باڈی بلڈنگ کرنے والی انڈین لڑکی نے ورلڈ چیمپئن شپ جیت لی

بھومکا شرما تصویر کے کاپی رائٹ BHUMIKA
Image caption دہرادون کی رہنے والی بھومکا گذشتہ تین سالوں سے باڈی بلڈنگ کی مشق کر رہی تھیں

اٹلی کے شہر وینس میں منعقد ہونے والی ورلڈ باڈی بلڈنگ چیمپیئن شپ میں انڈيا سے تعلق رکھنے والی لڑکی بھومکا شرما نے مس ​​ورلڈ کا خطاب جیتا ہے۔

اس مقابلے کا اہتمام گذشتہ ہفتے کیا گیا تھا۔ اس سے قبل مس انڈیا باڈی بلڈنگ چیمپیئن شپ میں بھومکا شرما دوسرے مقام پر رہی تھیں۔

دہرادون کی رہنے والی بھومکا گذشتہ تین سالوں سے باڈی بلڈنگ کی مشق کر رہی تھیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں باڈی بلڈنگ کرنے کی ترغیب ان کی ماں سے ملی تھی جو خود بھی ایک ایتھلیٹ رہ چکی ہیں۔ وہ اپنی کامیابی کا سارا کریڈٹ اپنے خاندان کو دیتی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ خواتین میں باڈی بلڈنگ کا سپورٹ اتنا عام نہیں ہے تو ایسی صورت میں معاشرے کی جانب سے ہونے والی تنقید کا سامنا انھوں نے کس طرح سے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BHUMIKA
Image caption بھومکا اپنی ماں کے ساتھ، ان کی ماں بھی ایک ایتھلٹ تھیں

اس کے جواب میں بھومکا نے کہا کہ 'یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں مردوں کا زیادہ غلبہ ہے۔ ہمارا معاشرہ خواتین کو باڈی بلڈنگ کرتے قبول نہیں کرتا۔ جب میں نے تربیت شروع کی، تو لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے۔ لیکن جب میرے مسلز بن گئے، تو انھوں نے میرا مذاق بنانا چھوڑ دیا۔'

غور طلب ہے کہ اٹلی میں ہونے والی اس چیمپئن شپ میں بھارت کی نمائندگی کرنے والی وہ اکیلی خاتون تھیں۔ اس مقابلے میں پوری دنیا سے کل 500 مردوں اور 50 خواتین نے حصہ لیا تھا۔

اپنے زمرے میں بھومکا نے دنیا بھر سے آنے والی 50 خواتین کو شکست دے کر یہ خطاب جیتا ہے۔ اس چیمپیئن شپ میں انھیں باڈی پوژنگ کے سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل ہوئے۔

اس طرح کے مقابلوں میں پہنے جانے والے لباس سے متعلق جب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ انھیں اس کے لیے بکینی پہننا پڑتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ شروع میں انھیں بکینی پہننے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی تھی لیکن انھوں نے پورے اعتماد سے اس کا بھی سامنا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BHUMIKA
Image caption اپنے زمرے میں بھومکا نے دنیا بھر سے آنے والی 50 خواتین کو شکست دے کر یہ خطاب جیتا ہے

بھومکا بتاتی ہیں کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے انھیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کھانا پینا کافی مختلف اور ذرا مشکل تھا۔ وہ ہر دو گھنٹے میں پروٹین سے بھرپور خوراک لیتی تھیں اور روزانہ دوڑ لگاتی تھیں۔

مس ورلڈ چیمپئن کے خطاب کے بعد اب وہ مس یونیورس کے مقابلے کی تیاری میں لگ گئی ہیں جو اسی سال دسمبر میں ہونے والا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں