پاکستان آنے والے فٹبالر کون

رونالڈینو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں دو نمائشی فٹبال میچ کھیلنے کے لیے آنے والے بین الاقوامی سطح پر شہرت کے حامل ہیں تاہم اب یہ آٹھوں فٹبالر بین الاقوامی فٹبال کو خیرباد کہہ چکے ہیں اور ان میں سے چند کوچنگ سے وابستہ ہیں۔

رونالڈینو (برازیل)

37 سالہ رونالڈینو کا شمار اپنے دور کے بہترین فٹبالروں میں ہوتا رہا ہے۔ انھیں گیند پر کنٹرول حریف کھلاڑیوں کو چکمہ دینے میں کمال مہارت حاصل تھی۔ وہ مشکل زاویوں سے گول کرنے اور ساتھی کھلاڑیوں کو گول کرانے میں مدد دینے میں بھی شہرت رکھتے تھے۔

انھوں نے بارسلونا کو ایک ہی سیزن میں چیمپیئنز لیگ اور لا لیگا جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

رونالڈینو نے 1999 سے 2013 تک 97 انٹرنیشنل میچوں میں برازیل کی نمائندگی کرتے ہوئے 33 گول کیے۔

وہ 2002 کا عالمی کپ جیتنے والی برازیل کی ٹیم کا حصہ تھے۔

وہ دوبار فیفا کے بہترین فٹبالر کا ایوارڈ بھی جیت چکے ہیں۔

رائن گگز (برطانیہ)

43 سالہ رائن گگز کا تعلق ویلز سے ہے ۔نھوں نے جب مانچسٹر یونائٹڈ کی طرف سے اپنے پروفیشنل کریئر کی ابتدا کی تو ان کی عمر صرف 17 سال تھی۔ مانچسٹر یونائٹڈ سے ان کی 29 سالہ طویل وابستگی رہی ہے اس دوران انھوں نے اس کلب کی طرف سے 672 میچ کھیلے جن میں ان کے گول کی تعداد 114ہے ۔

وہ 2014 میں ڈیوڈ موئز کی برطرفی کے بعد مانچسٹر یونائٹڈ کے عبوری مینیجر بھی مقرر کیے گئے۔

گگز نے ویلز اور برطانیہ کی طرف سے 68 میچوں میں حصہ لیتے ہوئے تیرہ گول کیے۔

رابرٹو کارلوس (برازیل)

44 سالہ رابرٹو کارلوس اپنے کریئر میں دفاعی کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلے لیکن دنیا انھیں ان کی تیز رفتار فری کک کی وجہ سے جانتی ہے۔

کارلوس کی فری کک کی رفتار 169 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

2002 میں برازیل کی جس ٹیم نے عالمی کپ جیتا اس میں رابرٹو کارلوس شامل تھے۔

وہ ریال میڈرڈ کی تاریخ کے کامیاب ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رابرٹو کارلوس

وہ دو سال قبل انڈین فٹبال لیگ میں دہلی کی طرف سے آخری بار کھیلے جس کے بعد نھوں نے دہلی کی ٹیم کے مینیجر کی ذمہ داری بھی نبھائی۔

نکولس اینلکا (فرانس)

38 سالہ نکولس اینلکا نے اپنے 12 سالہ بین الاقوامی کریئر میں فرانس کی طرف سے 69 میچوں میں 14 گول کیے۔

انھوں نے اپنے کریئر میں آرسنل، ریال میڈرڈ، چیلیسی اور مانچسٹر سٹی جیسی مشہور ٹیموں کی نمائندگی کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رائن گگز

کھلاڑی کی حیثیت سے کریئر ختم کرنے کے بعد وہ کوچنگ سے وابستہ ہو گئے۔

لوئس بوآ مورٹے (پرتگال)

39 سالہ مورٹے نے ونگر اور مڈفیلڈر کی طرف سے 28 میچوں میں پرتگال کی نمائندگی کی جن میں وہ صرف ایک گول کر پائے۔

نھوں نے کلب فٹبال میں متعدد ٹیموں کی طرف سے حصہ لیا جن میں سب سے زیادہ میچ وہ فلہم کی طرف سے کھیلے۔

وہ 2006 کا عالمی کپ کھیلنے والی پرتگال کی ٹیم میں بھی شامل تھے جو سیمی فائنل تک پہنچی تھی۔

ڈیوڈ جیمز (انگلینڈ)

46 سالہ ڈیوڈ جیمز انگلینڈ کے سابق گول کیپر ہیں جنھوں نے 13 سالہ کریئر میں 53 میچوں میں انگلینڈ کی نمائندگی کی۔

وہ 2010 کا عالمی کپ کھیل کر دنیا کے سب سےعمر رسیدہ گول کیپر بھی بن گئے اس وقت ان کی عمر 39 سال تھی۔

ڈیوڈ جیمز نے چار سال قبل ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے کے بعد بھارتی فٹبال لیگ کھیلنے والی کیرالہ بلاسٹرز میں کھلاڑی اور مینیجر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کر لی۔ اس ٹیم کے مالک سچن تندولکر ہیں۔

رابرٹ پیرز (فرانس)

43سالہ رابرٹ پیرز نے اپنے کریئر میں ونگر اور مڈ فیلڈر کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

وہ 1998 کا عالمی کپ اور 2000 میں یورو چیمپیئن شپ جیتنے والی فرانسیسی ٹیم میں شامل تھے۔

پیرز نے چھ سیزن میں آرسنل کی نمائندگی کی اور 84 گول کیے۔

جارج بوٹینگ (ہالینڈ)

41 سالہ جارج بوٹینگ گھانا میں پیدا ہوئے تاہم انھوں نے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے ہالینڈ کا انتخاب کیا ۔ مڈ فیلڈر کی حیثیت سے انھوں نے ہالینڈ کی طرف سے صرف چار میچ کھیلے تاہم ان کے کلب میچوں کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے۔ انھوں نے زیادہ تر میچ مڈلسبرا اور ایسٹن ولا کی طرف سے کھیلے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے بھی دوسرے کئی کھلاڑیوں کی طرح کوچنگ کا رخ کیا اور ملائشین لیگ میں ٹیکنیکل ڈائریکٹر مقرر کر دیے گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں