ہاکی: ’اس طرح ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنا باوقار نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یاد رہے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم نے گذشتہ دنوں لندن میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں دس ٹیموں میں ساتویں پوزیشن حاصل کی تھی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق پاکستانی ہاکی ٹیم کا آئندہ سال بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنا یقنی ہوگیا ہے لیکن پاکستان کے سابق ہاکی اولمپئنز کا یہ کہنا ہے کہ کوالیفائی کرنے کا یہ باوقار انداز نہیں ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم نے گذشتہ دنوں لندن میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں دس ٹیموں میں ساتویں پوزیشن حاصل کی تھی۔

اس ٹورنامنٹ سے پانچ ٹیموں نے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنا تھا تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پین امریکن مقابلے میں ارجنٹائن یا کینیڈا کی کامیابی کی صورت میں ایک جگہ خالی ہوگی جبکہ لندن میں چھٹی پوزیشن حاصل کرنے والا بھارت ورلڈ کپ کے میزبان کی حیثیت سے کھیلے گا لہٰذا ساتویں نمبر پر آنے والے پاکستان کا ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنا یقینی ہو گیا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری اور اپنے دور کے مایہ ناز کھلاڑی شہباز احمد نے نامہ نگار رشید شکور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لندن کے کوالیفائنگ مقابلے میں پاکستانی ٹیم نے جس مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے ورلڈ کپ کے کوالیفائی کرنے کے اس انداز کو کسی طور بھی باوقار نہیں کہا جاسکتا۔

شہباز احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ٹیم سلیکشن میں کبھی مداخلت نہیں کی اور ٹیم منیجمنٹ کو ہمیشہ فری ہینڈ دیا ہے تاہم موجودہ نتائج کی بنیاد پر منیجر حنیف خان اور کوچ خواجہ جنید کی تبدیلی کا فیصلہ صورتحال کے تفصیلی جائزے کے بعد کیا جائے گا اور اگر کھیل کے مفاد میں یہ تبدیلی ضروری ہوئی تو یہ ضرور کی جائے گی۔

شہباز احمد نے کہا کہ اگر سینئر کھلاڑیوں میں سے جس نے بھی اپنی فٹنس ثابت کردی اسے دوبارہ ٹیم میں شامل کرنے پر انھیں کوئی اعتراض نہیں لیکن انھی سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی میں بھی ٹیم ہارتی رہی ہے لہٰذا مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے نوجوان کھلاڑی ٹیم میں شامل کیے گئے۔

سابق اولمپئن اصلاح الدین نے سان فرانسسکو سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے جس انداز سے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے جیسا کہ فیڈریشن کہہ رہی ہے تو سچی بات یہ ہے کہ یہ کوالیفائی اپنی کارکردگی کے بل پر نہیں بلکہ دوسروں کے سہارے کے بل پر ہے۔

اصلاح الدین نے کہا کہ ماضی میں پاکستانی ٹیم صرف جیتنے کے لیے میدان میں اترتی تھی لیکن اب صرف یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ عالمی کپ میں کوالیفائی کرلیا جائے اور سب سے بڑی بات یہ کہ پاکستانی ٹیم نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ کسی بھی طور پاکستانی ہاکی کی روایت کے شایان شان نہیں تھی۔

1978 میں عالمی کپ چیمپئنز ٹرافی اور ایشین گیمز جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی ذمہ دار ٹیم منیجمنٹ ہے کیونکہ فیڈریشن نے یقیناً اسے تمام تر وسائل اور اختیارات دیے ہونگے لہٰذا اس مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم منیجمنٹ کو فوری طور پر ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور فیڈریشن کو بھی یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ شکست کے ذمہ دار کسی دوسرے کا کندھا استعمال کرکے خود بچنے کی کوشش نہ کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں