نانگا پربت پر لاپتہ ہوئے دو کوہ پیماؤں کی تلاش کا کام 12 ویں روز بھی جاری

نانگا پربت تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع نانگا پربت کو سر کرنے کے دوران لاپتہ ہوجانے والے دو غیر ملکی کوہ پیماؤں کی تلاش بارہویں روز بھی جاری رہی۔

نانگا پربت سر کرنے کے لیے غیر ملکیوں کی تیرہ رکنی ٹیم نے اپنے سفر کا آغاز 14 جون کو کیا تھا۔ ٹیم کے باقی 11 افراد واپس بیس کیمپ پہنچ چکے ہیں۔ تاہم سپین کے البیرٹو زیرائن اور ارجنٹائن کے ماریانو گلاکین اس دوران لا پتہ ہو گئے۔

تلاش جاری

پاکستان میں کوہ پیمائی سے متعلق تنظیم 'الپائن کلب' کے ترجمان کرار حیدری نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کے روز بھی ان کی تلاش کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تلاش میں بڑی رکاوٹ موسم کی خرابی ہے ۔

انھوں نے مزید کہا کہ موسم ٹھیک ہوتے ہی وہ 11 کوہ پیما جو موسم خراب ہونے کے باعث نیچے بیس کیمپ پر واپس آ گئے تھے وہ دوبارہ اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GB Police

انھوں نے مزید بتایا 'بدھ کے روز دو کوہ پیماؤں کی تلاش میں بھیجا جانے والا ہیلی کاپٹر خرابی موسم ہی کے باعث واپس بلا لیا گیا تھا۔ آج اس سلسلے میں ہیلی کاپٹرز کی مدد نہیں لی جا سکی۔'

کرار حیدری کے مطابق 'گمشدہ کوہ پیما سات ہزار میٹر کی بلندی سے لا پتہ ہوئے ہیں جن کی تلاش میں ہیلی بھیجا جائے گا تاہم خراب موسم میں کھانے کے بغیر کوہ پیماؤں کا زندہ رہنا انتہائی مشکل ہے۔'

کرار حیدری کے مطابق '2005 میں سلووینیا کے کوہ پیما ہومر بھی نانگا پربت کی چوٹی سر کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان کو چھ دن بعد چھ ہزار میٹر کی بلندی پر تلاش کر لیا گیا تھا۔ تاہم اس بار کوہ پیما سات ہزار میٹر کی بلندی سے لا پتہ ہوئے ہیں۔'

گلگلت بلتستان میں سمٹ قراقرم نامی ٹریکنگ کمپنی کے ترجمان محمد اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ 'گمشدہ غیر ملکی کوہ پیماؤں نے دیامیر کی جانب سے چوٹی سر کرنے کا انتخاب کیا تھا۔ اس راستے میں بھی ایک خطرناک مرحلہ آتا ہے جسے 'مازینو ریچ' کہتے ہیں دونوں کوہ پیما اسی مقام ہی سے لاپتہ ہوئے ہیں۔'

کوہ پیماؤں کی ٹیمیں

تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive

کرار حیدری نے بی بی سی کو بتایا اس وقت پاکستان کے تین پہاڑی سلسلے ہندو کش، قراقرم اور ہمالیہ میں لگ بھگ 40 کوہ پیماؤں کی ٹیمیں یہ بلندیاں سر کرنے کے لیے موجود ہیں جنہیں این اور سی جاری کیا گیا ہے۔ 'ہر ٹیم میں سات سے آٹھ کوہ پیما ہوتے ہیں۔ گمشدہ کوہ پیما بھی انھیں ایکسپیڈیشنز کی ایک ٹیم کا حصہ تھے۔'

نانگا پربت دنیا کی نویں بڑی چوٹی ہے ۔ جو 8126 میٹر بلند ہے۔ اس کے خطرناک راستوں کی وجہ سے اسے کلر "ماؤنٹین" یا "خونی چوٹی" کہا جاتا ہے ۔

گلگلت بلتستان میں سمٹ قراقرم نامی ٹریکنگ کمپنی کے ترجمان محمد اقبال کے مطابق نانگا پربت کی تایخ میں مازینو ریچ اب تک ایک ہی کوہ پیما نے سر کی ہے۔ لا پتہ ہونے والے کوہ پیما بھی اس لسٹ میں اپنا نام شامل کرنے کے خواہش مند تھے۔

انہوں نے بتایا کہ سمٹ قراقرم کی ٹیم ریسکیو کے ماہرین افراد کے ساتھ مل کر تلاش کی ہر ممکن کوششیس جاری رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں