’کرکٹ ہی میرا پہلا پیار ہے‘

ثنا میر تصویر کے کاپی رائٹ ICC Women World Cup
Image caption ثنا میر خواتین کی کرکٹ کی دنیا میں ایسی 29ویں کهلاڑی ہیں جنھوں نے ایک سو ون ڈے میچز کهیلے

پاکستانی ٹیم کی کپتان ثنا میر پاکستان کی ویمن کرکٹ کی تاریخ کی پہلی کهلاڑی بن گئی ہیں جنھیں ایک سو ایک روزہ میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

انھوں نے اپنا سواں ایک روزہ میچ ٹوئٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا ہے۔

اس موقعے پر بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں ثنا میر کا کہنا تھا کہ 'جب کرکٹ کھیلنا شروع کیا تو سال میں صرف چار انٹرنیشنل میچ کهیلنے کو ملتے تهے۔ اس لیے کبهی سوچ بهی نہیں سکتی تهی کہ یہاں تک پہنچ جاؤں گی۔ لیکن اب جب ورلڈ کپ کهیلنے یہاں آ رہی تهی تو اندازە تها کہ ایک سنگ میل حاصل کرنے جا رہی ہوں۔ جن مشکلات اور وسائل کی کمی سے پاکستان کی ویمن کرکٹ دوچار رہی اس کے بعد یە لمحہ میرے لیے قابل فخر ہے۔‘

ثنا میر کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستانی خواتین کھلاڑیوں کو آج بھی جو سہولیات مل رہی ہیں وہ ٹیلنٹ دکھانے کے بعد ملی ہیں جبکہ باقی ملکوں میں پہلے کهلاڑیوں پر محنت کی جاتی ہے اور پهر نتائج کی توقع کی جاتی ہے۔

’بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تب تک کهلاڑیوں کی بہتری کے لیے پیسے نہیں خرچ کیے جاتے جب تک وە اچهے نتائج نہ لے کر آئیں۔‘

ثنا میر خواتین کی کرکٹ کی دنیا میں ایسی 29ویں کهلاڑی ہیں جنھوں نے ایک سو ون ڈے میچز کهیلے۔ سپنر ثنا میر بولروں کی آئی سی سی کی عالمی درجہ بندی میں آٹهویں نمبر پر ہیں۔

ثنا نے کرکٹ کا آغاز دو ہزار پانچ میں 19 برس کی عمر میں کیا۔ اس وقت لڑکیاں ملکی یا ڈومیسٹک کرکٹ میں بهی نہ ہونے کے برابر تهیں۔ اس وقت ثنا کراچی میں ڈیفینس کالج میں ایف ایس سی کی طالبہ تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کرکٹ نے مجهے لڑکیوں کے بارے میں لوگوں کی رائے بدلنے کا موقع فراہم کیا۔ کسی کو یقین نہیں تها کە لڑکیاں کرکٹ کهیل سکتی ہیں اور اپنے آپ کو منوا سکتی ہیں۔'

ثنا میر نے اب تک اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کریئر میں 17 کی اوسط سے 1306 رنز بنائے ہیں اور ان کا بہترین سکور 52 رنز ہے جبکہ وہ 109 وکٹیں حاصل کر چکی ہیں۔ ان کی بہترین بولنگ وہ تھی جب انھوں نے 32 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

کپتان کے طور پر ثنا میر ویمن کرکٹ میں عالمی سطح پر سب سے زیادە میچ کهیلنے والی پانچویں کهلاڑی ہیں۔ ان کی کپتانی میں پاکستان نے کل 69 میچ کھیلے ہیں جن میں سے 26 جیتے اور 42 ہارے۔

کرکٹ کیوں؟

31 سالە ثنا میر کے والد ریٹائرڈ کرنل ہیں۔ لاہور میں مقیم ثنا میر نے 2015 میں گریجویشن کی اور کرکٹ کهیلنے کے لیے انھیں گهر والوں کی جانب سے بھرپور مدد حاصل رہی۔

ثنا میر کے بقول انھیں ریاضی اور سائنس دونوں مضمون بہت پسند تهے اور ورزش وغیرہ کا بھی شوق تھا۔

’کرکٹ ایسا کهیل ہے جو ان سب چیزوں کو اکهٹا کر دیتا ہے۔ ہر وقت کیکولیشنز (حساب کتاب) کرنی پڑتی ہے، جسمانی طور پر فٹ رہنا ہوتا ہے اور سائنٹیفک (سائنسی) اس لیے ہے کہ اپنا بولنگ ایکشن سمجهنا، فالو تهروز کو دیکهنا، فلائیٹ تهرو کرنی ہے یا نہیں کرنی اور کرکٹ ان تمام چیزوں پر مبنی کھیل ہے۔‘

کرکٹ کی ابتدا کے بارے میں بات کرتے ہوئے ثنا میر کا کہنا تھا کہ وہ جب آٹهویں جماعت میں تهیں تو انھوں نے خود ہی سکول کی لڑکیوں کو جمع کر ایک ٹیم بنا لی تھی۔

’پهر ایک میچ رکها اور خود ہی آپس میں انعام تقسیم کیے۔ پچپن میں بهائی کے ساتھ گلیوں میں کرکٹ کهیلتی تهی مگر اٹهویں جماعت سے ایف ایس سی تک یعنی چار سال میں کرکٹ نہیں کهیلی کیونکە سکول یا کالج کی سطح پر کوئی مواقع ہی نہیں تھے۔‘

پاکستان میں ویمن کرکٹ

ثنا میر کا کہنا تھا کہ جب انھیں 2009 میں کپتان بنایا گیا تو ان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے دو مرتبہ ایشیائی کھیلوں کے مقابلوں میں سونا کا تمغہ جیتا۔

ان کے بقول اس وقت پاکستان میں لڑکیوں کے کرکٹ کهیلنے کا کلچر بالکل نہیں تها اور کسی کو یقین ہی نہیں تها کہ لڑکیاں بهی کرکٹ میں اپنا لوہا منوا سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ICC Women World Cup

’تب ہم نے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا، ویسٹ انڈیز کو ہرایا لیکن اصل معنوں میں ٹرننگ پوائنٹ تب آیا جب ہم نے 2010 میں ایشیائی گیمز میں سونے کا تمغہ جیتا کیونکہ آٹھ سال میں پاکستان کسی بهی ایشیائی گیم میں سونے کا تمغہ حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا اور اس وقت لڑکوں کی پاکستانی ٹیم سپاٹ فکسنگ کی وجہ سے خبروں میں تهی اس لیے کرکٹ پر قوم کا اعتماد بحال کرنے میں ہمارے سونے کے تمغے نے اہم کردار ادا کیا۔‘

ثنا میر کے مطابق اس کے بعد سے ویمن کرکٹ کو کسی حد تک توجہ ملنا شروع ہوئی لیکن اب بهی ویمن کرکٹرز کو اتنے وسائل درکار نہیں جن کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ خواتین کی ٹیم سے غیر حقیقی امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں۔

’سب سے پہلی بات یە کی جاتی ہے کہ لڑکے نہیں جیت رہے تو لڑکیاں ہی جیت جائیں۔ لیکن یہ کوئی نہیں سمجهتا کہ لڑکوں کی کرکٹ پر توجہ پچهلے ساٹھ سال سے دی جا رہی ہے جبکہ لڑکیوں کی کرکٹ کا جو چهوٹا موٹا سٹرکچر شروع ہوا ہے وە حقیقی معنوں میں 2005 سے شروع ہوا ہے، جبکہ دوسرے ملکوں کی کھلاڑیوں کی تربیت کس طرح ہوتی ہے اس پر دھیان نہیں دیا جاتا۔‘

ثنا میر کا کہنا تھا کہ ہر وقت مثبت سوچ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور ’کبهی کبهی میں اتنی دل برداشتہ ہو جاتی ہوں کہ اس ورلڈ کپ میں آنے سے پہلے بهی تین، چار مرتبہ کرکٹ چهوڑنے کا فیصلہ کیا لیکن ساتهی کهلاڑی، والدین اور قریبی دوست حوصلہ بڑھاتے ہیں اور یە یاد دلاتے ہیں کە ویمن کرکٹ کو ہم کہاں سے کہاں لے آئے ہیں، اس لیے ہمت نہ چھوڑیں۔‘

پہلی انٹرنیشنل وکٹ

بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی پہلی وکٹ کے حوالے سے ثنا میر نے بتایا کہ کہ میرا پہلا میچ سری لنکا کے ساتھ تها جس میں میں نے بیٹنگ تو اچهی کی مگر کوئی وکٹ نہ لے سکی۔ لیکن اگلا میچ انڈیا کے ساتھ تها اور میں نے اللە سے دعا کی کہ میرے کرئیر کی پہلی وکٹ انڈیا کی موجودە کپتان متهالی راج کی ہو اور میں اسے بولڈ کروں کیونکہ سب اسے بہترین کھلاڑی مانتے ہیں۔ میں نے اپنے پہلے ہی اوور میں متهالی کو بولڈ کر دیا۔ اللە نے میری دعا سن لی۔ میرے لیے وە وە لمحه ہمیشہ یادگار رہے گا۔'

انھوں نے ماضی کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'مجهے جب پی سی بی سے تیس ہزار کا پہلا چیک ملا تو مجهے اتنی حیرت ہوئی اور میں پی سی بی پر ہنس رہی تهی کہ کتنے پاگل ہیں۔ ایک تو ان کی وجہ سے میرے اتنے نئے دوست بن گئے اور وہ اس پر مجھے میرا شوق پورا کرنے کے پیسے بھی دے رہے ہیں۔ 15 سالوں میں مجهے ایک لڑکی نہیں ملتی تهی جو میرے ساتھ کرکٹ کهیلے۔‘

تاہم ثنا میر کے بقول اب وہ اور ان کی ساتھی پروفیشنل کھلاڑی بن چکے ہیں اور اب ’ہم پی سی بی سے پیسے بڑهانے اور ویمن کرکٹ پر زیادە توجہ دینے کی بهی بات کرتے ہیں کیونکہ اب سمجھ آگئی ہے کہ اچهی کارگردگی کے لیے کهلاڑیوں میں انویسٹ کرنا کتنی ضروری ہے۔‘

ثنا میر نے بتایا کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد ایک ماە کی چهُٹی پر جا رہی ہیں تا کہ وہ اپنے مستقبل کے اہم فیصلے کر سکیں۔

’میں کرکٹ چهوڑنے کے بعد بهی کوشش کروں گی کہ کسی نہ کسی صورت میں کرکٹ کے ساتھ جُڑی رہوں کیونکہ کرکٹ میرا پہلا پیار ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں