’انھیں یہ خوشی چاہیے اور کل ہی چاہیے‘

فخر زمان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے نوجوان بلے باز فخر زمان نے کہا ہے کہ وہ انڈیا سے میچ سے قبل بہت نروس تھے اور اس ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ یہ احساس ہو رہا تھا کہ وہ کوئی بہت بڑا میچ کھیل رہے ہیں۔

میچ کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فخر زمان نےکہا کہ انھیں پورے پاکستان اور خاص طور پر گھر والوں اور دوستوں کی طرف سے پیغامات موصول ہو رہے تھے کہ انھیں یہ خوشی چاہیے اور کل ہی چاہیے۔

’کیونکہ سرفراز کو یقین تھا‘

’عامر نے خواہش پوری نہیں ہونے دی‘

پاکستان کرکٹ کے چیمپیئنز کا چیمپیئن

کوئی جھوم اٹھا اور کوئی غم سے نڈھال

پاکستان کی انڈیا کو 180 رنز سے شکست

فخر زمان نے کہا کہ وہ ان پیغامات کی وجہ سے کافی دباؤ کا شکار بھی ہوئے۔

میچ سے ایک دن قبل اپنی طبیعت کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ایک دن قبل جب وہ گراؤنڈ پر پریکٹس کے لیے آئے تو انھیں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان کی ٹانگوں میں جان نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ حالت بہت خراب تھی اور انھوں نے فوراً ٹیم کے طبی عملے سے رابطہ کیا۔

فخر نے کہا کہ جسم میں جان ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ایک دن قبل انھوں نے روزہ رکھ کر بڑی سخت ٹرینگ کی تھی جس کے دوران شاید ہوا لگ گئی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فخر زمان نے سنچری سکور کر کے پاکستان کی جیت کی بنیاد رکھی

انھوں نے کہاکہ ٹیم کے 'فیزیو' اور انھیں ایک ٹیم کے ساتھ ایک ضیافت میں جانا تھا لیکن وہ اپنے کمرے ہی میں رہے اور فیزیو ان کی مدد کرتے رہے۔

انھوں نے کہا کہ صبح وہ نماز کے لیے بیدار ہوئے اور پھر نماز ادا کر کے سو گئے۔

نیوی میں اپنی نوکری کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ 2007 میں نیوی میں بھرتی ہو گئے۔ نیوی میں پوری فوجی تربیت کی جس دوران ان کے افسر ناظم صاحب نے انھیں کرکٹ کھیلتے دیکھا۔

انھوں نے کہا کہ ناظم صاحب نے نیوی ہیڈکواٹر کو لکھا کہ اس لڑکے کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے اور یوں کرکٹ میں ان کے سفر کا آغاز ہوا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں