فٹبال کے میدانوں سے کرکٹ کی ’جونٹی رہوڈز‘ تک

ڈائنا بیگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈائنا نے سمریتی مندہنہ کو آوٹ کر کے ون ڈے میچز میں اپنی پہلی وکٹ حاصل کی

انگلینڈ میں جاری آئی سی سی ورلڈ کپ میں پاکستان کو انڈیا کے ہاتھوں 95 رنز سے شکست تو ہوئی مگر اس میچ نے پاکستان کو ڈائنا بیگ کی صورت میں ایسا کھلاڑی دیا ہے جس کی شاندار بولنگ اور فیلڈنگ سے کرکٹ کے ماہرین بہت متاثر ہوئے ہیں اور سب کا یہی سوال ہے کہ ڈائنا کو ٹورنامنٹ میں پہلے کیوں موقع نہیں دیا گیا۔

ٹورنامنٹ میں انڈیا کے خلاف ڈائنا بیگ کو کائنات امتیاز کی جگہ کھلایا گیا اور انھوں نے اپنے دوسرے ہی اوور میں سمریتی مندہنہ کی قیمتی وکٹ حاصل کی۔

پاکستان کو انڈیا کے ہاتھوں 95 رنز سے شکست

’لڑکوں کے ساتھ ہی پریکٹس کرنا پڑتی تھی‘

میچ کے دوران انڈین کپتان متالی راج کیا پڑھ رہی تھیں؟

میچ کے بعد بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ڈائنا نے کہا 'میں نے میچ سے پہلے سمریتی کی بیٹنگ کی کافی ویڈیوز دیکھیں جس کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ان سوِئنگ پر کمزور ہیں، اس لیے میں نے سوچا کہ میں ان کو وہیں کھلاؤں جہاں وہ پھنستی ہیں۔

میں نے اپنا پلان فالو کیا اور اسی لیے مجھے وکٹ مل گئی۔ یہ وکٹ لے کر مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ یہ میرے ون ڈے کریئر کی پہلی وکٹ ہے۔'

انڈیا کے خلاف میچ میں ڈائنا نے 10 اوورز کے شاندار سپیل میں تین میڈن اوورز کرائے جبکہ مجموعی طور پر 28 رنز دیے۔ میدان میں انھوں نے انڈین وکٹ کیپر سشما ورما کا کیچ تو ڈارپ کیا مگر اپنی شاندار کوشش پر سب سے داد وصول کی اور تین گیندوں بعد ہی جب ورما کا کیچ دوبارہ آیا تو اس مرتبہ انھوں نے بڑی خوبصورتی سے اسے دبوچ لیا۔

21 سالہ ڈائنا بیگ کا کہنا ہے 'مجھے فیلڈنگ کا بہت شوق ہے۔ میں کافی ایتھلیٹک ہوں اور اس ورلڈ کپ کے لیے میں نے فیلڈنگ پر خصوصی توجہ دی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈائنا کی عمدہ فیلڈنگ کی وجہ سے انہیں لڑکیوں کا جونٹی رہوڈز بھی کہا جاتا ہے

ان کا کہنا ہے کہ 'میرے کالج میں سر ہمیشہ مجھے لڑکیوں کا جونٹی رہوڈز کہتے تھے۔'

ڈائنا نے بتایا کہ 'میں نے ڈائیو لگانا جنوبی افریقہ کے جونٹی رہوڈز سے سیکھا۔ میں ان سے بہت متاثر ہوں۔ میں ان کی ویڈیوز دیکھتی ہوں تاکہ اپنی کارگردگی بہتر کر سکوں۔ میں دائیں طرف اچھی ڈائیو کرتی ہوں مگر بائیں جانب کام کرنے کی ضرورت ہے۔'

ڈائنا پانچ تاریخ کو لیسٹر میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے کے لیے پرجوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اگلے میچ میں اس سے بھی بہتر کارگردگی دکھانے کی کوشش کریں گی۔

ڈائنا ماضی میں پاکستان کے لیے انٹرنیشنل فٹ بال کھیل چکی ہیں وہ فٹبال کے میدان میں ڈیفینڈر کی حیثیت سے اپنے جوہر دکھاتی تھیں۔ تاہم اب وہ کرکٹ پر پوری توجہ دینا چاہتی ہیں اس لیے تقریباً ایک سال سے انھوں نے فٹبال نہیں کھیلی۔

ڈائنا کو 16 برس کی عمر میں ڈومیسٹک کرکٹ میں پہلی بار موقع ملا تھا جبکہ پاکستان اور انڈیا کا مقابلہ کسی بھی ورلڈ کپ میں ڈائنا کا پہلا اور ان کے انٹرنیشنل کریئر کا تیسرا ون ڈے میچ تھا۔ اس سے پہلے وہ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے جبکہ ایک ٹی ٹوئنٹی میچ بھی کھیل چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈائنا پاکستان کی خواتین کی فٹبال ٹیم میں بھی کھیلتی رہی ہیں لیکن فی الحال ان کی توجہ کرکٹ پر مرکوز ہے

پاکستان اور انڈیا کا میچ دیکھنے کے لیے تقریباً ڈھائی ہزار لوگ ڈاربی آئے تھے اور ڈائنا کے لیے یہ تعداد حیران کن تھی۔

انھوں نے کہا 'کراؤڈ بہت اچھا تھا اور دونوں ٹیموں کو سپورٹ کر رہا تھا۔ شروع میں تھوڑا عجیب لگا کیوں کہ اتنے لوگ خواتین کا میچ دیکھنے نہیں آتے لیکن پھر میں نے اپنی گیم پر توجہ دی تاکہ میں اچھا کھیل سکوں۔'

ڈائنا کا تعلق پاکستان کے شمال میں وادی ہنزہ سے ہے۔ ان کی تین بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ ان کے والد کانٹریکٹر ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 'میرے والدین تعلیم یافتہ نہیں اس لیے وہ اپنے بچوں کی پڑھائی پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ میں لاہور کالج میں بی ایس کے دوسرے سمیسٹر میں ہوں۔ میں کالج میں ہی کرکٹ کی پریکٹس بھی کرتی ہوں اور اپنے گھر والوں سے سال میں ایک مرتبہ ملتی ہوں۔ مجھے لاہور میں رہتے ہوئے تین برس گزر چکے ہیں۔'

اپنے ماضی کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا 'میری امی کو میرا کرکٹ کھیلنا بالکل پسند نہیں تھا لیکن میرے والد ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ میں کرکٹ کے میدان میں کچھ کر دکھاؤں۔'

ان کے مطابق 'میرا علاقہ قدرے پسماندہ ہے۔ وہاں لڑکیوں کا گھر سے باہر نکلنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ میرے گھر والوں کو یہی کہتے تھے کہ آپ اپنی لڑکی کو اس طرح گھر سے باہر اکیلے کیسے بھیج سکتے ہیں۔ لیکن میرے والد کبھی ان کے دباؤ کا شکار نہیں ہوئے۔ آج میری گیم دیکھ کر یقیناً میرے والد بہت خوش ہوئے ہوں گے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں