’ڈر کے مارے بتا نہ سکی میں ناہیدہ ہوں‘

ناہیدہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ناہیدہ بدامنی کے شکار شہر کوئٹہ سے تعلق رکهنے والی پہلی پاکستانی خاتون کهلاڑی ہیں جو بین الاقوامی کرکٹ کهیل رہی ہیں

پاکستان کی اوپنر بی بی ناہیدہ اچکزائی کسی بهی ورلڈ کپ ٹورنمنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی پاکستانی خاتون کهلاڑی بن گئی ہیں۔

یہ اعزاز انھیں انگلیڈ اور ویلز میں جاری خواتین کے ون ڈے انٹرنیشنل ورلڈ کپ کے دوران جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی ٹیم کے پہلے میچ کے دوران حاصل ہوا۔

سیدھے ہاتھے سے بلےبازی کرنے والی ناہیدہ نے 101 گیندوں پر 76 رنز نو چوکوں اور ایک چهکے کی مدر سے ایسے وقت بنائے جب پاکستان کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گر رہی تهیں۔

اس سے پہلے ان کا سب سے زیادہ سکور آئرلینڈ کے خلاف 72 تها۔ گو ورلڈ کپ میں پاکستان اپنا پہلا میچ جنوبی افریقہ سے تین وکٹوں سے ہار گیا مگر اگر ناہیدہ جمی نہ رہتیں تو پاکستان 207 کا ٹارکٹ کبهی نہ دے پاتا جسے حاصل کرنے میں آخری لمحات میں جنوبی افریقہ کی ٹیم لڑکھڑا گئی تھی اور ایک وقت ایسا معلوم ہو رہا تها جیسے پاکستان میچ جیت جائے گا۔

ناہیدہ بدامنی کے شکار شہر کوئٹہ سے تعلق رکهنے والی پہلی پاکستانی خاتون کهلاڑی ہیں جو بین الاقوامی کرکٹ کهیل رہی ہیں۔ انھوں نے بین اقوامی سطح پر پہلا ون ڈے 2009 میں سری لنکا کے خلاف بوگرہ میں کهیلا۔ ناہیدہ اس پاکستانی ٹیم کے سکواڈ کا حصہ بهی تهیں جس نے 2010 میں چین میں منعقدہ ایشائی گیمز میں گولڈ میڈل جیتا۔ مڈل آرڈر میں کهیلنے والی ناہیدہ محنت کے بل بوتے پر آج پاکستان کے لیے میچ اوپن کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ناہیدہ نے جنوبی افریقہ کے خلاف 101 گیندوں پر 76 رنز بنائے جب پاکستان کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گر رہی تهیں

اس سلسلے میں بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں ناہیدہ کا کہنا تها 'میں نے نویں اور آٹھویں نمبر پر بهی بیٹنگ کی ہے۔ کبهی کبهی دل برداشتہ بهی ہو جاتی تهی مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور یہی وجہ ہے کہ آج یہاں تک پہنچی ہوں۔'

ناہیدہ کو بچپن سے ہی کرکٹ کهیلنے کا شوق تها۔ 'جب آنکھ کهولی تو کرکٹ دیکهنا شروع کیا۔ پچپن میں بهائیوں کے ساتھ کهیلتی تهی۔ کوئٹہ کے گلی محلے میں کرکٹ کهیلنے والی میں واحد لڑکی تهی ۔ اسی لیے لوگ نہ صرف حیران ہوتے تهے بلکہ تنقید بهی کرتے تهے کہ لڑکی ہو کر باہر لڑکوں کے ساتھ لڑکوں والا کهیل یعنی کرکٹ کهیل رہی ہے۔'

انھوں نے مزید بتایا: ' جب جوان ہوئی تو گهر سے باہر نکلنا ہی مشکل ہو گیا۔ لیکن جب 2007 میں سکول میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹرائلز ہوئے تو میں نے حصہ لیا اور میں سلکیٹ ہو گئی۔'

اس کے بعد معاشرے نے ناہیدہ کے لے مزید مشکلات پیدا کر دیں۔ انھوں نے کہا: صرف باہر کے لوگ ہی نہیں بلکہ میرے خاندان والوں نے بهی طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ بہت مشکلات کهڑی کیں۔ وہ کہتے تهے یہ لڑکی ہو کر کیسے گهر سے باہر نکل سکتی ہے وہ بهی کرکٹ کهیلنے۔ یہ ہماری عزت اور رسم و رواج کے خلاف ہے۔ ایسی لڑکی سے تو کوئی شادی بهی نہیں کرے گا مگر میرے والد نے میرا بہت ساتھ دیا۔ میرا شوق پورا کرنے کے لیے وہ سب کے خلاف کهڑے ہو گئے۔ ان کے بغیر میرا یہ خواب کبهی پورا نہ ہوتا۔'

ناہیدہ کے والد کا دو ماہ پہلے ہی انتقال ہو گیا ہے جس کے بارے میں بتاتے ہویے ان کی انکهوں میں آنسو آ گئے۔

پاکستان میں لڑکیوں کے کرکٹ کهیلنے کا رجحان اب بڑھ رہا ہے مگر سہولیات ہمیشہ سے ناکافی ہیں۔ ناہیدہ کو بهی کرکٹ میں بہتری کے لیے سہولیات کی کمی کا سامنا رہا۔ وہ کہتی ہیں: 'کوئٹہ میں ایک ہی کرکٹ گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے مجهے لڑکوں کے ساتھ ہی پریکٹس کرنا پڑتی تهی جسے لوگ برا سمجهتے تهے اور میرے لیے مزید مشکلات پیدا ہو جاتی تهیں۔'

ناہیدہ کے 11 بہن بهائی ہیں۔ انھوں نے سپورٹس سائنسز میں ماسٹرز کر رکها ہے۔ جب انھوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کهیلنی شروع کی تو وہ کسی کو بتانے سے بهی ڈرتی تهیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا: 'میں اپنی کرکٹ کٹ کے ساته رکشے پر کرکٹ گراؤنڈ جا رہی تهی تو ڈرائیور نے پوچها کیا میں کرکٹ کهیلنے جا رہی ہوں؟' تو میں نے آہستہ سے کہا 'جی۔' جس پر وہ کہنے لگا کہ 'ہمارے علاقے کی ایک لڑکی ناہیدہ انٹرنیشنل کرکٹ کهیلتی ہے، آپ اسے جانتی ہیں؟' میں نے کہا: 'ہاں سنا ہے میں نے اس کے بارے میں۔' اتنا ڈرتی تهی کہ اسے بتانا بهی نہیں سکی کہ وہ میں وہی ہوں۔'