مجھے لڑکوں کے ساتھ ہی پریکٹس کرنا پڑتی تھی: ناہیدہ خان

ناہیدہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی افریقہ کے خلاف ناہیدہ خان نے 101 گیندوں پر 79 رنز نو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بنائے

پاکستان کی اوپنر بی بی ناہیدہ خان اچکزئی کسی بھی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ انفرادی سکور بنانے والی پہلی پاکستانی خاتون کھلاڑی بن گیں ہیں۔ یہ اعزاز انھیں انگلیڈ اور ویلز میں جاری خواتین کے عالمی کپ کے دوران جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی ٹیم کے پہلے میچ کے دوران حاصل ہوا۔

دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والی اوپنر ناہیدہ خان نے 101 گیندوں پر 79 رنز نو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ایسے وقت بنائے جب پاکستان کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گر رہی تھیں۔ اس سے پہلے ان کا سب سے زیادہ سکور آئرلینڈ کے خلاف 72 تھا۔

اگرچہ ورلڈ کپ میں پاکستان اپنا پہلا میچ جنوبی افریقہ سے تین وکٹوں سے ہار گیا۔ اس میچ میں ناہیدہ خان کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 207 رنز کا ہدف دیا تھا۔ اس ہدف کے تعاقب میں ایک موقع پر جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی اور بظاہر یوں محسوس ہورہا تھا کہ پاکستان یہ میچ جیت جائے گا۔

ناہیدہ خان صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی پہلی پاکستانی خاتون کھلاڑی ہیں جو بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہی ہیں۔ انھوں نے بین اقوامی سطح پر پہلا ون ڈے سنہ 2009 میں سری لنکا کے خلاف بوگرہ میں کھیلا۔

ناہیدہ اس پاکستانی ٹیم کے سکواڈ کا حصہ بھی تھیں جس نے 2010 میں چین میں منعقدہ ایشائی گیمنز میں طلائی تمغہ جیتا۔ مڈل آرڈر میں کھیلنے والی ناہیدہ آج پاکستان کے لیے اوپننگ کرتی ہیں۔ انھوں نے اب تک 33 ون ڈے انٹرنشینل میچز میں 546 رنز بنایے ہیں جبکہ 29 ٹی 20 میچز میں 226 رنز بنا چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ناہیدہ خان صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی پہلی پاکستانی خاتون کھلاڑی ہیں

بی بی سی سے بات چیت میں ناہیدہ کا کہنا تھا کہ 'میں نے نویں اور آٹھویں نمبر پر بھی کھیلا ہے۔ کھبی کھبی دل برداشتہ بھی ہو جاتی تھی مگر میں نے ہمت کھبی نہیں ہاری اور یہی وجہ ہے کہ آج یہاں تک پہنچی ہوں۔'

ناہیدہ خان کو بچپن سے ہی کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا۔ ناہیدہ خان بتاتی ہیں کہ 'جب آنکھ کھولی تو کرکٹ دیکھنا شروع کیا۔ بچپن میں بھایئوں کے ساتھ کھیلتی تھی۔ کوئٹہ کے گلی محلے میں کرکٹ کھیلنے والی واحد لڑکی تھی ۔ اسی لیے لوگ نہ صرف حیران ہوتے تھے بلکہ تنقید بھی کرتے تھے کہ لڑکی ہو کر باہر لڑکوں کے ساتھ لڑکوں والا کھیل یعنی کرکٹ کھیل رہی ہے۔'

انھوں نے مزید بتایا کہ 'جب جوان ہوئی تو گھر سے باہر نکلنا ہی مشکل ہو گیا۔ لیکن جب 2007 میں سکول میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹرائلز ہوئے تو میں نے حصہ لیا اور میں سلیکٹ ہوگئی۔'

اس حوالے سے درپیش مشکلات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ 'صرف باہر کے لوگ ہی نہیں بلکہ میرے خاندان والوں نے بھی طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ بہت مشکلات کھڑی کیں۔ وہ کہتے تھے یہ لڑکی ہو کر کیسے گھر سے باہر نکل سکتی ہے وہ بھی کرکٹ کھیلنے۔ یہ ہماری عزت اور رسم و رواج کے خلاف ہے۔ ایسی لڑکی سے تو کوئی شادی بھی نہیں کرے گا مگر میرے والد نے میرا بہت ساتھ دیا۔ میرا شوق پورا کرنے کے لیے وہ سب کے خلاف کھڑے ہو گیے۔ ان کے بغیر میرا یہ خواب کھبی پورا نہ ہوتا۔'

ناہیدہ کے والد کا دو ماہ پہلے ہی انتقال ہوگیا ہے جس کے بارے میں بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔

پاکستان میں لڑکیوں کے کرکٹ کھیلنے کا رجحان اب بڑھ رہا ہے مگر سہولیات ہمیشہ سے ناکافی رہی ہیں ۔ ناہیدہ خان کو بھی کرکٹ میں بہتری کے لیے سہولیات کی کمی کا سامنا رہا۔ وہ کہتی ہیں کہ 'کوئٹہ میں ایک ہی کرکٹ گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے مجھے لڑکوں کے ساتھ ہی پریکٹس کرنا پڑتی تھی جسے لوگ برا سمجھتے تھے اور میرے لیے مزید مشکلات پیدا ہو جاتی تھیں۔'

ناہیدہ خان کے 11 بہن بھائی ہیں۔ انھوں نے سپورٹس سائنسز میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ جب انھوں نے بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کھیلنا شروع کیا تو وہ کسی کو بتانے سے بھی ڈرتی تهیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ 'میں اپنی کرکٹ کٹ کے ساتھ رکشے پر کرکٹ گراؤنڈ جا رہی تھی تو ڈرائیور نے پوچھا کیا میں کرکٹ کهیلنے جا رہی ہوں؟ تو میں نے آہستہ سے کہا جی۔ جس پر وہ کہنے لگا ہمارے علاقے کی ایک لڑکی ناہیدہ انٹرنشنل کرکٹ کھیلتی ہے آپ اسے جانتی ہیں ؟ میں نے کہا ہاں سنا ہے میں نے اس کے بارے میں۔ اتنا ڈرتی تھی کہ اسے بتا بھی نہیں سکی کہ وہ میں ہی ہوں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں