پاکستان اور بھارت کا فائنل، ہر اوور پانچ کروڑ!

انڈیا پاکستان میچ تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption انڈیا اور پاکستان کے درمیان ميچ میں کھیل سے زیادہ کچھ داؤ پر ہوتا ہے

اگر آپ کے خاندان کے کسی فرد کو ذہنی تناؤ ہو جائے تو اس کے علاج کے لیے موٹی رقم خرچ کرنی پڑ سکتی ہے۔ لیکن سوچیے ایسے دو ملکوں کے بارے میں جو ایک دوسرے کے خلاف سرحدوں پر ہتھیار تانے ہوں، ان کے درمیان بات چیت بند ہو، فلمیں اور سیریل پر پابندی لگانے والوں کا شور ہو۔

لیکن اس سب کے درمیان یہ کشیدگی کرکٹ کے میدان پر اربوں کی کمائی میں بدل جائے۔

18 جون کو جب انڈیا اور پاکستان چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے تو یہ روایتی حریفوں کے درمیان محض ایک میچ ہی نہیں ہوگا۔

اشتہارات کی دنیا کے ماہرین کے مطابق اس فائنل میچ کے دوران ٹی وی اشتہارات سے تقریباً 500 کروڑ کی کمائی ہونے کا اندازہ ہے۔

یعنی فائنل میں 100 اوور کے میچ میں ہر ایک اوور میں تقریباً پانچ کروڑ کی کمائی کی امید ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان چیمپیئنز ٹرافی میں چار جون کو پہلے مقابلے کے دوران ٹی وی نشریات کمپنی نے دس سیکنڈ کا اشتہار دکھانے کے لیے 25 لاکھ چارج کیے تھے۔

لیکن ٹی وی اشتہارات دلانے والی کچھ کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ فائنل میں یہ قیمت 35 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈیا اور پاکستان کے مابین چار جون کو ہونے والے میچ کو 20 کروڑ لوگوں نے دیکھا تھا

بی بی سی اردو نے نشریات کمپنی سٹار سے اس بارے میں صحیح تصویر جاننے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ لیکن جن کمپنیوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان فائنل میچ کے دوران اشتہارات بک کروائے ہیں، وہ فیس کو واجب قرار دے رہے ہیں۔

کتنے دامجائز ہیں؟

سٹار ٹی وی کے مطابق چار جون کو ہونے والے انڈیا اور پاکستان کے مابین چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے میچ کو 20 کروڑ سے بھی زیادہ لوگوں نے دیکھا۔

اس ایک میچ کا تقابل کیا جائے تو ڈیڑھ ماہ تک چلنے والی 60 میچوں والے آئی پی ایل کو تقریباً 40 کروڑ ناظرین نے دیکھا تھا۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان فائنل میچ تقریباً ایک ارب سے بھی زیادہ لوگوں کے ٹی وی پر دیکھنے کا اندازہ ہے۔

ظاہر ہے کہ کوئی کمپنی اپنے برانڈ کے لیے اتنا بڑا موقع نہیں گنوائے گی۔

یہ بتانا ضروری ہے کہ کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ اور اہم میچ میں ٹی وی نشریات کمپنی اشتہارات کے لیے 10 فیصد سلاٹ ریزرو رکھتی ہے۔ سیدھے لفظوں میں کہا جائے تو بڑے میچوں میں جو زیادہ پیسہ دے گا، اس کے لیے دروازے کھلے ہیں۔

کیا کہتے ہیں قوانین؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈیا کے معروف شہر چنڈی گڑھ کے ایک کالج کے طلبہ ٹی پر میچ کا لطف لیتے ہوئے دیھکے جا سکتے ہیں

نشریات کے لیے انڈیا کی وزارت اطلاعات و نشریات کے قوانین کے مطابق ایک گھنٹے کے کسی بھی طرح کی ٹی وی نشریات کے دوران صرف 12 منٹ کے لیے ہی اشتہارات دکھائے جا سکتے ہیں۔

یعنی تقریباً نو گھنٹے کی نشریات کے دوران میں ٹی وی کمپنی کے پاس تقریباً 108 منٹ کے اشتہارات دکھانے کے لیے ہوں گے۔ اس کے علاوہ میچ سے پہلے تجزیے اور بعد کے جائزے وغیرہ کو جوڑ دیا جائے تو اسے 40 سے 50 منٹ مزید مل جاتے ہیں۔

یہ محض سرکاری تجزیہ ہے کیونکہ انڈیا کے کئی ٹی وی چینلز کے گروپس نے اس اصول کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ لہٰذا کوئی اہم فیصلہ آنے تک تمام چینلز اپنی مرضی کے اشتہارات دکھانے کے لیے آزاد ہیں۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان فائنل میں اشتہارات دکھانے کے لیے بہت سی کمپنیاں اپنی مصنوعات کو پروموٹ کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہی تھیں لیکن بتایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی سلاٹ خالی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption گروپ میچ میں انڈیا نے کامیابی حاصل کی تھی

سٹار ٹی وی نے سنہ 2014 میں 2015 سے 2023 تک کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے نشریات کے حقوق حاصل کیے تھے۔ اس وقت بتایا گیا تھا کہ کمپنی 22 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کرے گی۔ ایسے میں ایک ہی سیزن میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان دو میچز ہونا، جس میں سے ایک ٹورنامنٹ کا فائنل ہو، کسی نعمت سے کم نہیں۔

چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے میچ میں دونوں ملکوں کے درمیان برمنگھم میں بارش کی وجہ سے وقت خراب ہوا اور یہ نشریات کمپنی کے لیے لاٹری ثابت ہوا کیونکہ اس کو کہیں زیادہ اشتہارات دکھانے کا موقع مل گیا۔

پہلے ہی میچ میں ان دونوں ٹیموں کا مقابلہ کرا دینا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ٹورنامنٹس کی کامیابی اور ٹی وی کمپنی کے لیے سونے کی کان ثابت ہوئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں