انڈیا کے خلاف میچ میں اس بار نتیجہ مختلف ہوگا: اظہر محمود

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
آئی سی سی چیمپینز ٹرافی میں پاکستان کی انڈیا کے خلاف فائنل سے پہلے اوول میں تیاریاں

آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کی ایک روزہ ٹیم پریکٹس کرنے کے لیے لندن پہنچی ہے جہاں اوول کے میدان پر فائنل میں اس کا مقابلہ روایتی حریف انڈیا کی ٹیم سے ہونا ہے۔

اوول کے میدان پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل میچ اتوار کو کھیلا جائے گا۔

دونوں ہی ٹیمیں اس سے قبل اسی ٹورنامنٹ کے گروپ میچوں میں بھی آمنے سامنے آچکی ہیں جس میں انڈیا نے پاکستان کو باآسانی 124 رنز سے شکست دی تھی۔

٭ پاکستان، انڈیا فائنل: کس کا پلڑا بھاری رہا؟

٭ پاکستان فائنل میں سرپرائز دے سکتا ہے

جس کے بعد پاکستان نے حیرت انگیز طور پر ٹورنامنٹ میں واپسی کی اور اپنے سے اوپر کی رینکنگ والی ٹیموں کو شکست دینے کے بعد فائنل تک رسائی حاصل کی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی ٹیمیں کسی بھی آئی سی سی کے ایک روزہ ٹورنامنٹ کے فائنل میں آمنے سامنے ہو رہی ہیں۔

اتوار کو کھیلے جانے والے اس فائنل کے لیے جمعے کو اوول سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم نے بیٹنگ فیلڈنگ اور بولنگ کی بھر پور پریکٹس کی۔

پریکٹس کے بعد پاکستان کے بولنگ کوچ اظہر محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر فائنل میں بھی ہم پلیننگ کے مطابق کھیلے تو انڈیا کے خلاف میچ میں اس بار نتیجہ مختلف ہوگا۔'

اظہر محمود کا کہنا تھا کہ انڈیا کے خلاف میچ میں اس بار کھلاڑیوں کو ملنے والے ہر موقعے سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔

ان کے مطابق ’جب آپ وراٹ کوہلی اور یوراج جیسے پلیئرز کو چانس دیں گے تو وہ آپ پر چھا جاتے ہیں اور وہ آپ کو واپس نہیں آنے دیتے۔'

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم یہاں جیتنے آئے ہیں۔ ہماری نوجوان ٹیم ہے اور ہم یہ فائنل جیت سکتے ہیں اور یہ فائنل جیت کر قوم کو عید کا تحفہ دیں گے۔‘

اظہر محمود نے پاکستان بولنگ اٹیک کے بارے میں کہا کہ 'جیسے پاکستان کے پاس اننگز کے شروع میں بولنگ کرانے کے لیے سٹرائیک بولر موجود ہیں وہیں حسن علی کی صورت میں ایک ایسا بولر بھی موجود ہےجو اننگز کے درمیانی حصے میں وکٹیں لے سکتے ہیں۔'

خیال رہے کہ نوجوان فاسٹ بولر حسن علی اب تک پاکستان اور آئی سی سی چیمیئنز ٹرافی کے سب سے کامیاب بولر رہے ہیں۔ انھوں نے چار میچوں میں دس وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB FACEBOOK

اوول کے سٹیڈیم میں فاسٹ بولر محمد عامر بھی بھرپور پریکٹس کرتے دکھائی دیے۔ محمد عامر انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میچ سے قبل کمر میں تکلیف کے باعث ٹیم میں جگہ نہیں بنا پائے تھے۔ تاہم تاحال انھیں فائنل میچ کے لیے ٹیم میں شامل کیے جانے کا فیصلے کے حوالے سے کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔

تاہم اس حوالے سے قومی ٹیم کے بولنگ کوچ کا کہنا تھا کہ اچھی بات یہ ہے کہ سکواڈ میں دوسرے کھلاڑی موجود ہیں اور جس طرح رومان رئیس نے سیمی فائنل میں بولنگ کی وہ یہ ثابت کرتی ہے کہ ہم آسانی سے متبادل بولر لا سکتے ہیں۔

پاکستان کی ٹیم ٹورنامنٹ کے اہم موڑ پر فارم میں آئی ہے اور شائقین پرامید ہیں کہ اب یہ ٹیم فتح سے ہمکنار ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB FACEBOOK

اوول کرکٹ سٹیڈیم میں بی بی سی اردو کے فیس بک لائیو میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو سے منسلک صحافی فیضان لاکھانی کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان ٹیم نے جنوبی افریقہ، سری لنکا اور پھر انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دی ہے اس سے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔

فیضان لاکھانی کا کہنا تھا کہ 'اس ٹیم نے جس طرح اپنے سے اوپر کی رینکنگ والی ٹیموں کو چاروں شانے چت کیا اس کے بعد اب اس ٹیم کو ہرانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگیا ہے۔'

اسی فیس بک لائیو کے دوران انڈیا نیوز کے سپورٹس صحافی ونود لامبا بھی موجود تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اُن کے خیال میں پاکستان کے لیے انڈیا کے خلاف جیتنا تھوڑا مشکل ہے۔

ونود لامبا کا کہنا تھا کہ ’آپ نے خود ہی اقرار کیا ہے کہ انڈیا کے خلاف کھیلتے ہوئے پاکستان ٹیم ڈریسنگ روم سے ہی دباؤ میں نکلتی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں