نائٹ کرکٹ پر صرف مردوں کی اجارہ داری نہیں

Image caption زیادہ تر لڑکیوں کے والدین میں سے کوئی نہ کوئی اُن کے ساتھ میدان میں موجود تھا

پاکستان میں رمضان کے مہینے میں نائٹ کرکٹ کی روایت تو اب کافی پرانی ہو چکی ہے اور عام تاثر یہی ہے کہ اُس میں صرف مرد ہی حصہ لیتے ہیں لیکن راولپنڈی کے وقار النساء کالج کے گراؤنڈ میں یہ سب باتیں خاصی بےمعنی اور پرانی معلوم ہوئیں۔

رات کے گیارہ بجے تھے اور نوجوان لڑکیاں میدان میں انٹر ڈسٹرکٹ کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ سے قبل ورزش کرتی نظر آئیں۔

زیادہ تر لڑکیوں کے والدین میں سے کوئی نہ کوئی اُن کے ساتھ میدان میں موجود تھا جبکہ کئی لڑکیوں کے گھر والے اُنھیں اس ہدایت کے ساتھ چھوڑ کر چلے گئے تھے کہ 'جلدی کھیل ختم کر کے کال کر دینا لینے آجائیں گے۔'

اِنھی لڑکیوں میں دو بہنیں کرن اور کنزا بھی تھیں۔ دونوں 12ویں جماعت کی طالبہ ہیں اور حریف ٹیموں کی جانب سے کھیلتی ہیں۔ کس کی ٹیم بہتر ہے؟ اِس پر گھر میں کبھی کبھار لڑائی ہو جاتی ہے لیکن جب بات آتی ہے کرکٹ کٹ کے لیے والدین سے پیسے مانگنے کی تو پھر ایکا ہو جاتا ہے۔

کنزا نے بتایا 'پہلے تو پاپا کی خوشامد اور پھر ضد سے کام نکالتے ہیں۔ کبھی کبھار جیب خرچ سے چیزیں خریدنی پڑتی ہیں، ہمیں عید کے کپڑوں سے زیادہ کرکٹ کی چیزیں خریدنا اچھا لگتا ہے۔'

ایک سوال کے جواب میں کرن نے بتایا 'جب کبھی تربیت کے دوران دیر ہو جاتی ہے تو والدین سے چھوٹا موٹا جھوٹ بولنا پڑتا ہے کہ پڑھ رہے تھے کالج میں لیکن وہ ہمارے والدین ہیں اُنہیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہم پڑھ نہیں رہے۔'

اسی دوران میچ شروع ہو گیا اور آرمی پبلک سکول میں 11ویں جماعت کی طالبہ فجر نوید دو تین چوکے لگانے کے بعد رن آؤٹ ہو کر واپس آگئیں۔

جب اُن سے کارکردگی کا راز معلوم کیا تو بولیں 'میں ابھی پاکستان انڈر 17 کے کیمپ میں تھی تو اِس لیے فارم میں ہوں۔'

فجر سمجھتی ہیں کہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ کرکٹ کھیلنا مشکل کام ہے اور کبھی ایک چیز اور کبھی دوسری متاثر ہوتی ہے لیکن والدین کی مدد سے یہ مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں۔

اُنھیں بورڈ کے امتحانات کی وجہ سے ایک انتہائی اہم ٹورنامنٹ چھوڑ دینے کا افسوس تھا اور کہنا تھا کہ اگر وہ اُس ٹورنامنٹ میں شرکت کر لیتیں تو وہ اِس وقت کافی آگے ہوتیں۔

اپنی باری کی منتظر سٹینڈ میں بیٹھی شہلا بی بی اپنی ساتھی فجر کے آؤٹ ہونے پر مایوس نظر آئیں لیکن مستقل اپنی ٹیم کی دیگر ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کیے جا رہی تھیں۔

شہلا واہ کینٹ کے ایک گاؤں پوڑ میانہ سے تعلق رکھتی ہیں اور دو گھنٹے کا سفر کر کے ٹورنامنٹ کھیلنے آئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کرکٹ کھیلنے کے لیے امی سے کبھی جھوٹ بولنا پڑتا ہے کیونکہ وہ ڈانٹتی ہیں کہ یہ کیا شکل بنائی ہوئی ہے۔ رنگ کالا ہوجائے گا اور یہ کیا لڑکوں والا کھیل کھیل رہی ہو؟'

شہلا نے بتایا کہ اُن کے بھائی بھی کرکٹ کھیلتے ہیں اِس لیے ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق یہاں تحفظ کا احساس ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور کالج کی ذمہ داری ہے ورنہ وہ شاید کبھی موجودہ حالات میں اتنی دور کرکٹ کھیلنے نہیں آتیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ وہ پریکٹس کے دوران پرانی کٹس استعمال کرتی ہیں بصورت دیگر پی سی بی یا پھر سپانسرز کرکٹ کٹ کی چیزیں دے دیتے ہیں۔

بات چیت کے دوران وہ قومی ٹیم میں اپنے انتخاب کے بارے میں مایوس لگیں۔ شہلا نے بتایا کہ وہ پانچ چھ سال سے ریجنل کرکٹ کھیل رہی ہیں اور اگر اب تک منتخب نہیں ہوئیں تو پھر پتا نہیں آئندہ کبھی وہ سلیکٹ ہو پائیں گی یا نہیں۔

Image caption لڑکیاں کرکٹ کا شوق صرف ٹی وی سکرینز پر میچ دیکھ کر نہیں بلکہ گراؤنڈ میں اتر کر اور خود کھیل کر پورا کر رہی ہیں

اس سوال پر کہ اِس کے باوجود وہ کیوں کرکٹ کھیل رہی ہیں شہلا بولیں 'صرف اس لیے کھیل رہی ہوں کہ کرکٹ میری اپنی خوشی اور پہلی ترجیح ہے۔'

پاکستان کے مردوں کی کرکٹ ٹیم کے چیمپیئنز ٹرافی جیتنے اور 24 جون سے خواتین کے کرکٹ ورلڈ کپ کے انعقاد سے نوجوان لڑکیوں میں کرکٹ کھیلنے کا شوق بڑھا ہے اور وہ اب یہ شوق صرف ٹی وی سکرینز پر میچ دیکھ کر نہیں بلکہ گراؤنڈ میں اتر کر اور خود کھیل کر پورا کر رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات