آسٹریلیا کے خلاف بازی ہاتھ میں آ کر نکل گئی

ثنا میر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کپتان ثنا میر نے ایک بار پھر عمدہ بیٹنگ کی اور 45 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہیں

انگلینڈ میں جاری ویمن ورلڈ کپ میں آسٹریلیا نے اپنے چوتهے میچ میں پاکستان کو 159 رنز سے شکست دے دی ہے جس کے بعد وہ اپنے اب تک کے چاروں میچوں میں فاتح قرار پایا جبکہ پاکستانی ٹیم کو اب تک چاروں میچوں میں شکست کا سامنا رہا ہے۔

پاکستان کے خلاف فتح کے بعد پلئیر آف دا میچ کا اعزاز آسٹریلوی کهلازی الیسے ویلانی کو ملا جنھوں نے چار چهکوں کی مدد سے 40 گیندوں پر 59 رنزبنائے جبکہ پاکستانی ٹیم میں کپتان ثنا میر تین وکٹیں اور 85 گیندوں پر 45 رنز بنا کر نمایاں رہیں۔

میچ کے بعد ثنا میر کا کہنا تها: 'ہماری بولنگ میں کسی حد تک بہتری آ رہی ہے مگر بیٹرز کی کارکردگی پر توجہ دینا کی ضرورت ہے۔ مس فیلڈنگ کی وجہ سے ہم الیسے ویلانی کو چار رنز پر آؤٹ کرنے میں ناکام رہے جو ہمیں بہت مہنگا پڑا۔ بڑے میچوں میں اس طرح کی مس فیلڈنگ بہت بهاری ثابت ہوتی ہے۔ ہمارے ابهی تین میچ باقی ہیں اس لیے ہم کوشش کریں گے کہ اچهی کارکردگی پیش کریں تاکہ ٹورنمنٹ کا اختتام مثبت انداز سے ہو۔'

میچ کے شروع کے دس اوروں تک پاکستان کا پلڑا کسی قدر بهاری تها جب 28 رنز پر آسٹرلیا کی دو وکٹیں گر چکی تهیں۔ ایک وکٹ ڈائینا بیگ نے جبکہ ایک اسماویہ نے حاصل کی۔ مگر تیسری وکٹ گرنے کے بعد الیسے ویلانی اور الیسے پیری کی پارٹنرشپ 291 کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کرنے میں مددگار ثابت ہوئی۔

اس سلسلے میں کپتان ثنا میر کا کہنا تها: 'ہم نے شروع میں آسٹریلیا کی وکٹیں حاصل تو کیں مگر آسٹریلیا کی مڈل آرڈر کهلاڑیوں نے اچهی بیٹنگ کی۔ جبکہ میچ کے دوران ہم سے کیچ چھوٹے اور ہمارے آخری اووروں میں ضرورت سے زیادہ رنز پڑے جس کی وجہ سے بازی ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔'

سات نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والی ثنا میر نے بهارت اور آسٹریلیا دونوں کے خلاف کسی حد تک لڑکهڑاتی ہوئی پاکستانی بیٹنگ کو سہارا دیا تو وہ اس ٹورنمنٹ میں ٹاپ آرڈر میں بیٹنگ کیوں نہیں کر رہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسٹریلیا نے پاکستان کو کھیل کے ہر شعبے میں آؤٹ پرفارم کیا

اس سوال کے جواب میں ثنا میر نے کہا: 'یہ ہماری انتظامیہ کا فیصلہ ہے اور ظاہر ہے ہم اس پرغور کریں گے کہ ہماری ٹیم کے لیے کیا بہتر ہے۔ لیکن ہماری بہت سے ایسی کھلاڑی ہیں جو صرف بیٹرز ہیں تو ہم ان کی بہتر کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں ان پر پورا اعتماد ہے۔ '

آسٹریلیا کی کپتان لیننگ میگ کندهے کی چوٹ کی وجہ سے میچ نہیں کهیل سکیں۔ ان کی جگہ کپتانی کے فرائض ہینز ریچل نے انجام دیے۔ ریچل کا کہنا تها: 'شروع میں ہماری بیٹنگ اتنی اچهی نہیں تهی میں بهی جلد آوٹ ہو گئی، پاکستانی بولروں نے اچھا کھیل پیش کیا مگر ہمارے باقی آنے والی بیٹرز نے اچهی کرکٹ کهیلی اور ہماری بولروں نے بہترین کارگرگی دکهائی۔ ہم انگلینڈ کے خلاف اپنا اگلا میچ کهیلنے کے لیے بهرپور طریقے سے تیار ہیں۔'

آٹھ جولائی کو پاکستان اگلا میچ ٹانٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف کهیل رہا ہے۔ جس کے بعد پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کےمدمقابل ہو گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں