’پاکستان کرکٹ میری زندگی میں واپس آنے کا شکریہ‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سبھی کہتے ہیں کہ پاکستان ٹیم 'ان پرڈکٹیبل' ہے یعنی کہ ایسی ٹیم جس کی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون تھا جس نے سب سے پہلے یہ اصطلاح استعمال کی تھی لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ گذشتہ تقریباً ایک دہائی میں مجھے اکثر پاکستان ٹیم نے وہی دیا جو میں محسوس کر رہا تھا یعنی مایوسی۔

اگر وہ میچ جیت بھی لیتے تو بڑی مشکل سے اور جیتا ہوا میچ بھی اس قدر مشکل بنا لیتے کہ لگتا تھا کہ ہار جائیں گے۔ لیکن یہ کچھ نہیں۔ وہ سنہ 2010 کی پاکستان انگلینڈ سیریز تھی جب میں فیصلہ کیا کہ میں اب کرکٹ نہیں دیکھوں گا۔ کل میں اپنے آپ سے ہار گیا اور کرکٹ ایک مرتبہ پھر جیت گئی۔

چیمپیئنز ٹرافی جیتنے کی پانچ وجوہات

’کیونکہ سرفراز کو یقین تھا‘

پاکستانی جیت پر میر واعظ اور گمبھیر کا ٹکراؤ

میری کرکٹ سے لڑائی لگ بھگ سات سال رہی۔ جو انگلینڈ سے شروع ہوئی اور بالآخر انگلینڈ پر ہی ختم۔ اس میں کرکٹ کا کوئی قصور نہیں تھا بس ایک غصہ تھا اور کیوں نہ ہو۔

جب وسیم اکرم کے بعد پاکستان کی کرکٹ کے افق پر سب سے نمایاں ستارہ ایک یکدم داغدار ہو جائے تو آپ کیا سوچیں گے، جب دنیا کا سب سے زیادہ جنوئن سونگ بولنگ کرانے والا بولر اور پاکستان کی بڑی امید دیکھتے دیکھتے ایک بدنام کرکٹر کہلایا جانے لگے تو آپ کیا کریں گے اور اگر جہاز کا کپتان ہی جہاز ڈبونے لگے تو کیا آپ کا پیار اس کے لیے رہے گا۔ دوسروں کا تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں اپنے پسندیدہ کھیل کے ساتھ یہ ہوتا نہیں دیکھ سکا اور میں نے اسے دیکھنا ہی چھوڑ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن کل یعنی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں یہ سب کچھ کچھ الٹ ہو گیا۔ جیت ہار تو دور کی بات ہے لیکن کرکٹ شاید میری زندگی میں واپس آ گئی ہے۔

مجھے یہاں یہ کہنے میں بھی کچھ شرم نہیں کہ اس ٹورنامنٹ کے پاکستان کے کسی بھی میچ میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی اس کی کوئی جیت مجھے ماضی کی طرح متاثر کر سکی تھی۔ پہلا میچ بری طرح ہار گئے، ایک ڈک ورتھ اینڈ لوئیس نے بچا لیا، ایک میچ مشکل سے جیتے اور لوگ طرح طرح کی باتیں بھی کرنے لگے۔ ایک انگلینڈ کے خلاف ہی میچ تھا جس میں بولروں اور بہترین فیلڈنگ نے پہلے انگلینڈ کو بڑا سکور کرنے سے روکا اور بعد اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔

مجھے اس وقت سمجھ جانا چاہیے تھا کہ چیزیں بدل چکی ہیں۔ لیکن میرے لیے چیزیں انڈیا کے خلاف فائنل میں بدلیں۔ کیا جارحانہ بیٹنگ اور کیا سپاٹ آن بولنگ۔ کسی بھی شعبے میں پاکستان نے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ یہ وہی پاکستانی ٹیم ہے جو سات سال پہلے انگلینڈ سے رسوا ہو کر نکل تھی۔ ماضی کے ’ولن‘ محمد عامر اوول کے ہیرو بنے اور ہیرو بھی ایسے کہ بڑے بڑوں کی زبان گنگ رہ گئی۔ جس طرح چاہا گیند کی اور جس کو چاہا پریشان کیا۔

اگر ایک گیند پر بھارتی کپتان وراٹ کوہلی کا کیچ چھوٹ گیا تو کوئی بات نہیں اگلی گیند پر انھیں آؤٹ کر لیا۔ اگر ٹورنامنٹ کے سب سے خطرناک بیٹسمین شیکھر دھون کو دوسرے میچوں میں کوئی آؤٹ نہیں کر سکا تو یہ لو انھیں میچ کے آغاز میں ہی دوسرے ڈینجر مین روہت شرما کے ساتھ آؤٹ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا کیا نہیں ہوا کل کے میچ میں۔ حسن کی فارم جاری رہی اور جنید اور شاداب کی بولنگ میں نکھار آتا رہا۔ حالات ایسے ہو گئے کہ پاکستان نے اپنے ایک ریگولر سپنر کو استعمال ہی نہیں کیا۔

لیکن اس میچ سے اگر کوئی مایوسی ہوئی تو وہ بھارتی کرکٹروں سے نہیں زیادہ تر بھارتی عوام اور سارو گنگولی کو چھوڑ کر بھارتی کرکٹ پنڈتوں سے ہوئی۔ میرے ایک پسندیدہ اداکار نے جیسے خود ہی اپنے پیر پر بلا مار دیا اور وہ بھی اتنے زور سے کہ اس کا درد ان کے پیر اور دل میں بہت عرصہ تک رہے گا۔

کل ایک اور چیز کا بھی انکشاف ہوا اور وہ یہ کہ انڈیا کا قومی کھیل ہاکی ہے۔ کیونکہ پاکستان کے میچ میں جب انڈیا ہار کی جانب گامزن تھا تو بڑے بڑے کرکٹ مداح پاکستان کی انڈیا کے ہاتھوں ہاکی میں ایک سات سے شکست کا ذکر کر رہے تھے۔

میں یہ نہیں کہوں گا کہ پاکستان کی یہ ٹیم اس کی سب سے اچھی ٹیم ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ اس ٹیم نے کرکٹ کو پاکستان میں زندہ کر دیا ہے اور مجھے کامل یقین ہے کہ یہ بین الاقوامی کرکٹ کو پاکستان لانے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی۔

میری زندگی میں دوبارہ آنے کے لیے پاکستان کرکٹ تمہارا شکریہ۔ ویلکم بیک پاکستان کرکٹ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں