کرکٹ کا سب سے بڑا ٹاکرا: انڈیا اعزاز کا دفاع یا پاکستان تاریخ رقم کرے گا، فیصلہ آج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میچ میں جہاں انڈیا اپنے اعزاز کے دفاع کے لیے میدان میں اترے گا تو وہیں اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہلی بار پہنچنے والی پاکستانی ٹیم کی نظریں تاریخ رقم کرنے پر ہوں گی۔

اتوار کو میچ لندن کے اوول کرکٹ گرؤانڈ میں کھیلا جائے گاجہاں انڈیا گروپ سٹیج پر دو میچ کھیل چکا ہے جب کہ پاکستان اس ٹورنامنٹ میں اب تک کوئی میچ اوول میں نہیں کھیلا۔

یکم جون سے شروع ہونے والے ان مقابلوں میں انڈیا کی ٹیم سوائے سری لنکا کے اپنے مدمقابل باقی تین ٹیموں کو پراعتماد انداز میں ہرا کر فائنل تک پہنچی ہے۔

٭ پاکستان بمقابلہ انڈیا، آپ کیا جانتے ہیں؟

٭ پاکستان اور بھارت کا فائنل، ہر اوور پانچ کروڑ!

٭ ’یہ کرکٹ کا نہیں، سوچ کا ٹاکرا ہے‘

٭ ہمارے پاس اٹیک کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں: مکی آرتھر

پاکستانی ٹیم اپنا پہلا میچ انڈیا کے خلاف بری طرح ہار کر لڑکھڑاتی اور ڈگمگاتی ہوئی سیمی فائنل میں پہنچی لیکن سیمی فائنل میں پاکستان کی ٹیم نے 'چنگھاڑتے شیر' اور سیمی فائنل تک ناقابلِ شکست رہنے والی انلگینڈ کی ٹیم کو چت کر کے یہ میچ اپنے نام کیا۔

میچ سے قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے اعلان کیا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف گذشتہ میچ میں انجری کے باعث باہر ہونے والے تیز رفتار بولر محمد عامر مکمل طور پر فٹ ہیں اور وہ فائنل میں کھیلیں گے۔

فائنل میں جہاں انڈیا کا جہاں اپنی بیٹنگ لائن پر زیادہ انحصار ہو گا تو وہیں پاکستان کو بولنگ کے شعبے میں برتری حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کو بیٹنگ کے شعبے میں برتری حاصل ہے

بیٹنگ کی بات کی جائے تو انڈیا کے بلے باز بلاشبہ فارم میں ہیں۔ روہت شرما نے جہاں سیمی فائنل میں سنچری سکور کی وہیں ویراٹ کوہلی بھی ایک روزہ میچوں میں اپنی 28 ویں سنچری کے قریب پہنچ گئے تھے۔ شیکھر دھون بھی ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بنا کر بھرپور فارم میں ہیں۔

اگر پاکستان بولنگ کی بات کی جائے تو ان کے بارے میں رمیز راجہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ تمام ٹیموں میں صرف پاکستانی بولرز ریورس سوئنگ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کو بولنگ کے شعبے میں برتری حاصل ہے

یہی وجہ ہے حسن علی اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ دس وکٹیں لینے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ حمد عامر جو کمر میں تکلیف کے باعث سیمی فائنل نہیں کھیل سکے تھے انڈیا کے خلاف انتہائی کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ انڈین بلے بازوں کے بلے ایجبسٹن سٹیڈیم میں جب شعلے اگل رہے تھے اس وقت بھی عامر نے آٹھ اووروں میں صرف 32 رنز دیے تھے۔

جنید خان جب آخری مرتبہ انڈیا کے خلاف انڈیا میں ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلے تھے تو انڈیا کی بے جان وکٹوں پر بھی انھوں نے تین مرتبہ ویراٹ کوہلی کو آوٹ کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں