’کیونکہ سرفراز کو یقین تھا‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان یہ ٹرافی جیت ہی نہیں سکتا تھا۔ تمام تر منطق اور بے تحاشا قسمت کو جمع کر کے، اگر حب الوطنی سے ضرب بھی دے دی جاتی، تو بھی پاکستان کا کوئی چانس نظر نہ آتا تھا۔ بلاشبہ کرکٹ میں قسمت کا عنصر کبھی کبھی حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے لیکن قسمت بھی تبھی یاوری کرتی ہے جب جرات اور محنت کا درست توازن ہمراہ ہو۔

یہ وہ ٹیم تھی جس نے قسمت کی جمع تفریق کا سہارا لے کر اس ایونٹ کے لیے کوالیفائی کیا تھا، جو پچھلے ورلڈکپ میں صرف ایک ٹاپ ٹیم کو ہرا پائی تھی اور تین ہفتے پہلے تک ورلڈکپ کوالیفکیشن بھی مخدوش تھی، جو دو سال میں دو کپتان بدل چکی تھی، جس کے کوچ اور کپتان کا رشتہ ناقابل فہم حد تک پیچیدہ ہو چکا تھا، جس کی بیٹنگ نہایت بے مروت تھی، بولنگ یقین سے عاری تھی اور فیلڈنگ فقط ایک لطیفہ تھی۔

٭ ’انڈیا سے بڑے ٹورنامنٹ میں ہمیشہ ہارنے کا داغ دھو دیا‘

٭ پاکستان کی انڈیا کو 180 رنز سے شکست

٭ کوئی جھوم اٹھا اور کوئی غم سے نڈھال

٭ پاکستان کرکٹ کے چیمپیئنز کا چیمپیئن

کوئی دور تھا جب کرکٹ میں اعدادوشمار کا ہیر پھیر بہت کم ہوا کرتا تھا۔ یاد رکھنے کو گنے چنے ریکارڈز تھے اور چند موٹے موٹے ہندسے، مگر اب ایک ایک گیند اور شاٹ کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ کون کہاں پہ تگڑا ہے، کہاں کمزور ہے، کس شاٹ پہ آؤٹ ہوتا ہے، کس لینتھ پہ مار کھاتا ہے، اب ہر بات کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔

اب صرف رینکنگ ہی نہیں، ایسے تمام اعداد و شمار کی فہرست میں بھی پاکستان عموما ٹیبل کے نیچے ہی دکھائی دیتا تھا۔ پاورپلے میں رن ریٹ کو دیکھ لیجیے، مڈل اوورز میں اکانومی کو دیکھ لیں، مڈل آرڈر کی اوسط کو دیکھیے، کہیں بھی پاکستان کسی خوش کن جگہ پہ نہیں کھڑا تھا۔ اور جہاں 300 جیسے ٹوٹل معمول بنتے جا رہے تھے، وہاں پاکستان نے پچھلے دو سال میں خال خال ہی یہ ہندسہ دیکھا تھا۔ بدترین بیٹنگ کے ریکارڈ پاکستان کا خاصہ بنتے جا رہے تھے، بد ترین بولنگ کے ریکارڈ بار بار پاکستان کے حصے میں آ رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سب کے باوجود اگر کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ پاکستان ہی یہ چیمپئینز ٹرافی جیتے گا تو وہ صرف جذبہ حب الوطنی سے چور چور کوئی فین ہی ہو سکتا تھا، جو تمام تر منطق اور زمینی حقائق سے قطع نظر فقط سبز پرچم کو بلند دیکھنا چاہتا تھا۔

لیکن کوئی اور بھی تھا جو یہ کہہ رہا تھا کہ وہ چیمپئینز ٹرافی جیت کر قوم کو عید کا تحفہ دے گا۔

ممکن ہے اس نے ایسا صرف اپنی پیشہ ورانہ مجبوری کے تحت کہا ہو، یا شاید اپنی ٹیم کا مورال بلند کرنے کے لیے کہا ہو، یا عین ممکن ہے کہ اس کو واقعی اس بات کا یقین ہو۔

پہلے میچ میں انڈیا سے شرمناک شکست کے بعد پاکستان کے ڈریسنگ روم میں کیا بیتی ہو گی، یہ جاننے کے لیے کسی سقراط کا دماغ نہیں چاہئے۔ پریس کانفرنس میں سرفراز اور مکی آرتھر کے درمیان دوریاں نظر آئیں، بولنگ کوچ کے وجود پہ سوالات اٹھے اور فیلڈنگ کوچ کے بارے صرف یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آخر موصوف کے مشاغل کیا ہیں۔ اور سرفراز کا یقین محض ایک مذاق دکھائی دیتا تھا۔

لیکن پھر چند ایک تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ جنید خان کو واپس لایا گیا، فخر زمان کو موقع دیا گیا اور حسن علی کا شاید دوبارہ جنم ہوا۔ شاید یہ سب قسمت کا ہیر پھیر تھا، شاید یہ توقعات کے بوجھ سے چھٹکارہ تھا یا پھر صحیح معنوں میں مثبت کرکٹ کا آغاز تھا کہ اگلے ہی میچ میں ٹورنامنٹ کی کمزور ترین ٹیم نے نمبر ون کو ہرا دیا۔ اس کے بعد یہ ٹیم کہیں رکی نہیں۔ بلکہ کوئی اسے روک نہیں پایا۔

فائنل سے پہلے ایک بار پھر توقعات کا بوجھ اور امیدوں کا پہاڑ اس ٹیم کے گلے میں باندھ دیا گیا۔ ریکارڈ ویسے ہی پاکستان کے حق میں نہیں تھا۔ اور بھارت سے پہلی ہار کے زخم ابھی بھرے نہ تھے کہ اتنے بڑے فائنل میں ایک بار پھر اسی بھارت سے ٹکرانا مقدر ٹھہرا۔

وہ بھارت جو اس ٹائٹل کے دفاع کے لیے میدان میں اتر رہا تھا، جس کی بیٹنگ لائن میں دنیا کا نمبرون بیٹسمین ہے، دنیا کا واحد بیٹسمین ہے جو ون ڈے کرکٹ میں دو ڈبل سینچریاں بنا چکا ہے، دنیا کا واحد کپتان ہے جو تینوں آئی سی سی ٹائٹلز جیت چکا ہے، جس کا اوپنر ٹورنامنٹ کا ٹاپ سکورر ہے، اور وہ تجربہ کار خطرناک بلے باز بھی ہے جس نے پہلی بار انٹرنیشنل کرکٹ کے ایک اوور میں چھ چھکے جڑے تھے۔

اس سب کے مقابل پاکستان کے پاس ایک نوآموز اوپنر تھا، ایک بے اعتبار سا مڈل آرڈر تھا، ایک ناتجربہ کار کپتان تھا اور ایک ایسا بولنگ یونٹ تھا جس کو بہتر ہوئے صرف تین میچز گزرے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن ایک چیز اور بھی تھی، اور وہ مقدار میں ان تمام معروضی حقائق سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ تھا یقین، یہ یقین کہ اگر وہ سر جھکا کر اچھی کرکٹ کھیلیں تو وہ دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرا سکتے ہیں۔

اور اس یقین کے پیچھے تھا وہ نو آموز کپتان، جو یہ جانتا تھا کہ وہ واقعی اپنی قوم کو عید کا تحفہ دے سکتا ہے، چاہے اسے انڈیا سے ہی کیوں نہ ٹکرانا پڑے۔ جو یہ سوچتا تھا کہ تاریخ اور ریکارڈز کوئی معنی نہیں رکھتے، جس کا ماننا تھا کہ رینکنگ صرف ایک ہندسہ ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

اور پھر اس کے یقین نے وہ کر دکھایا جو اس ایونٹ کے پہلے سات ایڈیشنز میں بڑی سے بڑی پاکستانی ٹیم اور بہترین سے بہترین کپتان بھی نہ کر پائے۔

کل پاکستان اس لیے چیمپئین نہیں بنا کہ ان کے چند تجربات سے اچانک دنیائے کرکٹ کی کیمسٹری ہی بدل گئی۔

بلکہ وہ اس لئے چیمپئین بنا، کہ سرفراز کو یقین تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں