پاکستان کے لیگ سپنر شاداب خان ہمیشہ سے فاسٹ بولنگ کرنا چاہتے تھے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستانی ٹیم کے نئے سٹار بالر کے گھر مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھ گیا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی کے گاؤں قمر مشیانی کے نوجوان شاداب خان ہمیشہ سے فاسٹ بولنگ کرنا چاہتا تھا لیکن آسٹریلیا کے کپتان سٹیو سمتھ سے متاثر ہو کر وہ لیگ سپنر بن گئے۔

لندن کے اوول کرکٹ گراؤنڈ میں چیمپیئنز ٹرافی کی فتح کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی منگل کو وطن واپس لوٹے ہیں۔

لندن سے واپس آنے والے کھلاڑیوں میں پاکستانی لیگ سپنر شاداب خان بھی تھے جن کا ایئرپورٹ سے گھر تک بھرپور استقبال کیا گیا۔

پاکستان کے چیمپیئنز ٹرافی جیتنے کی پانچ وجوہات

'پاکستان کرکٹ میری زندگی میں واپس آنے کا شکریہ'

ایسی شاندار کارکردگی کا نہیں سوچا تھا: شاداب خان

شاداب خان اور اسامہ میر قومی تربیتی کیمپ میں شامل

راولپنڈی کے مضافاتی علاقے الہ آباد میں رہائش پزیر شاداب خان کے گھر منگل کو صبح سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا جو انھیں مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ سیلفیاں کھنچوانا نہیں بھولتے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاداب خان نے بتایا 'میں ہمیشہ ٹیپ بال سے فاسٹ بولنگ ہی کیا کرتا تھا، کلب کے ساتھ کھیلتے ہوئے بھی فاسٹ بولنگ کی لیکن کلب کے صدر نے مجھ سے کہا کہ تم لیگ سپن کیا کرو تو میں نے شروع کردی'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب وہ سپن بولنگ کے ساتھ خوش ہیں کیونکہ انھیں اللہ نے اسی میں عزت دی ہے۔

شاداب خان انگلینڈ اور ویلز میں کھیلی جانے والی چیمپیئنز ٹرافی کے دوران جو روٹ اور یوراج سنگھ کی وکٹیں لینے پر خوش ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ گاؤں میں پڑھائی کرتے تھے لیکن پھر وہ صرف اس لیے راولپنڈی آئے تاکہ ان کے بھائی کرکٹ کھیل سکیں۔

شاداب کے بھائی تو کرکٹ نہیں کھیل سکے البتہ قسمت ان پر مہربان ہوئی اور انھوں نے پہلے کلب کی جانب سے کرکٹ کھیلی، پھر انڈر 16، اس کے بعد انڈر 19 اور وہاں بہترین کارکردگی کی بنیاد پر وہ انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلے۔

وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان سپر لیگ کے مالکان کی نظر میں آئے اور ان کی ٹیم میں منتخب ہوئے۔

یہی وہ مرحلہ تھا جب ان کی قسمت کا ستارہ چمکنا شروع ہوا اور بلاآخر انھیں پاکستانی ٹیم میں شمولیت کی خوشخبری ملی۔

شاداب خان کہتے ہیں'مجھے معلوم تھا میں ٹیم میں سلیکٹ ہونے والا ہوں کیونکہ مجھے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے بتایا تھا، اس کے علاوہ اظہر محمود نے بھی مجھے اس بات کا اشارہ دیا تھا اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی انتظامیہ نے بہت اُمید دلائی تھی۔'

پاکستان کے سابق سپنر مشتاق احمد کو اپنا استاد ماننے والے شاداب خان کبھی اپنی بولنگ کی وجہ سے مشہور نہیں تھے، اُن کی خاصیت پہلے فیلڈنگ پھر بیٹنگ اور آخر میں بولنگ تھی لیکن اب وہ بولنگ کو ہی سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔

انھوں نے اپنے آئیڈیل سٹیو سمتھ کے بارے میں بتایا کہ ’سٹیو سمتھ کو دیکھا لیکن انھیں نہیں بتایا کہ میں ان کا مداح ہوں، سوچا جب اُن کے ساتھ کھیلوں گا تو بتاؤں گا اور وہ موقع برطانیہ میں ملا۔‘

پاکستانی ٹیم میں شاداب کی سب سے زیادہ دوستی حسن علی سے ہے کیونکہ بقول شاداب کے اُن کی نفسیات ایک جیسی ہے۔

ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں کے آپس میں مذاق کے قصے سناتے ہوئے شاداب نے بتایا کہ انھیں 'شیڈی' اور حسن علی کو 'چھوٹو' پکارا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں