹرافی میں مجھے زیادہ جارحانہ کرکٹ کھیلنی پڑ رہی ہے کیونکہ یہ کردار مجھے صورتحال کے مطابق ٹیم منیجمنٹ نے دیا ہوا ہے۔'

فخرزمان چار سال سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہے ہیں لیکن پاکستانی ٹیم میں شمولیت کا سہرہ وہ لاہور قلندر کے سرباندھتے ہیں۔

'آج اگر میں پاکستانی ٹیم میں ہوں تو اس میں لاہور قلندر کا بہت اہم کردار ہے جس نے مجھے پاکستان سپر لیگ کے پلیٹ فارم کے ذریعے موقع فراہم کیا۔ لاہور قلندر کے کوچ اعجاز احمد نے مجھے ٹیم میں شامل کرایا۔ پاکستان سپر لیگ میں انٹرنیشنل کرکٹروں کے ساتھ کھیل کر مجھے بہت فائدہ ہوا ہے۔'

کسی بھی نئے کرکٹر کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ میں آنا اور جگہ بنانا آسان نہیں ہوتا لیکن فخرزمان اس چیلنج کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'انٹرنیشنل کرکٹ کا معیار ظاہر ہے ڈومیسٹک کرکٹ سے بہت زیادہ بلند ہوتا ہے لیکن جب آپ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہیں تو اس کا خاصا تجربہ ہو چکا ہے اور میں بھی یہ تجربہ اب انٹرنیشنل کرکٹ میں استعمال میں لانے کی کوشش کر رہا ہوں اسی لیے مجھے کامیابی بھی مل رہی ہے۔'

فخرزمان نے پاکستان اے کی طرف سے زمبابوے اور انگلینڈ لائنز کے خلاف میچ کھیل رکھے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان میچوں نے ان کی کرکٹ میں بہتری لانے میں بڑی مدد کی ہے۔

' انگلینڈ لائنز کے خلاف جب میں کھیلا تو مجھے ہر بولر 140 سے زیادہ رفتار والا ملا جو میرے لیے نیا تجربہ تھا کیونکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اتنے تیز رفتار بولر میں نے نہیں کھیلے تھے۔ اگرچہ میں انگلینڈ لائنز کے خلاف کامیاب نہیں رہا لیکن میں نے اس دورے کے بعد تیز بولنگ پر کام کیا جس کا فائدہ مجھے اگلے دورے میں ہوا۔'

فخرزمان کا تعلق مردان سے ہے جو یونس خان کا آبائی علاقہ ہے۔ فخر زمان 16 سال کی عمر میں کراچی آگئے۔ یہاں انھوں نے پاکستان بحریہ میں شمولیت اختیار کی اور ساتھ ساتھ کرکٹ کا شوق بھی پورا کرتے رہے۔ انھوں نے اپنی کلب کرکٹ موجودہ کپتان سرفراز احمد کے ساتھ پاکستان کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلی جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی ابتدا بھی کراچی سے کھیلتے ہوئے کی۔

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں فخر زمان کے بھائی عارف زمان نے بتایا کہ فخر کو کرکٹ کھیلنے پر باپ اور بڑے بھائیوں سے بڑی مار پڑتی تھی لیکن وہ پھر بھی چھپ چھپ کر کرکٹ کھیلتے تھے۔

فخر سے آٹھ سال بڑے بھائی عارف نے کہا کہ وہ کرکٹ کھیلنے جاتے تھے تو فخر ان کے پیچھے پیچھے میدان میں آ جاتے تھے۔

عارف نے پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دوست فخر کی سفارش کرتے تھے کہ انھیں ضرور کھیلایا جائے اور بعض اوقات وہ تنِ تنہا ہی میچ جتوا دیتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فخر زمان نے انگلینڈ کے خلاف جارحانہ بلے بازی کرتے ہوئے پاکستان کی جیت میں مرکزی کردار ادا کیا

انھوں نے اپنے اولین فرسٹ کلاس میچ میں ملتان کے خلاف دونوں اننگز میں 79اور 83 رنز بنا ڈالے لیکن پھر انھوں نے کراچی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

سکول سے فارغ تحصیل ہو کر فخر پاکستان نیوی میں سیلر کی حیثیت سے بھرتی ہو گئے لیکن کرکٹ کے شوق نے انھیں وہاں بھی چین نہ لینے دیا۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا کے خلاف فائنل دیکھنے کے لیے مردان کے قریب ان کے گاؤں کیتلان بازار میں گاؤں والوں نے مل کر میچ دیکھنے کے لیے خصوصی اہمتام کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پورا گاؤں دعاگو ہے کہ فخر سمیت پاکستان کے تمام کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور میچ جیت کر قوم کو عید کا تحفہ دیں۔

فخر زمان کی اس وقت تمام تر توجہ چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل پر مرکوز ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ فائنل میں بھی اپنی جارحانہ بیٹنگ کی کوشش کریں گے اور پاکستانی ٹیم ٹرافی لے کر ہی وطن واپس جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں