امریکی اتحاد نے شام میں ’ایرانی تیار کردہ‘ ڈرون طیارہ مار گرایا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے شام کے جنوب میں شام حکومت کا ایک ایسا ڈرون طیارہ مار گرایا ہے جو بظاہر ایران میں تیار کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کے جائزے کے مطابق یہ ڈرون مسلح تھا اور اس سے امریکی قیادت میں شام موجود اتحادی افواج کو خطرہ تھا۔

٭ ’امریکی اتحادی طیاروں کو ہدف تصور کیا جائے گا‘

٭ امریکہ نے شامی جنگی طیارہ مار گرایا

یہ ڈرون شام اور عراق کی سرحد کے قریب الطنف کے علاقے میں مار گرایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ بظاہر یہ واقعہ شام میں امریکہ اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔

گذشتہ روز امریکہ کی جانب سے اتوار کے روز ایک شامی طیارے کو مار گرانے کے واقعے کے بعد روس نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ امریکی طیاروں کو بطور ایک ہدف تصور کریں گے۔

امریکی قیادت میں شام میں لڑنے والے ممالک کے اتحاد کی جانب سے ایک شامی ایس یو۔ 22 طیارے نے امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں کو نشانہ بنایا تھا جو کہ شدت طسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف رقہ کے علاقے میں لڑ رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Iranian TV
Image caption خبر رساں ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے امریکی فوج کے حکان نے بتایا ہے کہ مار گرایا جانے والے ڈرون طیارے کا ماڈل شہید۔129 تھا جس کی نمائش 2012 میں ایران نے کی تھی۔
Image caption یہ ڈرون شام اور عراق کی سرحد کے قریب الطنف کے علاقے میں مار گرایا گیا ہے۔

ڈرون طیارے کو مار گرانے کے حالیہ واقعے کے بارے امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون پیر اور منگل کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق ساڑھے بارہ بجے مار گرایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے امریکی فوج کے حکان نے بتایا ہے کہ مار گرایا جانے والے ڈرون طیارے کا ماڈل شہید۔129 تھا جس کی نمائش 2012 میں ایران نے کی تھی۔

ایرانی حکام نے اس وقت اس کی رینج دو ہزار کلومیٹر بتائی تھی اور کہا تھا کہ یہ ڈرون مختلف ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ادھر دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ ماہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے سینیئر رہنما ترکی البنالی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ترکی البنالی کی ہلاکت کی تصدیق دولتِ اسلامیہ کے ذرائع سے بھی کی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں