رونالڈینو کو دیکھنے کی خواہش پوری ہوگئی

برازیل کے فٹ بالر رونالڈینو سمیت سات غیرملکی فٹبالرز نے ہفتے کی شب کراچی کے ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم میں نمائشی میچ کھیلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ میچ رونالڈینو سیون اور رائن گگز سیون کے درمیان کھیلا گیا جو رونالڈینو کی ٹیم نے جیتا۔

میچ سے قبل لیزر لائٹس کا خوبصورت شو بھی پیش کیا گیا۔

* پاکستان آنے والے فٹبالر کون

* رونالڈینو اور دیگر سٹار فٹبالرز پاکستان پہنچ گئے

اس سلسلے کا دوسرا میچ اتوار کو لاہور کے فورٹریس اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

یہ سات فٹبالرز ان میچوں میں حصہ لینے کے لیے خصوصی طور پر پاکستان آئے ہوئے ہیں۔

پروگرام کے مطابق آٹھ فٹبالرز نے پاکستان آنا تھا لیکن برازیل کے رابرٹو کارلوس ذاتی وجوہ کی بنا پر دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ پاکستان نہیں پہنچ سکے۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق کراچی کے ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم میں جسے اب ممتاز سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے یہ میچ دیکھنے کے لیے شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو میچ شروع ہونے سے بہت پہلے ہی اسٹیڈیم پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔

کراچی کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی شائقین اسٹیڈیم پہنچے تھے۔

نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محمد یعقوب نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے والدین کے منع کرنے کے باوجود کراچی آئے ہیں اور میچ دیکھ کر رات ہی کو نواب شاہ واپس روانہ ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’رونالڈینو کو دیکھنے کی خواہش پوری ہوگئی ہے۔‘

میچ دیکھنے کے لیے آنے والے کئی بچوں اور نوجوانوں نے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے ناموں والی شرٹس پہن رکھی تھیں۔

لیاری سے تعلق رکھنے والے متعدد شائقین اپنے ساتھ برازیل کا پرچم بھی لائے تھے۔

واضح رہے کہ لیاری برازیلین کھلاڑیوں سے والہانہ محبت کی وجہ سے لٹل برازیل کے نام سے مشہور ہے۔

ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم منتظمین کے تمام تر دعوے کے باوجود پوری طرح شائقین سے بھر نہ سکا جس کا سبب مہنگے ٹکٹ تھے۔

میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر بدنظمی اپنے عروج پر رہی۔ میدان میں جانے والے گیٹ کے سامنے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد مسلسل موجود رہی اور منتظمین تمام تر کوشش کے باوجود وہ جگہ خالی نہ کراسکے۔ مہمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اسٹیڈیم کے اندر ہی صوفے بچھاکر بٹھایا گیا تھا جس کی وجہ سے بھی خاصی بدنظمی رہی اسی طرح پریس گیلری میں بھی غیرمتعلقہ افراد براجمان تھے جس کی وجہ سے صحافیوں کو اپنے فرائض انجام دہی میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا کے معاملات دیکھنے والی ایونٹ منیجمنٹ کمپنی کا کوئی بھی فرد پورے میچ کے دوران پریس گیلری میں نظر نہیں آیا۔

اس میچ میں سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داری پاکستان آرمی نے سنبھال رکھی تھی۔ ہاکی کلب آف اسٹیڈیم اور اس سے متصل تمام علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور فوجی جوان آنے والے ہر شخص کی تلاشی کے بعد اسے اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے رہے تھے۔

اسی بارے میں