’ابھی کوہلی کا وقت ہے، انہیں انجوائے کرنے دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کمبلے نے کہا کہ کوہلی کو ان کے کوچنگ اسٹائل پر 'اعتراض' تھا

انیل کمبلے نے ایک سال بعد بھارت کے چیف کوچ کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ کپتان وراٹ کوہلی کے ساتھ ان کی پارٹنرشِپ آگے نہیں چل سکتی تھی۔

کمبلے نے کہا کہ کوہلی کو ان کے کوچنگ سٹائل پر 'اعتراض' تھا۔

انیل کمبلے نے کپتان سے اختلافات اور اپنے استعفیٰ کا اعلان ٹوئٹر پر کیا۔

کمبلے مستعفی،'کوہلی اور میری شراکت نہیں چل سکتی'

وراٹ کوہلی کی کوچ انیل کمبلے سے'ناراضی' حقیقت ہے یا فسانہ؟

'پاکستان کرکٹ میری زندگی میں واپس آنے کا شکریہ'

'کیونکہ سرفراز کو یقین تھا'

سابق کپتان سنیل گواسکر اور بشن سنگھ بیدی نے ان کی حمایت کی اور کہا کہ گزشتہ ایک سال میں ان کا ریکارڈ زبردست ہے، اس دوران بھارت نے 17 ٹیسٹ میچ کھیلے، 12 جیتے اور صرف ایک ہارا۔

لوگوں کو کمبلے سے ہمدردی ہو رہی ہے۔

کوچ اور کپتان کے درمیان کشیدگی کی باتیں تو چیمپئنز ٹرافی سے پہلے سے چل رہی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کمبلے سخت نظم و ضبط میں یقین رکھتے ہیں جو کچھ کھلاڑیوں کو ناگوار گزر رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان سے ہار کے بعد کوہلی نے جس سپورٹسمین شپ کا مظاہرہ کیا اس سے لوگ انکے مداح ہوگئے

دونوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ جو بھی رہی ہو اس پورے معاملے میں کوچ اور کپتان کے لوگوں کے سامنے تیور مختلف رہے ہیں۔

کمبلے نے اپنے باہمی جھگڑے کو عام کرتے ہوئے ٹویٹس میں صاف لکھا کہ 'ان کے سٹائل سے ٹیم انڈیا کے کپتان خوش نہیں'

دوسری طرف کوہلی نے 4 جون کو چیمپئنز ٹرافی میں بھارت اور پاکستان کے گروپ میچ سے پہلے کمبلے کے ساتھ اختلافات کی خبروں کو مسترد کر دیا تھا۔

اس پورے معاملے میں کوہلی نے کوئی بھی ایسا بیان نہیں دیا جس سے غیر ذمہ داری جھلکتی ہو۔

انہیں معلوم ہے کہ کہاں کیا کہنا چاہیے اور کہاں خاموش رہنا چاہیے لیکن ایسا انل کمبلے کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔

چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں شکست کے بعد کی تقریر نے کوہلی نے کئی پاکستانی کھلاڑیوں اور شائقین کو اپنا مداح بنا لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وراٹ کوہلی نے کبھی ان اختلافات کو لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں کیا

مجھے لگتا ہے کہ وہ بھارت اور دنیا بھر کی نوجوان نسل کے لیے ایک اچھا رول ماڈل بننا چاہتے ہیں. ان کی میدان میں کارکردگی کو جتنا سراہا گیا ہے، شاید اتنا آف-فیلڈ کارکردگی کو نہیں سراہا گیا۔

انڈین کرکٹ کی تاریخ میں کوچ اور کپتان کے جھگڑے کئی بار ہو چکے ہیں۔ گریگ چیپل اور سورو گنگولی کے درمیان اختلافات کے بارے میں بھی کافی لکھا جا چکا ہے۔

بھارتی کرکٹ میں کپتان کا مقام اہم ہوتا ہے۔ منصور علی خان پٹودی، اجیت واڈیکر، اظہر الدین، سورو گنگولی اور مہندر سنگھ دھونی جیسے بڑے بڑے کھلاڑی کپتان رہ چکے ہیں۔

سب جانتے ہیں کہ کپتان کی کی بات کو اہم تسلیم کی جاتا ہے اور اگر کپتان اچھا لیڈر ہونے کے ساتھ اچھا کھلاڑی بھی ہو تو اس کی بات زیادہ مانی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کمبلے نے اس باہمی جھگڑے کو عام کیا

کپتان اور کوچ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ایک بار آسٹریلیا کے سابق کوچ جان بکانن نے کہا تھا کہ 'کوچ اور کپتان کا رشتہ اعتماد اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے اور یہ کوئی زندگی بھر کا معاہدہ نہیں ہے لیکن ٹیم کے اندر اور باہر اتحاد کا ایک 'عوامی' مظاہرہ ہونا چاہیے'۔

لگتا ہے کمبلے نے اس توازن کو کھو دیا لہذا استعفیٰ دے کر اچھا کیا۔

صرف اعتراض اس پر ہے کہ انہیں کوہلی کے ساتھ اپنے اختلافات کو عام نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے اپنے دور میں خوب نام کمایا، ان کا نام ملک کی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے اچھے بولروں کی فہرست میں شامل ہے۔

لیکن کمبلے جی اب آپ کا وقت نہیں رہا، اب وقت ہے وراٹ کوہلی کا، اب وقت ہے دنیا کے اول نمبر کے بیٹسمین کوہلی کا۔

وہ ابھی صرف 28 سال کے ہیں، کپتان اور کھلاڑی کی حیثیت سے اب ان کے انجوائے کرنے کا وقت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں