انڈین کھلاڑیوں کے سیاہ پٹیاں باندھنے پر پاکستان کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption انڈین کھلاڑیوں کے بقول انھوں نے کشمیر میں ہلاک ہونے والے انڈین سپاہیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ایسا کیا تھا

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ورلڈ کپ ہاکی کوالیفائنگ راؤنڈ کے منتظمین سے انڈین کھلاڑیوں کی جانب سے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر میچ کھیلنے پر سخت احتجاج کیا ہے۔

یاد رہے کہ لندن میں جاری ورلڈ کپ ہاکی کوالیفائنگ راؤنڈ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں انڈین کھلاڑیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے گذشتہ دنوں کشمیر میں ہلاک ہونے والے انڈین سپاہیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ایسا کیا تھا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری سابق اولمپیئن شہباز احمد نے لندن سے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید سکور کو بتایا کہ انھوں نے اس سلسلے میں برطانوی ہاکی فیڈریشن کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر سیلی منڈے اور کوالیفائنگ مقابلوں کے آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ سے بات کی ہے جس پر ان دونوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھیلوں کے مقابلوں میں کسی بھی طرح کا سیاسی پیغام اجاگر نہیں کیا جاسکتا۔

شہباز احمد کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن جس طرح اپنی گرفت رکن ممالک پر مضبوط کرتی جارہی ہے اور اپنی من مانی کررہی ہے، اسے اس واقعے کا سخت نوٹس لینا چاہیے کہ انڈیا نے یہ حرکت کیوں کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ سال ایشیئن چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں انڈیا کی پاکستان کے خلاف جیت کے بعد بھارتی گول کیپر پی آر شری جیش نے اس جیت کو بھارتی فوجیوں کے نام کر دیا تھا

شہباز احمد نے کہا کہ انڈین ہاکی ٹیم نے اپنی اس حرکت سے اپنا امیج خود خراب کیا ہے اور انہوں نے دراصل یہ ایک منفی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال ایشیئن چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں انڈیا کی پاکستان کے خلاف جیت کے بعد بھارتی گول کیپر پی آر شری جیش نے اس جیت کو بھارتی فوجیوں کے نام کر دیا تھا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد انڈین صحافیوں نے بھارتی کرکٹر یوراج سنگھ سے بھی یہ سوال کیا تھا کہ انڈین کرکٹ ٹیم نے ہاکی ٹیم کی طرح بازوؤں پر پٹیاں باندھ کر میچ کیوں نہیں کھیلا لیکن یوراج سنگھ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

اسی بارے میں