دنیا کے امیر ترین کھلاڑی

میسی کی تنخواہ 52 ملئین اور اشتہارات سے وہ 27 ملئین ڈالر کماتے ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میسی کی تنخواہ 52 ملین اور اشتہارات سے وہ 27 ملین ڈالر کماتے ہیں

کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب

یہ وہ کہاوت ہے جو عموماً بچپن سے والدین اپنی اولاد کے کانوں میں ڈالتے آئے ہیں۔ 70 یا 80 کی دہائی تک تو اس کہاوت میں شاید کوئی صداقت ہو لیکن پیپسی اور میلینئیل جنیریشن نے اس کہاوت کو خطرناک طور پر غلط ثابت کردیا۔

کھیلوں میں عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور ایڈورٹائزنگ یعنی اشتہارات کی دنیا میں سپورٹس سٹارز کی مانگ اور ان کے مداحوں کی تعداد میں اضافہ وہ چند وجوہات ہیں جنھوں نے کھیلوں میں آمدنی کی شرح کو حیرت انگیز طور پر بدل دیا ہے۔

ایسا نہیں کہ 80 اور 90 کے دور میں کھلاڑیوں کی آمدنی کم تھی، ان کی آمدنی تب بھی خاصی زیادہ تھی۔ لیکن صرف انفرادی سپورٹس میں جیسا کہ باکسنگ، گالف، فارمولا ون اور ٹینس وغیرہ۔

لیکن 90 کی دہائی میں اس ٹرینڈ میں تبدیلی آئی اور ٹیم سپورٹس کھیلنے والے کھلاڑیوں کی آمدنی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ کچھ ناقدین اسے سوشل میڈیا بوم سے جوڑتے ہیں جس نے ایڈورٹائزنگ کی دنیا کو دس سال کے اندر مکمل بدل دیا، تو کچھ مداحوں کے رویے میں تبدیلی کو اس کی وجہ بتاتے ہیں۔

اصل وجوہات کے لیے شاید ایک تحقیق کرنا پڑے۔ لیکن اس سال کے دس امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں صرف تین ایسے کھلاڑی ہیں جو کہ انفرادی کھیل کھیلتے ہیں۔ باقی سات کھلاڑیوں کا تعلق ٹیم سپورٹس سے ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ انفرادی کھیل کھیلنے والے کھلاڑی پہلے امیرترین کھلاڑیوں میں شامل نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption اس سال کے دس امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں صرف تین ایسے کھلاڑئ ہیں جو کہ انفرادی کھیل کھیلتے ہیں۔ باقی سات کھلاڑیوں کا تعلق ٹیم سپورٹس سے ہے۔

پہلے نمبر پر دنیا کے امیر ترین فٹبال کلب ریال میڈرڈ کی طرف سے کھیلنے والے سٹار فٹبالر رونالڈو ہیں۔ 2016 میں اپنی ٹیم کو چیمپیئنز لیگ جتوانے اور فیفا بلون ڈی اور کا اعزاز حاصل کرنے والے رونالڈو کی سالانہ آمدنی 93 ملین ڈالر ہے۔ 32 سالہ رونالڈو کو ریال میڈرڈ کی طرف سے 58 ملین ڈالر تنخواہ ملتی ہے (جو کہ یورپ میں سب سے زیادہ ہے) اور 35 ملین ڈالر وہ اشتہارات سے کماتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹینس کی مقبولیت میں اضافے اور عام لوگوں میں اس کھیل کی پہچان بنانے میں راجر فیڈرر کا بڑآ ہاتھ ہے

دوسرے نمبر پر این بی اے سٹار لی بران جیمز ہیں۔ ان کی آمدنی 86.2 ملین ڈالر ہے۔ باسکٹ بال ٹیم کلیو لینڈ کیویلیئرز سے کھیلنے والے لی بران جیمز باسکٹ بال کی تاریخ میں تیسرے ایسے کھلاڑی ہیں جنھیں 30 ملین ڈالر سے زیادہ معاوضہ ملتا ہے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز باسکٹ بال لیجینڈ مائیکل جورڈن اور کوبے برائنٹ کے پاس تھا۔ جیمز کی تنخواہ 31.2 ملین ڈالر ہے اور اشتہارات سے ان کی آمدنی 55 ملئین ڈالر ہوتی ہے۔

تیسرے نمبر پر بارسلونا کلب کے سٹار کھلاڑی اور رونالڈو کے حریف لائنل میسی ہیں جن کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔ میسی کی کل آمدنی 80 ملین ڈالر ہے جس میں سے ان کی تنخواہ 52 ملین اور اشتہارات سے وہ 27 ملین ڈالر کماتے ہیں۔

چوتھے نمبر پر انفرادی کھیل کھیلنے والے ٹینس لیجینڈ راجر فیڈرر ہیں، لیکن پہلے تین کھلاڑیوں سے اگر آمدنی میں ان کا موازنہ کیا جائے تو ان کے مقابلے میں لگ بھگ 30 ملین پیچھے ہیں۔ فیڈرر کی کل آمدنی 64 ملین ڈالر ہے، جس میں ٹینس سے وہ صرف چھ ملین ہے اور اشتہارات سے وہ 58 ملین کماتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فیڈرر بیس سال سے ٹینس کھیل رہے ہیں اور اس کھیل کی مقبولیت میں اضافے اور عام لوگوں میں اس کھیل کی پہچان بنانے میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔ جیسا کہ گالف میں ٹائیگر وڈز۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لیبران جیمز باسکٹ بال کی تاریخ میں تیسرے ایسے کھلاڑی ہیں جنھیں 30 ملین ڈالر سے زیادہ معاوضہ ملتا ہے

پانچویں نمبر پر باسکٹ بال کھلاڑی کیون ڈیورینٹ ہیں، ان کی آمدنی 60.6 ملین ہے، اس میں ان کی تنخواہ 26.6 ملین جبکہ اشتہارات سے ان کی آمدنی 34 ملین ہوتی ہے۔

چھٹے نمبر پر این ایف ایل سٹار اینڈریو لک ہیں۔ امریکن فٹبال کھیلنے والے اینڈریو لک کی آمدنی 50 ملین ڈالر ہے جس میں سے ان کی تنخواہ 47 ملین اور اشتہارات سے وہ تین ملین کماتے ہیں۔

ساتویں نمبر پر باسکٹ بال کھلاڑی سٹیفن کری ہیں جن کی آمدنی 47 ملین ہے، آٹھویں پر بھی باسکٹ بال کھلاڑی ہیں۔

ستائیس سالہ جیمز ہارڈن کی آمدنی 46.7 ملین ہے جبکہ نویں نمبر پر برطانیہ سے تعلق رکھنے والے فارمولہ ون سٹار لوئیس ہیملٹن ہیں جو کہ 46 ملین کماتے ہیں۔ دسویں اور آخری نمبر پر این ایف ایل سٹار ڈریو بریز ہیں جن کی آمدنی 45.3 ملین ڈالر ہے۔