مجھے بھی میچ دیکھنے دو یار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا اور پاکستان کا میچ ہو رہا ہو اور وہ بھی آئی سی سی ورلڈ چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل کہ جسے صرف بھارت اور پاکستان میں ایک ارب سے زیادہ انسان سانس روکے دیکھ رہے ہوں، سینماؤں نے اپنے شو منسوخ کر دیے ہوں، پاپولر ٹی وی پروگرامز کا نشریاتی وقت بدل دیا گیا ہو، فلائٹس خالی اڑ رہی ہوں، ٹرینوں کے ڈبے یہاں سے وہاں تک لق و دق پڑے ہوں، سڑک پر کرفیو جیسا ماحول ہو اور ٹریفک جام بھی کسی ٹی وی کے سامنے بیٹھا چپس کھا رہا ہو اور لنڈی کوتل سے کیرالہ تک ہر گھر بس ایک کمرے میں سمٹ آیا ہو۔ آج تو کشمیر کی لائن آف کنٹرول بھی چھٹی منا رہی ہے۔

فخر زمان کی شاندار پہلی سنچری کی جھلکیاں

کرکٹ فائنل پر لاہور کی سڑکیں ویران

ایسے میں مجھ جیسا بے وقوف ایک تاریخ ساز میچ کے قیمتی لمحات کی گواہی اپنی آنکھوں میں سمیٹنے کے بجائے بیٹھا کالم لکھ رہا ہے۔ حالانکہ اچھی طرح معلوم ہے کہ میچ کے دوران چھپ جائے تو کوئی پڑھے گا نہیں۔ میچ کے بعد بھی چھپے تو ہارنے والے اپنے زخم سہلانے اور پھپھولے پھوڑنے میں اور جیتنے والے حلق سے عجیب و غریب آوازیں نکالنے، ناچنے، ہاتھ پر ہاتھ مار کے ہنسنے والوں کو کل تک بھی اتنی فرصت کہاں ہو گی کہ میرے کالم سے علم و حکمت کے موتی ڈھونڈنے کی فرصت مل پائے۔ بھلے میں سونے کے پانی ہی سے کیوں نہ لکھ ڈالوں۔

سچ تو یہ ہے کہ اس وقت اگر میری جگہ ارسطو یا شکیسپیئر بھی ہو تو اس کی بھی کوئی نہ سنے۔

کسی بھی پاکستان اور بھارت کرکٹ میچ کے بیچ اپنی تخلیقی و موضوعاتی اپچ کی صوتی و تحریری داد پانے کی تمنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی، شہد کے چھتے کو ننگے ہاتھوں اتارنے کی کوشش کرے، بغیر پیرا شوٹ جہاز سے چھلانگ لگانے کا کرتب دکھائے، بگٹٹ آتی رتھ کے پہیے میں ہاتھ دے دے، یا کسی بپھرے ہسپانوی سانڈ کے آگے لال رومال لہراتا ہوا یہ توقع بھی کرے کہ بچ نکلے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا کالم نگار انسان نہیں ہوتا ، کیا اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا، کیا وہ انڈیا پاکستان کرکٹ میچ لمحہ بہ لمحہ نہیں دیکھنا چاہتا؟ بھاڑ میں گیا قطر کا بحران ، چولہے میں گیا پاناما کیس، مجھے کوئی دلچسپی نہیں کہ آج عمران خان کیا کر رہا ہے اور نواز شریف اپنے وکلا کے ساتھ بیٹھے کون سا اگلا اکاچلنے کا سوچ رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے معزز جج ٹی وی دیکھ رہے ہیں یا کسی فیصلے کی تیاری میں سر جوڑے بیٹھے ہیں اور جے آئی ٹی والے سر کھجا رہے ہیں کہ چینل بدل رہے ہیں۔آج تو چور، ڈاکو اور پولیس بھی دیوار سے لگے بیٹھے ہیں اور میں؟؟

اظہر کا چھکا، کوہلی کی پریشانی

میں بھی تو کرکٹ میچ دیکھنا چاہتا ہوں ، چیخ چیخ کے گلے میں خراشیں ڈالنا چاہتا ہوں ، ایک ٹانگ پر ناچنا چاہتا ہوں اور اگر میری مخالف ٹیم ٹھکانے لگ جائے تو ہوا میں مکے چلانا چاہتا ہوں۔

مگر کیا کروں ، بی بی سی ریڈیو اور ویب سائٹ کا بھی پیٹ بھرنا ہے اور مجھے بھی پیٹ لگا ہوا ہے۔ اچھی طرح جانتا ہوں کہ اردو سروس پر آج اور کل سوائے کرکٹ کے کچھ نہ ہوگا۔ مگر پھر بھی مصر ہیں کہ اپنا کالم بھیجو۔ تو لو یہ کالم، خود ہی پڑھو اور خود ہی سنو۔ میں تو جا رہا ہوں ٹی وی دیوتا کے چرنوں میں اپنے ارمانوں کی آرتھی چڑھانے۔ بھلے پاکستان جیتے یا ہارے۔ ڈونٹ ڈسٹرب می پلیز۔۔۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں